اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی تنازع نے دونوں ملکوں کی معیشتوں کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی سیاست میں بھی ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
کینیڈا کی جانب سے امریکی محصولات کے جواب میں جوابی اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم حیران کن طور پر امریکا کی اہم ریاست ٹیکساس میں، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مضبوط سیاسی حمایت حاصل ہے، بہت سے عام شہری اس تجارتی جنگ کو اپنی سیاسی ترجیحات میں نمایاں مقام دیتے دکھائی نہیں دیتے۔
کینیڈا کی کوشش تھی کہ امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات کے ذریعے واشنگٹن پر معاشی دباؤ بڑھایا جائے اور ایسے علاقوں کو بھی اس تنازع کے اثرات کا احساس ہو جہاں ٹرمپ کی سیاسی حمایت مضبوط ہے۔ لیکن ٹیکساس میں ہونے والی سیاسی سرگرمیوں اور عوامی گفتگو سے یہ تاثر سامنے آیا کہ کینیڈا کے ساتھ تجارتی کشیدگی ابھی تک بہت سے ووٹرز کے لیے مرکزی سیاسی مسئلہ نہیں بنی۔
ٹیکساس کے کاروبار پر بڑھتی لاگت
ڈیلاس کے قریب دھاتی مصنوعات تیار کرنے والی ایک خاندانی کمپنی کے مالک لانس تھریل کِل کا کہنا ہے کہ تجارتی محصولات نے ان کے کاروبار کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کردیا ہے۔
ان کے مطابق 2025 میں امریکی محصولات کے نفاذ کے بعد سے ایلومینیم کی قیمت میں تقریباً 84 فیصد اضافہ ہوچکا ہے، جبکہ رواں سال کے دوران بھی اس کی قیمت میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اس اضافی مالی بوجھ کے باوجود وہ صدر ٹرمپ کی حمایت ختم کرنے پر آمادہ نہیں۔ ان کے مطابق تجارتی پالیسی سے متعلق اختلافات ان کی رائے کو کسی حد تک متاثر کرتے ہیں، لیکن ٹیکسوں میں کمی اور چھوٹے کاروبار کے حوالے سے ٹرمپ کی دیگر پالیسیوں کی وجہ سے ان کا مجموعی سیاسی مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ کاروباری نقصان اور سیاسی ترجیحات ہمیشہ ایک ہی سمت میں نہیں جاتے۔
کینیڈا نے ٹیکساس کو بھی نشانے پر کیوں لیا؟
امریکا کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کیے جانے کے بعد اونٹاریو کے وزیر اعلیٰ ڈگ فورڈ نے کینیڈا کی وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جوابی کارروائی میں ان امریکی ریاستوں کو بھی ہدف بنایا جائے جو امریکی سیاست میں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔
ان ریاستوں میں ٹیکساس بھی شامل تھا۔
فورڈ کا مؤقف تھا کہ اگر امریکی حکومت کینیڈین معیشت پر دباؤ ڈال رہی ہے تو کینیڈا کو بھی ایسے امریکی علاقوں میں معاشی اثر پیدا کرنا چاہیے جہاں سے اہم صنعتی اور سیاسی طاقت آتی ہے۔
بعد ازاں وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت نے امریکی اقدامات کے جواب میں جوابی محصولات نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ اس اقدام کا مقصد امریکی محصولات کے اقتصادی اثرات کا جواب دینا اور کینیڈا کے تجارتی مفادات کا دفاع کرنا تھا۔
امریکا کے لیے کینیڈا معمولی تجارتی شراکت دار نہیں
ٹیکساس اور کینیڈا کے درمیان تجارت بظاہر دور کا معاملہ محسوس ہوسکتی ہے، لیکن دونوں کے درمیان کاروباری تعلقات خاصے گہرے ہیں۔
