اردوورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کینیڈا اور امریکا کے درمیان حالیہ تجارتی مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں زیادہ سخت مؤقف اختیار کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کے بقول مذاکرات کے دوران کینیڈا نے متعدد معاملات پر اپنے مؤقف میں تبدیلی کی۔
وینس نے یہ گفتگو نیویارک کے علاقے ساؤتھمپٹن میں نوجوان ریپبلکن عطیہ دہندگان کے لیے منعقدہ ایک نجی تقریب میں کی۔ تقریب کی آڈیو امریکی میڈیا کو ایک شریک شخص کے ذریعے فراہم کی گئی۔
وینس نے کارنی کے انداز پر کیا کہا؟
امریکی نائب صدر نے مارک کارنی کو ذاتی طور پر خوش مزاج اور اچھے تعلقات رکھنے والا شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کارنی کے ساتھ اچھی طرح گھل مل جاتے ہیں۔
تاہم وینس کے مطابق مذاکرات کے دوران کارنی نے ٹرمپ کے مقابلے میں سخت رویہ اختیار کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈین وزیراعظم مذاکرات میں مضبوط انداز کے ساتھ آئے، لیکن امریکی نائب صدر نے دعویٰ کیا کہ کینیڈا نے کئی معاملات پر بعد میں اپنے مؤقف میں نرمی اختیار کی۔
وینس نے یہ بھی کہا کہ کارنی نے معاہدے کو کینیڈا کے لیے کامیابی کے طور پر پیش کیا، جبکہ ان کے مطابق مذاکرات میں کینیڈا کو متعدد معاملات پر پیچھے ہٹنا پڑا۔
یہ بیانات وینس کا مؤقف ہیں اور امریکی انتظامیہ کی جانب سے مذاکرات کی تشریح کو ظاہر کرتے ہیں۔ کینیڈین حکومت نے ان دعوؤں کے تمام پہلوؤں کی تفصیلات عوامی طور پر جاری نہیں کی تھیں۔
جمیل جیوَنی کا ذکر بھی اہم رہا
امریکی نائب صدر نے کینیڈین کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ جمیل جیوَنی کے کردار کو بھی نمایاں کیا۔ وینس نے انہیں اپنا دیرینہ دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان رابطوں میں پس پردہ ایک مؤثر کردار ادا کیا۔
وینس اور جیوَنی دونوں نے ییل یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی تھی اور ان کے درمیان کئی برس سے ذاتی تعلقات ہیں۔ جیوَنی ماضی میں وینس کی شادی کی تقریب میں بھی شریک ہوئے تھے۔
امریکی نائب صدر کے مطابق جیوَنی نے ایسے شعبوں میں ممکنہ مشترکہ مفادات کی نشاندہی کی جہاں دونوں ممالک کسی سمجھوتے تک پہنچ سکتے تھے، جن میں توانائی اور گاڑیوں سے متعلق محصولات شامل تھے۔
ٹرمپ انتظامیہ اور کینیڈا کے درمیان مذاکرات
تجارتی مذاکرات میں امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر اور امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک اہم کردار ادا کررہے تھے۔ وینس نے کہا کہ وہ خود بھی معمول سے زیادہ مذاکرات میں شامل رہے، جس کی ایک وجہ جیوَنی کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات تھے۔
اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے محصولات کے نفاذ میں چند روز کی تاخیر پر مبنی ایک عارضی معاہدے کا اعلان کیا تھا۔ یہ پیش رفت کارنی اور ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کے بعد سامنے آئی۔
ٹرمپ نے اس انتظام کو تمام فریقوں کے لیے اچھا معاہدہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ امریکی حکومت اور کینیڈین قیادت کے درمیان اس وقت تعلقات بہتر ہیں۔
اسٹیل، ایلومینیم اور گاڑیوں پر محصولات
حالیہ مذاکرات میں کینیڈین اسٹیل، ایلومینیم اور گاڑیوں پر عائد شعبہ جاتی محصولات میں کمی کی بات سامنے آئی تھی۔
اس کے بدلے میں کینیڈین حکومت کی جانب سے بعض امریکی مصنوعات کے حوالے سے اقدامات پر غور کیا گیا۔ کینیڈین صوبائی حکومتوں کو امریکی شراب دوبارہ شراب کی دکانوں پر دستیاب کرانے کے لیے اقدامات کرنے کو بھی کہا گیا۔
تاہم دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تمام تفصیلات اس وقت واضح نہیں تھیں۔
ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ معاہدے کے تحت امریکی کسانوں کے لیے کینیڈا میں محصولات ختم ہوجائیں گے، تاہم اس حوالے سے مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئی تھیں۔
مقصد کینیڈا کے رویے میں تبدیلی تھا
وینس نے تقریب میں کہا کہ ٹرمپ کا مقصد کینیڈا کو خوش کرنا نہیں بلکہ امریکی مفادات کے لیے مذاکرات سے نتائج حاصل کرنا تھا۔
ان کے مطابق امریکی انتظامیہ کی کوشش تھی کہ تجارتی پالیسی کے ذریعے کینیڈا کے رویے میں تبدیلی لائی جائے۔ وینس نے دعویٰ کیا کہ کینیڈا نے مکمل طور پر نہیں بلکہ بعض معاملات میں امریکی انتظامیہ کے مطلوبہ رخ میں تبدیلی دکھائی۔
یہی تجارتی حکمت عملی ٹرمپ انتظامیہ کے وسیع تر مؤقف کا حصہ رہی ہے، جس میں محصولات کو مذاکرات کے لیے دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
پیئر پوئیلیور پر بھی تبصرہ
وینس نے کینیڈین کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ پیئر پوئیلیور کا بھی ذکر کیا، تاہم ان کے بارے میں کہا کہ وہ امریکا اور کینیڈا کے تجارتی مذاکرات میں نمایاں کردار ادا نہیں کررہے۔
اس کے برعکس انہوں نے جیوَنی کو مذاکرات کے حوالے سے زیادہ فعال قرار دیا۔
جیوَنی کی واشنگٹن میں سرگرمیوں کی وجہ سے کینیڈین کنزرویٹو پارٹی کے اندر بھی اختلافات سامنے آچکے ہیں۔ پوئیلیور پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ کسی بھی ایسے معاہدے کی حمایت نہیں کریں گے جس میں کینیڈین مصنوعات پر محصولات برقرار رہیں۔
جیوَنی اور پوئیلیور کے درمیان اختلاف
جمیل جیوَنی نے ماضی میں واشنگٹن کے کئی دورے کیے اور امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان کا کہنا رہا ہے کہ وہ کینیڈا کے مفادات کے لیے وزیراعظم کارنی کی تجارتی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔
تاہم ان کے بعض بیانات نے کنزرویٹو پارٹی میں تنقید کو جنم دیا۔
ایک موقع پر جیوَنی نے کینیڈا میں تجارتی جنگ کے خلاف ردعمل کو امریکا مخالف جذبات سے جوڑا تھا۔ اس پر پیئر پوئیلیور نے واضح کیا تھا کہ جیوَنی اپنی ذاتی حیثیت میں بات کرتے ہیں اور وہ پارٹی کی نمائندگی کرتے ہیں۔
یہ اختلاف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات کا معاملہ کینیڈا کی داخلی سیاست میں بھی اہم بحث بن چکا ہے۔
امریکا اور کینیڈا کے تعلقات میں بڑی تبدیلی
ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد امریکا اور کینیڈا کے تعلقات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ امریکی محصولات اور کینیڈا کو درپیش تجارتی دباؤ نے دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط قریبی اقتصادی تعلقات کو نئی آزمائش سے دوچار کردیا ہے۔
ٹرمپ کے دور میں سابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے ساتھ بھی تعلقات میں متعدد مواقع پر کشیدگی رہی، جس کے بعد ٹروڈو نے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا۔
اب مارک کارنی کی حکومت کو امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں محصولات کم کرانے اور کینیڈا کے اقتصادی مفادات کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔
مذاکرات کا اگلا مرحلہ
حالیہ عارضی انتظام کے بعد کینیڈا کے وزیر تجارت ڈومینک لی بلانک نے واشنگٹن کا دورہ کیا اور امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر کے ساتھ مزید بات چیت کی۔
دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا مقصد تجارتی اختلافات کو کم کرنا اور محصولات سے متعلق مستقل انتظام تک پہنچنا تھا۔
حالیہ بیانات سے واضح ہے کہ واشنگٹن اور اوٹاوا مذاکرات کو اپنی اپنی نظر سے پیش کررہے ہیں۔ امریکی نائب صدر نے اسے امریکی دباؤ کے نتیجے میں کینیڈا کی پالیسی میں تبدیلی کے طور پر بیان کیا، جبکہ کینیڈین حکومت کے لیے بنیادی توجہ اپنے تجارتی مفادات اور امریکی مارکیٹ تک رسائی برقرار رکھنے پر ہے۔
