اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا سے ممکنہ علیحدگی کی صورت میں البرٹا کے مالی مستقبل سے متعلق ایک نئی رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صوبہ اگر مستقبل میں ایک خودمختار ملک بننے کا فیصلہ کرتا ہے تو نیا ملک قائم کرنے کے لیے تقریباً 5 ارب ڈالر کے یک وقتی اخراجات درکار ہوں گے، جبکہ آزاد البرٹا ہر سال 22.2 ارب سے 32.1 ارب ڈالر تک بجٹ سرپلس حاصل کرسکتا ہے۔
آزادی کا مالی منصوبہ
البرٹا ٹرانزیشن کونسل نے آزاد البرٹا کے ممکنہ مالی ڈھانچے، اخراجات اور آمدنی سے متعلق اپنا بجٹ اور لاگت کا منصوبہ جاری کیا ہے۔
رپورٹ کے مرکزی مصنف ڈینس کالما کے مطابق البرٹا کے پاس ایک خودمختار ملک کے طور پر کام کرنے کے لیے درکار مالی وسائل موجود ہوسکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سالانہ 22 ارب سے 32 ارب ڈالر تک اضافی رقم دستیاب ہونے کی صورت میں اسے ٹیکسوں میں کمی، قرضوں کی ادائیگی، مالی ذخائر بڑھانے، سرکاری خدمات اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
چھوٹا ملک، کم اخراجات؟
یہ بھی پڑھیں :البرٹا ریفرنڈم: ووٹ ڈالنے کے لیے 1400 سے زائد پولنگ اسٹیشن قائم، 5 لاکھ سے زیادہ درخواستیں
کالما کے مطابق کینیڈا ایک بڑا انتظامی ڈھانچہ رکھتا ہے اور ایک نسبتاً چھوٹا ملک بعض معاملات میں زیادہ سادہ اور کم پیچیدہ انتظامی نظام اختیار کرسکتا ہے۔
البرٹا ٹرانزیشن کونسل کا مؤقف ہے کہ موجودہ صوبائی آمدنی اور وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے آزاد ملک کے قیام کا مالی انتظام ممکن ہوسکتا ہے۔تاہم اس تخمینے پر دیگر ماہرین نے سوالات بھی اٹھائے ہیں۔
ماہرین کے تخمینے مختلف
البرٹا کی آزادی کے ممکنہ مالی اثرات پر سامنے آنے والی مختلف رپورٹس میں اخراجات کے اندازوں میں بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے۔
یونیورسٹی آف کیلگری کے اسکول آف پبلک پالیسی سے وابستہ ماہرین نے گزشتہ ہفتے ایک رپورٹ میں اندازہ لگایا تھا کہ نیا ملک قائم کرنے کی لاگت پانچ سال کے دوران 50 ارب سے 170 ارب ڈالر تک ہوسکتی ہے۔
ایک اور تجزیے میں سابق ٹریژری بورڈ سینئر مینیجر لینی کپلن نے آزاد البرٹا کے قیام کی لاگت 200 ارب ڈالر سے زیادہ ہونے کا اندازہ پیش کیا تھا، جبکہ مستقل اخراجات 50 ارب ڈالر سے زیادہ سالانہ رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔
وفاقی قرض کا مسئلہ
البرٹا ٹرانزیشن کونسل کے مالیاتی حساب پر سب سے اہم اعتراض وفاقی قرض سے متعلق سامنے آیا ہے۔اے ٹی سی نے البرٹا کے ممکنہ حصے کے وفاقی قرض کو اپنے مالیاتی تخمینے میں شامل نہیں کیا۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ کینیڈا سے علیحدگی کی صورت میں قرض کی تقسیم پر ابھی کوئی معاہدہ موجود نہیں، اس لیے حتمی رقم پہلے سے طے نہیں کی جاسکتی۔