2025 میں ٹیکساس اور کینیڈا کے درمیان اشیا کی تجارت تقریباً 69 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ کینیڈین ملکیت رکھنے والی سیکڑوں کمپنیوں نے ٹیکساس میں کاروباری سرگرمیاں قائم کر رکھی ہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ افراد ان اداروں سے وابستہ ہیں۔
ٹیکساس سے کینیڈا جانے والی مصنوعات میں پلاسٹک، کمپیوٹر، ٹرک اور ہوائی جہاز شامل ہیں، جبکہ دوسری سمت سے گاڑیاں، انجن، ایلومینیم اور گاڑیوں کے پرزے امریکی مارکیٹ تک پہنچتے ہیں۔
خام تیل سمیت توانائی کی تجارت بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا اہم حصہ ہے۔
پھر عام ٹیکسان کینیڈا سے بے خبر کیوں؟
امریکا اور کینیڈا کے درمیان اتنے گہرے تجارتی تعلقات کے باوجود ٹیکساس کے بہت سے شہریوں کے لیے یہ معاملہ روزمرہ سیاسی گفتگو کا حصہ نہیں۔
ریپبلکن پارٹی کے ایک بڑے سیاسی اجتماع کے دوران کئی شرکا نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے بارے میں محدود معلومات کا اظہار کیا۔ بعض افراد کو معلوم تھا کہ محصولات میں اضافہ ہوا ہے، لیکن وہ اس مسئلے کو ٹرمپ کی مجموعی اقتصادی پالیسی سے الگ کرکے نہیں دیکھ رہے تھے۔
کچھ ووٹرز کا کہنا تھا کہ امریکا نے طویل عرصے تک عالمی تجارت میں دوسرے ممالک کے لیے بہت زیادہ رعایتیں دی ہیں اور موجودہ انتظامیہ امریکی مفادات کو زیادہ ترجیح دے رہی ہے۔
اس طرح کینیڈا کے ساتھ تنازع ایک الگ مسئلہ بننے کے بجائے ٹرمپ کے وسیع تر اقتصادی اور سیاسی بیانیے کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔
ٹرمپ کے حامیوں کا مؤقف
ریپبلکن حلقوں میں ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ صدر نے عالمی تجارت کے معاملے میں سخت مؤقف اختیار کرکے امریکی کاروبار اور کارکنوں کے مفادات کو ترجیح دینے کی کوشش کی ہے۔
سابق ٹرمپ انتظامیہ کے ترجمان شان اسپائسر نے بھی تسلیم کیا کہ محصولات کچھ ریاستوں میں سیاسی طور پر مشکل مسئلہ بن سکتے ہیں، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں کینیڈا کے ساتھ سرحد پار تجارت زیادہ ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ریپبلکن ووٹرز کے ایک حصے کے لیے یہ بات اہم ہے کہ صدر اپنی حکومت کے ذریعے امریکی مفادات کے لیے لڑنے کا تاثر دے رہے ہیں۔
امریکی عوام میں محصولات پر اختلاف
قومی سطح پر صورت حال قدرے مختلف نظر آتی ہے۔ حالیہ رائے عامہ کے جائزوں میں بڑی تعداد میں امریکی شہریوں نے کینیڈا پر مزید محصولات عائد کرنے کی مخالفت کی ہے۔
بہت سے امریکی شہریوں کو خدشہ ہے کہ درآمدی اشیا پر محصولات کا بوجھ بالآخر کمپنیوں کے بجائے صارفین تک منتقل ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں اشیا کی قیمتیں بڑھنے سے پہلے ہی مہنگائی سے متاثرہ خاندانوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ اور اس کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ محصولات امریکی حکومت کو تجارتی مذاکرات میں زیادہ طاقت فراہم کرتے ہیں اور غیر ملکی ممالک کو امریکی مارکیٹ تک رسائی کے بدلے بہتر شرائط قبول کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔
انتخابات کے دوران تجارتی جنگ کا سوال
