اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کے وزیر دفاع ڈیوڈ میک گنٹی نے گرین لینڈ کے حوالے سے امریکا اور ڈنمارک کے درمیان ہونے والی تازہ پیش رفت کو حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔
وزیر دفاع ڈیوڈ میک گنٹی نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایسا راستہ تلاش ہونا مثبت بات ہے جس کے ذریعے امریکا اپنی فوجی موجودگی بڑھا سکے گا، جبکہ گرین لینڈ بدستور ڈنمارک کے انتظام میں رہے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ کئی ماہ سے گرین لینڈ کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے تھے۔ ٹرمپ نے اس جزیرے کو امریکا کے لیے اسٹریٹجک اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے ماضی میں ڈنمارک سے گرین لینڈ امریکا کو دینے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
ٹرمپ اور ڈنمارک کے درمیان نیا سمجھوتہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو اعلان کیا کہ امریکا اور ڈنمارک گرین لینڈ سے متعلق ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت امریکا کو جزیرے میں اپنی فوجی اور سکیورٹی موجودگی بڑھانے کا موقع ملے گا، جبکہ گرین لینڈ کی انتظامی حیثیت برقرار رہے گی۔
ٹرمپ کے مطابق نئے انتظامات کے ذریعے امریکا کو گرین لینڈ کے دفاع اور سکیورٹی کے حوالے سے زیادہ مستقل کردار حاصل ہوگا۔
تاہم معاہدہ فوری طور پر نافذ نہیں ہوگا۔ ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن کے دفتر کے مطابق تین حکومتیں آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر معاہدے پر دستخط کریں گی۔
اس کے بعد ڈنمارک اور گرین لینڈ کی پارلیمانی منظوری بھی درکار ہوگی، جس کے بغیر معاہدے پر مکمل عمل درآمد ممکن نہیں ہوگا۔
کینیڈا نے پیش رفت کا خیر مقدم کردیا
کینیڈا کے وزیر دفاع ڈیوڈ میک گنٹی نے ہفتے کو پارلیمنٹ ہل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکا اور گرین لینڈ کے درمیان طے پانے والے نئے انتظام کو مثبت قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ امریکا اور گرین لینڈ نے ایک ایسا راستہ تلاش کرلیا ہے جس کے ذریعے دونوں فریق آگے بڑھ سکتے ہیں۔
میک گنٹی نے اس موقع پر آرکٹک خطے میں موجود دیگر ممالک کے باہمی تعاون کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق شمالی قطبی خطے سے متعلق سکیورٹی اور دفاعی معاملات میں مختلف ممالک کا ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا اہم ہے۔
انہوں نے اس بات کو بھی مثبت پیش رفت قرار دیا کہ نیٹو کے رکن ممالک آرکٹک خطے کو اپنی مشترکہ ذمہ داری کا حصہ سمجھ رہے ہیں۔
آرکٹک خطہ کیوں اہم ہے؟
گرین لینڈ دنیا کے سب سے بڑے جزیروں میں شمار ہوتا ہے اور جغرافیائی اعتبار سے شمالی امریکا، یورپ اور آرکٹک خطے کے درمیان انتہائی اہم مقام رکھتا ہے۔
اس کی جغرافیائی پوزیشن کے باعث امریکا، ڈنمارک اور دیگر مغربی ممالک کے لیے یہ خطہ دفاعی اور سکیورٹی کے اعتبار سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ آرکٹک میں برفانی حالات میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ مستقبل میں بحری راستوں، قدرتی وسائل اور فوجی نگرانی کے حوالے سے بھی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔
کینیڈا بھی آرکٹک خطے کا اہم ملک ہے اور اس کی وسیع شمالی سرحد اسے خطے کی سکیورٹی میں براہ راست فریق بناتی ہے۔
اسی لیے کینیڈا کے لیے گرین لینڈ اور آرکٹک میں امریکا اور نیٹو کی سرگرمیاں محض کسی دوسرے ملک کا معاملہ نہیں بلکہ وسیع تر شمالی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
ٹرمپ پہلے فوجی کارروائی کا امکان بھی ظاہر کرچکے ہیں
ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد گرین لینڈ کا معاملہ عالمی سطح پر زیادہ نمایاں ہوا۔ امریکی صدر نے ڈنمارک سے جزیرہ امریکا کو فروخت کرنے کا مطالبہ کیا اور بعض مواقع پر گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لانے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کے امکان کو بھی خارج نہیں کیا۔
یہ مؤقف اس لیے بھی غیر معمولی تھا کہ ڈنمارک امریکا کا نیٹو اتحادی ہے۔
گرین لینڈ خود مختار ریاست نہیں بلکہ ڈنمارک کی مملکت کے اندر ایک خود مختار علاقہ ہے۔ گرین لینڈ کے اپنے حکومتی ادارے موجود ہیں، تاہم خارجہ اور دفاعی معاملات میں ڈنمارک کا اہم کردار برقرار ہے۔
ٹرمپ کے سابقہ بیانات نے ڈنمارک، گرین لینڈ اور امریکا کے درمیان تعلقات میں خاصی کشیدگی پیدا کی تھی۔
نئے معاہدے سے کشیدگی کم ہونے کی امید
تازہ معاہدہ اس کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اس میں امریکا کی سکیورٹی ضروریات اور ڈنمارک و گرین لینڈ کی علاقائی حیثیت، دونوں کو ساتھ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
تاہم معاہدے کے عملی اثرات اس وقت زیادہ واضح ہوں گے جب اسے متعلقہ پارلیمانوں سے منظوری ملے گی اور تینوں حکومتیں اس کی شرائط پر عمل درآمد شروع کریں گی۔
کینیڈا کے وزیر دفاع کا ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اوٹاوا گرین لینڈ کے معاملے کو وسیع تر آرکٹک سکیورٹی کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
نیٹو کے لیے بھی اہم پیش رفت
گرین لینڈ کی جغرافیائی پوزیشن کے باعث وہاں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ نیٹو کے شمالی دفاعی ڈھانچے کے لیے بھی اہم ہوسکتا ہے۔
روس کے ساتھ بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور آرکٹک میں مختلف ممالک کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے باعث مغربی ممالک خطے میں نگرانی، مواصلات اور دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔
میک گنٹی کا کہنا ہے کہ نیٹو اتحادیوں کی جانب سے آرکٹک کو مشترکہ دفاعی ذمہ داری تسلیم کرنا اہم پیش رفت ہے۔
معاہدے کے بعد اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حکومتوں کی جانب سے معاہدے پر دستخط کے بعد اسے متعلقہ پارلیمانی مراحل سے گزرنا ہوگا۔ اس کے بعد ہی نئے انتظامات عملی طور پر نافذ کیے جاسکیں گے۔
فی الحال یہ معاہدہ ٹرمپ کے اس سابقہ مؤقف سے مختلف راستہ پیش کرتا ہے جس میں انہوں نے گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لینے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ نئی پیش رفت میں گرین لینڈ کی ڈنمارک کے ساتھ موجودہ حیثیت برقرار رکھتے ہوئے امریکی سکیورٹی اور فوجی موجودگی کو بڑھانے پر توجہ دی گئی ہے۔
کینیڈا اس پیش رفت کو آرکٹک میں اتحادی ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع تر تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں پارلیمانی منظوری اور معاہدے کی عملی تفصیلات یہ طے کریں گی کہ گرین لینڈ میں امریکی موجودگی کس حد تک بڑھے گی اور اس کا آرکٹک خطے کی مجموعی سکیورٹی پر کیا اثر پڑے گا۔
