ایران کی امریکا کو بڑی پیشکش، این پی ٹی سے نکلنے پر بھی غور شروع

 اردوورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )  ایران نے ایک طرف امریکا کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کا راستہ کھولنے کی کوشش کی ہے تو دوسری جانب جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی سے ممکنہ دستبرداری پر بھی غور شروع کردیا ہے۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کے مطابق تہران کا آئندہ فیصلہ امریکا کے رویے اور اقدامات کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ایک جانب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اور ممکنہ جنگ بندی کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ دوسری جانب یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان دوبارہ شدید فوجی کشیدگی دیکھنے میں آرہی ہے۔

ایران کا این پی ٹی سے دستبرداری پر غور
محسن رضائی نے واضح کیا ہے کہ ایران اس وقت اس سوال کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا اسے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے دستبردار ہونا چاہیے یا نہیں۔
ان کے مطابق ایران نے ماضی میں جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے اپنے مذہبی اور سیاسی مؤقف کا اظہار کیا ہے، تاہم موجودہ حالات میں مستقبل کے اقدامات کا انحصار امریکا کے رویے پر ہوسکتا ہے۔

رضائی کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تہران این پی ٹی سے فوری طور پر دستبرداری کا اعلان نہیں کررہا، بلکہ اس امکان کو زیر غور رکھے ہوئے ہے۔ اس معاملے میں امریکا کے آئندہ اقدامات اور خطے میں جاری فوجی صورتحال اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

امریکا کو مذاکرات کے لیے سات شرائط
ایرانی حکام نے امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے قطر کے ذریعے واشنگٹن تک سات شرائط بھی پہنچائی ہیں۔ محسن رضائی نے تمام شرائط کی تفصیل عوامی سطح پر جاری نہیں کی، تاہم تین اہم مطالبات سامنے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

ایران کے خلاف بڑے حملوں پر ٹرمپ کا نیا عندیہ، خلیجی اتحادیوں سے مشاورت کا فیصلہ

ان میں تمام محاذوں پر جنگ اور فوجی کارروائیوں کا خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا شامل ہیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ یہ مطالبات قطر کے ذریعے امریکا تک پہنچا دیے گئے ہیں اور اب تہران واشنگٹن کے جواب کا منتظر ہے۔
اس سفارتی عمل میں قطر کے علاوہ پاکستان بھی مذاکرات کی بحالی کے لیے رابطوں اور ثالثی کی کوششوں میں شامل ہے۔
ایران نے سعودی عرب اور یمن کو بھی امن کی پیشکش کردی
ایرانی سکیورٹی چیف نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے بھی تہران کی مدد کی پیشکش کی ہے۔
محسن رضائی کے مطابق ایران حقیقی طور پر سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگ ختم کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سعودی عرب اور یمن کی جانب سے ایران سے مدد طلب کی جاتی ہے تو تہران دونوں فریقوں کے درمیان امن کے حصول میں معاونت کے لیے تیار ہے۔
ایران کی یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان فوجی کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کرچکی ہے۔
ریاض کی جانب حوثیوں کا بیلسٹک میزائل
ایرانی بیان کے فوراً بعد خطے میں کشیدگی کی ایک نئی علامت سامنے آئی، جب سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ کیا کہ یمن کے حوثیوں نے سعودی دارالحکومت ریاض کی جانب بیلسٹک میزائل داغا۔

سعودی حکام کے مطابق میزائل کو فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی روک کر تباہ کردیا۔ حکام نے یہ بھی کہا کہ حوثیوں نے بیشہ، طائف، فرسان اور ینبع میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم ان حملوں کو بھی ناکام بنایا گیا۔
حوثیوں نے دوسری جانب سعودی عرب میں حساس تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ریاض ایئرپورٹ کے قریب فیول ڈپو میں آگ
میزائل حملے کے بعد ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک فیول ڈپو میں آگ بھڑک اٹھی۔ فائر فائٹرز نے ایک ایسے ایندھن کے ٹینک میں لگی آگ پر قابو پالیا جس پر سعودی تیل کمپنی آرامکو کا لوگو موجود تھا۔

موقعے سے بنائی گئی اور تصدیق شدہ ویڈیو میں ایئرپورٹ کی عمارتوں کے اوپر سیاہ دھوئیں کا بادل دیکھا گیا۔ تاہم سعودی حکام کے مطابق میزائل کو فضائی دفاع نے روک لیا تھا اور حملے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔
یہ ریاض میں حالیہ کشیدگی کے دوران ایک اہم واقعہ سمجھا جارہا ہے کیونکہ دارالحکومت کو براہ راست میزائل حملے کا خطرہ درپیش آیا۔

یمن میں بھی لڑائی میں اضافہ
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان موجودہ کشیدگی صرف میزائل حملوں تک محدود نہیں۔ یمن کے مختلف علاقوں میں بھی لڑائی میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹس کے مطابق مارب، تعز، لحج، الجوف اور البیضاء سمیت کئی علاقوں میں جھڑپیں جاری ہیں۔ یہ صورتحال 2022 کی جنگ بندی کے بعد خطے میں نسبتاً طویل عرصے تک برقرار رہنے والے سکون کے مقابلے میں نمایاں تبدیلی ہے۔
اقوام متحدہ اور خلیج تعاون کونسل سمیت مختلف فریقوں نے شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایران کی امن پیشکش اور خطے کی نئی صورتحال
ایران کی جانب سے سعودی عرب اور یمن کے درمیان امن میں مدد کی پیشکش اور امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے شرائط پیش کیے جانے کو ایک ہی وقت میں سامنے آنے والی دو اہم سفارتی پیش رفتوں کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

ایران کا سفارتی حل کا خیرمقدم،قومی خودمختاری کے دفاع کا عزم برقرار

تاہم دوسری جانب این پی ٹی سے دستبرداری کے امکان کا بیان خطے میں جوہری معاملے کو مزید حساس بنا سکتا ہے۔ ایران فی الحال یہ کہہ رہا ہے کہ حتمی فیصلہ امریکا کے اقدامات کو دیکھ کر کیا جائے گا، اس لیے تہران کے اگلے عملی قدم پر توجہ مرکوز ہے۔

امریکا کے جواب کا انتظار
ایران نے قطر کے ذریعے امریکا تک اپنی شرائط پہنچا دی ہیں اور اب واشنگٹن کے جواب کا منتظر ہے۔ اس دوران خطے میں فوجی سرگرمیاں بھی جاری ہیں، جس سے سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے۔

اگر مذاکرات کا راستہ کھلتا ہے تو جنگ بندی، ایرانی اثاثوں، بحری ناکہ بندی اور خطے میں فوجی کارروائیوں جیسے معاملات بنیادی موضوعات ہوسکتے ہیں۔ دوسری طرف اگر کشیدگی برقرار رہتی ہے تو این پی ٹی سے ممکنہ دستبرداری سمیت ایران کے آئندہ اقدامات عالمی سطح پر مزید توجہ حاصل کرسکتے ہیں۔

فی الحال صورتحال میں سفارت کاری اور فوجی کشیدگی دونوں بیک وقت جاری ہیں، جبکہ ایران، امریکا، سعودی عرب اور یمن کے درمیان آئندہ چند دنوں کے اقدامات خطے کی مجموعی صورتحال کے لیے اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔

ہمیں فالو کریں