امریکا میں وسط مدتی انتخابات قریب آتے ہی تجارتی پالیسی بھی سیاسی بحث کا حصہ بن رہی ہے۔ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کئی نشستوں پر مقابلہ سخت ہونے کی وجہ سے معمولی سیاسی تبدیلیاں بھی اہم ہوسکتی ہیں۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ کینیڈا کے ساتھ تجارتی تنازع خود ایک ایسا مسئلہ بنے گا جو بڑی تعداد میں ووٹرز کے سیاسی فیصلے تبدیل کردے۔
ووٹروں کے لیے مہنگائی، روزگار، ٹیکس، صحت، امیگریشن اور دیگر داخلی معاملات بھی اہم ہیں۔ اس لیے صرف محصولات میں اضافے کو کسی ایک سیاسی نتیجے سے جوڑنا آسان نہیں۔
کینیڈا کے لیے بھی صورتحال مشکل
تجارتی جنگ کا دباؤ صرف امریکا تک محدود نہیں۔ کینیڈین کاروباری ادارے بھی امریکی مارکیٹ پر انحصار کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔
دونوں ممالک کی سپلائی چین کئی دہائیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ ایک ملک میں محصولات بڑھنے سے دوسرے ملک میں خام مال، صنعتی مصنوعات اور صارفین کی اشیا کی قیمت متاثر ہوسکتی ہے۔
وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت اسی لیے امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ دوسرے عالمی بازاروں میں کینیڈا کی رسائی بڑھانے پر بھی زور دے رہی ہے۔
کیا کینیڈا کا دباؤ ٹرمپ کی سیاست بدل سکتا ہے؟
کینیڈا کی جانب سے امریکی ریاستوں کو معاشی دباؤ کا سامنا کرانے کی حکمت عملی نے ایک اہم سوال ضرور اٹھایا ہے کہ کیا تجارتی جنگ امریکا کے اندر سیاسی اثرات پیدا کرسکتی ہے۔
ٹیکساس میں سامنے آنے والی صورتحال سے فی الحال یہ معلوم ہوتا ہے کہ کاروباری مشکلات اور سیاسی حمایت کے درمیان براہ راست تعلق قائم نہیں کیا جاسکتا۔ کچھ کاروباری افراد محصولات سے متاثر ہونے کے باوجود اپنی مجموعی سیاسی ترجیحات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ تجارتی جنگ کا اثر مختلف ریاستوں، صنعتوں اور ووٹر گروہوں میں مختلف ہو۔ سرحدی علاقوں یا ایسے خطوں میں جہاں کینیڈا کے ساتھ کاروباری تعلقات زیادہ ہیں، مسئلہ زیادہ نمایاں ہوسکتا ہے، جبکہ دوسرے علاقوں میں اسے قومی اقتصادی پالیسی کے ایک حصے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
تجارتی جنگ کا مستقبل کیا ہوگا؟
امریکا اور کینیڈا کے درمیان موجودہ تنازع نے واضح کردیا ہے کہ دونوں ممالک کی معیشتیں ایک دوسرے سے کس قدر جڑی ہوئی ہیں۔ محصولات میں اضافہ صرف حکومتی مذاکرات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات کاروباری اخراجات، سپلائی چین، روزگار اور صارفین کی قیمتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
کینیڈا نے امریکی دباؤ کا جواب دے دیا ہے، جبکہ واشنگٹن بھی اپنے تجارتی مؤقف پر قائم دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں آئندہ مذاکرات دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ٹیکساس میں موجودہ صورتحال سے ایک بات ضرور سامنے آتی ہے کہ کینیڈا نے ٹرمپ کے سیاسی گڑھ تک تجارتی جنگ کا پیغام تو پہنچا دیا ہے، لیکن اس پیغام کو امریکی ووٹر کے سیاسی فیصلے میں تبدیل ہونے کے لیے ابھی کئی دوسرے معاشی اور داخلی عوامل بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔
