ٹرمپ کا پیدائشی شہریت پر نیا وار، امریکا آنے والوں کے بچوں کے حقوق پر پھر قانونی جنگ شروع

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں پیدا ہونے والے بعض بچوں کو حاصل پیدائشی شہریت کے حق کو محدود کرنے کے لیے نئے صدارتی احکامات جاری کر دیے ہیں، جس کے بعد ایک بار پھر امریکا میں آئینی حقوق، امیگریشن پالیسی اور شہری آزادیوں پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ایسے افراد کو روکنا ہے جو خاص طور پر اپنے بچوں کو امریکی شہریت دلانے کے مقصد سے امریکا کا سفر کرتے ہیں، جسے عام طور پر "برتھ ٹورزم” کہا جاتا ہے۔

14ویں ترمیم کیا کہتی ہے؟

امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کے تحت امریکا میں پیدا ہونے والے تقریباً تمام افراد کو پیدائش کے ساتھ ہی امریکی شہریت کا حق حاصل ہوتا ہے۔

یہ قانون امریکی تاریخ میں طویل عرصے سے نافذ ہے اور اسے ملک کے بنیادی شہری حقوق میں شمار کیا جاتا ہے۔تاہم ٹرمپ اور ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس حق کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے اور کچھ غیر ملکی افراد صرف اپنے بچوں کو امریکی پاسپورٹ دلانے کے لیے امریکا کا رخ کرتے ہیں۔

ٹرمپ کا پرانا اقدام اور سپریم کورٹ کا فیصلہ

یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ انتظامیہ نے پیدائشی شہریت کے معاملے پر کارروائی کی ہو۔جنوری 2025 میں بھی صدر ٹرمپ نے ایک حکم جاری کرتے ہوئے امریکا میں پیدا ہونے والے بعض بچوں کی شہریت محدود کرنے کی کوشش کی تھی۔

تاہم 30 جون 2026 کو امریکی سپریم کورٹ نے اس کوشش کو مسترد کر دیا اور قرار دیا کہ ٹرمپ کا سابقہ حکم اس شکل میں نافذ نہیں ہو سکتا۔عدالتی فیصلے کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر قانونی بحث کا مرکز بن گیا۔

نئے احکامات میں کیا فرق ہے؟

حالیہ احکامات کا دائرہ پہلے اقدام کے مقابلے میں محدود بتایا جا رہا ہے۔اس بار خاص طور پر ان حالات کو ہدف بنایا گیا ہے جہاں حکومت کے مطابق افراد امریکی شہریت کے حصول کے لیے مخصوص منصوبہ بندی کے تحت امریکا آتے ہیں۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نئے اقدامات کا مقصد شہریت کے نظام کو منظم کرنا اور اس کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنا ہے۔

امیگریشن پالیسی میں سختی

ڈونلڈ ٹرمپ اپنے سیاسی سفر کے آغاز سے ہی امیگریشن قوانین کو سخت کرنے کے حامی رہے ہیں۔ان کی پالیسیوں میں غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام، سرحدی نگرانی میں اضافہ اور شہریت کے قوانین میں تبدیلی شامل رہی ہے۔پیدائشی شہریت کا معاملہ بھی اسی وسیع تر امیگریشن پالیسی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

ناقدین کے خدشات

دوسری جانب انسانی حقوق کے گروپس اور کئی قانونی ماہرین ان اقدامات پر اعتراض کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ امریکی آئین کی 14ویں ترمیم واضح طور پر پیدائشی شہریت کا تحفظ کرتی ہے اور صدر اکیلے انتظامی حکم کے ذریعے اس بنیادی حق کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ناقدین کے مطابق اس معاملے کا حتمی فیصلہ ممکنہ طور پر دوبارہ عدالتوں میں ہوگا۔

ایک بار پھر عدالتوں کا کردار اہم

امریکا میں اختیارات کی تقسیم کے نظام کے تحت صدر کے فیصلوں کو عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پیدائشی شہریت کا معاملہ صرف سیاسی نہیں بلکہ آئینی مسئلہ بھی ہے، اس لیے اس پر طویل قانونی جنگ کا امکان موجود ہے۔

امریکا کے مستقبل کی امیگریشن سمت

ٹرمپ کے نئے احکامات ظاہر کرتے ہیں کہ ان کی انتظامیہ امریکا کے امیگریشن نظام میں بڑی تبدیلیاں لانے کے ایجنڈے پر قائم ہے۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ پیدائشی شہریت کا حق امریکی آئین کے ایک اہم حصے سے جڑا ہوا ہے، جسے تبدیل کرنا آسان نہیں ہوگا۔

یہ معاملہ اب صرف ایک صدارتی حکم تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکی سیاست، عدالتوں اور شہری حقوق کے درمیان ایک بڑی بحث بن چکا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہوگا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ اقدام کس حد تک قانونی طور پر برقرار رہ پاتا ہے۔

ہمیں فالو کریں