امریکی حملے کا خدشہ؟ کینیڈا نے دہائیوں پرانے دفاعی منصوبے دوبارہ کھول لیے

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا پر ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کا تصور بظاہر ناقابلِ یقین محسوس ہوتا ہے، تاہم وزیراعظم مارک کارنی اور کینیڈا کے اعلیٰ دفاعی حکام نے اس انتہائی کم امکان والے خطرے کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔ کینیڈین حکام کے مطابق دنیا کی دیگر افواج کی طرح کینیڈین فوج بھی مختلف ہنگامی حالات اور انتہائی غیر معمولی خطرات کے لیے منصوبہ بندی کرتی ہے۔

امریکی ایڈمرل کا ردعمل

امریکی انڈو پیسفک کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل سیموئل پاپارو سے حال ہی میں ایک صحافی نے کینیڈا پر ممکنہ امریکی حملے سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے اسے انتہائی غیرمعقول قرار دیا۔

ایڈمرل پاپارو نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا ان سے یہ بھی پوچھا جائے گا کہ مریخی مخلوق کے خلاف امریکی فوج کے حملے کے منصوبے کیا ہیں۔

ان کے اس ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی فوجی قیادت کے نزدیک کینیڈا پر حملے کا سوال فی الحال انتہائی بعید از امکان تصور کیا جاتا ہے۔

کارنی نے خطرے کا جائزہ لیا

اس کے برعکس کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے اس امکان کا جائزہ لیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کینیڈا کے خلاف فوجی کارروائی کا حکم دے سکتی ہے۔

کارنی نے اس خطرے کو ’’ایکسٹریم ٹیل رسک‘‘ قرار دیا، جس سے مراد ایسا انتہائی کم امکان والا خطرہ ہے جس کے رونما ہونے کا امکان بہت کم ہو، لیکن اسے مکمل طور پر صفر بھی نہ سمجھا جائے۔کارنی نے ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق اپنے جائزے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔

دفاعی وزیر کی وضاحت

کینیڈا کے وزیر دفاع ڈیوڈ میک گنٹی نے بھی اس معاملے پر تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی تمام افواج مختلف خطرات اور ممکنہ حالات کا تجزیہ کرتی ہیں۔

میک گنٹی کے مطابق کینیڈین عوام کو وزیراعظم کی جانب سے استعمال کی گئی اصطلاح یعنی انتہائی کم امکان والے خطرے کے تناظر میں ہی اس معاملے کو دیکھنا چاہیے۔

ہنگامی منصوبوں کا ذخیرہ

کینیڈا کے محکمہ قومی دفاع کے پاس مختلف ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے کئی منصوبے موجود ہیں۔ ان میں بعض منصوبے کئی دہائیوں پرانے ہیں اور بدلتے ہوئے عالمی حالات کے مطابق وقتاً فوقتاً ان میں ترامیم کی جاتی ہیں۔

ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل اینڈریو لیسلی دفاعی محکمے کے اس شعبے کی سربراہی کرچکے ہیں جو ایسے منصوبے تیار اور اپ ڈیٹ کرتا ہے۔

ان کے مطابق دفاعی حکام مختلف ممالک میں سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں، ممکنہ خطرات کا اندازہ لگاتے ہیں، متعلقہ محکموں اور ماہرین سے مشاورت کرتے ہیں اور پھر ان منصوبوں کو محفوظ رکھتے ہیں۔

ٹرمپ کے بیانات کے بعد توجہ

لیسلی کے مطابق 2024 میں ٹرمپ کے دوبارہ امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد ان منصوبوں کا دوبارہ جائزہ لیا گیا ہوگا، جبکہ جنوری میں گرین لینڈ کو طاقت کے ذریعے حاصل کرنے سے متعلق امریکی انتظامیہ کی جانب سے سامنے آنے والی دھمکیوں کے بعد بھی ان پر زیادہ توجہ دی گئی ہوگی۔

ہہ بھی پڑھیں :ایران،اسرائیل جنگ شدت اختیار کر گئی،ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملہ،امریکا اور کینیڈا کے سفارتخانے بند

انہوں نے کہا کہ کینیڈا کو امریکا کی 51ویں ریاست بنانے سے متعلق بیانات اور ایسے نقشے جن میں کینیڈا کو امریکا کا حصہ دکھایا گیا، ان حالات میں کینیڈین دفاعی منصوبہ بندی پر اضافی توجہ کا باعث بن سکتے تھے۔

فوجی حملے کا امکان

ماہرین کے مطابق امریکا کی جانب سے پورے کینیڈا پر روایتی فوجی حملے کا منظرنامہ انتہائی پیچیدہ ہوگا۔ کینیڈا کا وسیع جغرافیہ اور ملک کے مختلف حصوں میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے کی دشواری ایسے کسی بھی آپریشن کو انتہائی مشکل بنائے گی۔

تاہم دفاعی منصوبہ بندی صرف مکمل فوجی حملے تک محدود نہیں ہوتی۔ مختلف نوعیت کے ممکنہ حالات کے لیے بھی منصوبے تیار کیے جاتے ہیں، جن میں محدود فوجی کارروائی یا دیگر غیر معمولی حالات شامل ہوسکتے ہیں۔

ماضی میں بھی منصوبے بنتے رہے

لیسلی کے مطابق کسی ملک میں نئی حکومت یا نیا رہنما آنے کے بعد بھی متعلقہ ممالک کے بارے میں دفاعی منصوبوں کا دوبارہ جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس عمل میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ عالمی حالات کس حد تک تبدیل ہوئے ہیں اور پرانے منصوبوں میں کیا تبدیلی درکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر سیاسی قیادت کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ اسی لیے وزیراعظم کے لیے یہ ضروری سمجھا جاتا ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لیں کہ موجودہ حالات میں پرانے دفاعی منصوبوں میں کسی تبدیلی یا اضافے کی ضرورت تو نہیں۔

کینیڈا کی دفاعی تیاری

لیسلی کے مطابق کینیڈین چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل جینی کیریگنن کی ذمہ داری بھی یہی ہے کہ وہ سیاسی قیادت کو بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے بارے میں مشورہ دیں۔

کینیڈین حکومت نے اب تک کسی امریکی فوجی حملے کے حقیقی خدشے کا اعلان نہیں کیا۔ حکام کی وضاحت کے مطابق موجودہ سرگرمی بنیادی طور پر خطرات کا تجزیہ اور ہنگامی منصوبہ بندی ہے، جس کا مقصد کسی بھی غیر متوقع صورتحال میں ریاستی اداروں کو تیار رکھنا ہے۔

ہمیں فالو کریں