اس کے برعکس یونیورسٹی آف کیلگری کے تجزیے میں البرٹا کی جانب سے وفاقی قرض کا ایک حصہ اپنے ذمے لینے کا امکان شامل کیا گیا ہے۔
قرض 442 ارب ڈالر تک؟
اس منظرنامے کے تحت آزاد البرٹا کا قرض 324 ارب سے 442.3 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔اس کے نتیجے میں قرض پر سود کی ادائیگی کے لیے صوبے کو موجودہ اخراجات کے مقابلے میں اربوں ڈالر اضافی خرچ کرنا پڑسکتے ہیں۔
معاشیات کے پروفیسر ٹریور ٹومبے نے وفاقی قرض کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے کے اے ٹی سی کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا منظرنامہ ہے جسے حقیقت پسندانہ مالی جائزے میں شامل کرنا ضروری ہے۔
دفاعی اخراجات بھی سوال
ماہرین کے مطابق آزاد ملک بننے کی صورت میں البرٹا کو ان ذمہ داریوں کا بھی مالی بوجھ اٹھانا ہوگا جو اس وقت وفاقی حکومت پوری کرتی ہے۔
اے ٹی سی کے مالیاتی حساب میں دفاعی اخراجات کو مجموعی قومی پیداوار کے 2 فیصد کی سطح تک بڑھانے کی لاگت شامل نہیں کی گئی۔اسی طرح فرسٹ نیشنز اور میٹس سے متعلق بعض پروگراموں کے اخراجات بھی حساب میں شامل نہیں کیے گئے۔
سماجی پروگراموں کی لاگت
ناقدین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ وفاقی حکومت اس وقت البرٹا کے شہریوں کو مختلف سماجی اور مالی سہولیات فراہم کرتی ہے۔
ان میں بزرگ شہریوں کے لیے اولڈ ایج سیکیورٹی، کم آمدنی والے افراد کے لیے مالی معاونت، بچوں کے لیے کینیڈا چائلڈ بینیفٹ اور افراد و کاروبار کے لیے مختلف گرانٹس شامل ہیں۔
اے ٹی سی نے اولڈ ایج سیکیورٹی کے موجودہ نظام کو نئے البرٹا پنشن پلان کے ساتھ منسلک کرنے کی تجویز دی ہے، تاکہ اس کی مالی ذمہ داری کو سالانہ بجٹ میں الگ اخراجات کے طور پر شامل نہ کرنا پڑے۔
خدمات میں کمی کا سوال
یونیورسٹی آف کیلگری سے وابستہ ماہرین کے مطابق اے ٹی سی کی جانب سے ظاہر کی گئی ممکنہ بچت اس صورت میں حاصل ہوسکتی ہے جب نئی ریاست شہریوں کو موجودہ وفاقی حکومت کے مقابلے میں کم سطح کی کچھ خدمات فراہم کرے۔
اس لیے دونوں فریقوں کے مالی تخمینوں میں بنیادی فرق اس بات سے بھی پیدا ہوتا ہے کہ آزاد البرٹا میں حکومت کی ذمہ داریوں اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کی سطح کیا ہوگی۔
حتمی حساب مذاکرات سے طے ہوگا
البرٹا کی ممکنہ آزادی کی صورت میں اصل مالی صورتحال کئی عوامل پر منحصر ہوگی۔ ان میں کینیڈا کے وفاقی قرض اور اثاثوں کی تقسیم، پنشن، سماجی پروگرام، دفاعی اخراجات، تجارتی معاہدے اور وفاقی اداروں کی جگہ نئے البرٹا کے اداروں کا قیام شامل ہیں۔
البرٹا ٹرانزیشن کونسل ایک ایسے منظرنامے کی تصویر پیش کرتی ہے جس میں محدود ابتدائی اخراجات کے بعد آزاد البرٹا کے پاس ہر سال بڑی مالی گنجائش موجود ہوگی، جبکہ دوسرے ماہرین زیادہ اخراجات، قرض اور وفاقی ذمہ داریوں کو شامل کرتے ہوئے کہیں زیادہ مہنگے منظرنامے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
