ٹرمپ انتظامیہ کا عالمی فوجداری عدالت پر بڑا وار، پوری عدالت پر پابندیوں کی تیاری

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے خلاف دباؤ مزید بڑھانے کی تیاری کرلی ہے۔ امریکی حکام عدالت کے صرف ججوں یا پراسیکیوٹرز کے خلاف کارروائی تک محدود رہنے کے بجائے اب خود پورے ادارے اور اس سے متعلق بعض سرگرمیوں کو پابندیوں کا نشانہ بنانے پر غور کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق مجوزہ اقدامات سے عدالت کے مالی معاملات، روزمرہ آپریشنز اور مختلف خدمات کے حصول پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پابندیوں کے باضابطہ اعلان کے وقت کا حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

پوری عدالت نشانے پر

امریکی انتظامیہ کی نئی حکمت عملی پہلے سے عائد پابندیوں کے مقابلے میں زیادہ وسیع بتائی جارہی ہے۔ اب تک واشنگٹن نے آئی سی سی کے متعدد ججوں، پراسیکیوٹرز اور دیگر عہدیداروں کو انفرادی طور پر پابندیوں کا سامنا کرایا ہے، لیکن نئی تجاویز میں عدالت کے ادارہ جاتی معاملات کو براہ راست متاثر کرنے کی بات کی جارہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق مجوزہ پابندیاں امریکی افراد اور کمپنیوں کے لیے آئی سی سی کے ساتھ زیادہ تر مالی لین دین، سامان اور خدمات کی فراہمی پر پابندیاں عائد کرسکتی ہیں، اگرچہ بعض سرگرمیوں کے لیے استثنا یا لائسنس کا راستہ موجود رہ سکتا ہے۔

چھ سے سات ماہ کی مہلت

مجوزہ اقدامات میں ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پابندیوں کے مکمل اطلاق سے پہلے چھ سے سات ماہ کی مہلت دی جاسکتی ہے۔

اس مدت کے بعد عدالت کے ساتھ زیادہ تر لین دین امریکی پابندیوں کے دائرے میں آنے کا امکان ہے۔ امریکی مالیاتی نظام میں ڈالر کی اہمیت کے باعث ایسی پابندیوں سے آئی سی سی کے لیے بینکاری اور بین الاقوامی ادائیگیوں کے معاملات پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔

مالی معاملات متاثر ہونے کا خدشہ

بین الاقوامی فوجداری عدالت ایک مستقل عدالتی ادارہ ہے جو نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کی تحقیقات اور مقدمات سے نمٹتا ہے۔

اگر عدالت کے ساتھ مالی لین دین پر وسیع پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو اس کے روزمرہ اخراجات، ٹیکنالوجی، انشورنس، تفتیشی کام اور دیگر انتظامی ضروریات متاثر ہوسکتی ہیں۔

عدالت کے عہدیدار پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ ادارے کے خلاف وسیع پابندیاں اس کی معمول کی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا کرسکتی ہیں۔

اسرائیلی رہنماؤں کے وارنٹس

امریکا اور آئی سی سی کے درمیان کشیدگی میں بڑا اضافہ نومبر 2024 میں ہوا، جب عدالت نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف غزہ جنگ سے متعلق جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر گرفتاری کے وارنٹس جاری کیے۔اسرائیل اور امریکا آئی سی سی کے رکن ممالک نہیں ہیں اور دونوں نے عدالت کے دائرہ اختیار اور ان اقدامات پر اعتراض کیا ہے۔نیتن یاہو اور گیلنٹ نے عدالت کی جانب سے عائد الزامات کو مسترد کیا ہے۔

امریکا کا اعتراض

ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ آئی سی سی نے غیر رکن ممالک کے شہریوں اور حکام کے خلاف کارروائی کرکے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :بھارت کی مخالفت مسترد، عالمی عدالت کا پاکستان کے مؤقف کے حق میں تاریخی فیصلہ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جولائی 2026 میں عدالت کے خلاف ایک وسیع مہم کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن آئی سی سی کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے مختلف اقدامات کرے گا۔ امریکی انتظامیہ نے عدالت کی کارروائیوں کو امریکی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

افغانستان کی تحقیقات بھی وجہ

واشنگٹن کی ناراضی صرف اسرائیلی حکام کے خلاف کارروائی تک محدود نہیں۔ آئی سی سی نے ماضی میں افغانستان کی صورتحال سے متعلق تحقیقات بھی کی تھیں، جن میں امریکی اہلکاروں پر مبینہ جرائم کے الزامات سے متعلق معاملات شامل تھے۔

امریکی حکومت آئی سی سی کی جانب سے اپنے شہریوں یا فوجی اہلکاروں سے متعلق کارروائی کو بھی عدالت کے دائرہ اختیار سے تجاوز سمجھتی رہی ہے۔

پہلے ہی عہدیداروں پر پابندیاں

امریکی انتظامیہ پہلے ہی آئی سی سی کے متعدد ججوں اور پراسیکیوٹرز کے خلاف پابندیاں عائد کرچکی ہے۔اگست 2026 میں آئی سی سی کی صدر ٹوموکو اکانے اور سینئر ٹرائل لائر عبداللائے سےیے کو بھی امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ امریکی محکمہ خزانہ کے ریکارڈ میں آئی سی سی سے متعلق پابندیوں کا الگ پروگرام موجود ہے۔

عالمی ادارے پر دباؤ

ٹرمپ انتظامیہ نے جولائی میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ وہ دیگر ممالک کو آئی سی سی سے علیحدگی اختیار کرنے اور عدالت کو مالی معاونت فراہم نہ کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کرے گی۔

یورپی یونین نے امریکی دباؤ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور آئی سی سی کی حمایت جاری رکھنے کا مؤقف اپنایا ہے۔ جاپان سمیت عدالت کے دیگر اہم حمایتی ممالک بھی اس صورتحال میں اس کے ساتھ تعاون جاری رکھنے پر غور کر رہے ہیں۔

عدالت کا مستقبل زیر بحث

امریکی پابندیوں کے ممکنہ دائرہ کار نے آئی سی سی کے مستقبل سے متعلق بحث کو بھی تیز کردیا ہے۔ اگر عدالت کے مالی اور انتظامی معاملات پر وسیع پابندیاں عائد ہوتی ہیں تو اس کے لیے بین الاقوامی سطح پر متبادل انتظامات کرنا اہم چیلنج بن سکتا ہے۔

دوسری جانب عدالت کے حامی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیمیں امریکی اقدامات کو عدالتی کارروائیوں پر دباؤ کے طور پر دیکھتی ہیں، جبکہ امریکی انتظامیہ اسے اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ سے جوڑتی ہے۔

اعلان کا انتظار

اب سب کی نظریں واشنگٹن کے آئندہ فیصلے پر ہیں۔ موجودہ اطلاعات کے مطابق نئی پابندیوں کی تیاری آگے بڑھ چکی ہے، تاہم حتمی اعلان کب کیا جائے گا، اس بارے میں ابھی واضح تاریخ سامنے نہیں آئی۔

اگر یہ اقدامات نافذ ہوتے ہیں تو یہ امریکا اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے درمیان پہلے سے موجود تنازع کو مزید وسیع کرسکتے ہیں، کیونکہ اس بار دباؤ کسی ایک جج یا پراسیکیوٹر کے بجائے عدالت کے ادارہ جاتی معاملات تک پہنچنے کا امکان ہے۔

ہمیں فالو کریں