اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان نے 23 ستمبر کو افغان سرزمین سے آنے والے ڈرونز کی مبینہ دراندازی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے تمام درانداز ڈرونز کو اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا، جس کے بعد دفاعِ وطن کے حق کو استعمال کرتے ہوئے افغانستان میں ڈرونز کی لانچنگ اور ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے 10 مقامات کو فضائی اور ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
ڈرونز کی دراندازی
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ افغان سرزمین سے ڈرونز کی دراندازی دانستہ اور غیر قانونی کارروائی تھی، جسے پاکستان کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔
پاکستانی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے درانداز ڈرونز کا سراغ لگایا اور انہیں تباہ کردیا، یوں مبینہ حملے کو اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکام بنا دیا گیا۔
8 ڈرونز بھی مار گرائے گئے
پاکستانی مؤقف کے مطابق ایک روز قبل 23 ستمبر کو بھی پاکستان میں داخل ہونے والے 8 ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا تھا۔
حکام کے مطابق ان میں سے 4 ڈرونز طورخم کے قریب جبکہ مزید 4 کوہاٹ سے متصل پہاڑی علاقوں میں گرائے گئے۔
افغانستان میں 10 مقامات نشانہ
پاکستان کا کہنا ہے کہ ڈرونز کی مبینہ دراندازی کے جواب میں افغانستان میں ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں ڈرونز کی لانچنگ اور ذخیرہ کرنے کا انتظام موجود تھا۔
پاکستانی حکام کے مطابق کارروائی میں مجموعی طور پر 10 مقامات کو فضائی اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں دانستہ، درست اور متناسب نوعیت کی تھیں اور انہیں صرف ان فوجی اہداف تک محدود رکھا گیا جو پاکستان پر کیے گئے مبینہ ڈرون حملوں سے براہِ راست منسلک تھے۔
طالبان حکومت کو مسلسل آگاہ کیا
پاکستان نے کہا ہے کہ افغان طالبان حکومت اور اس کے رابطہ کاروں کو گزشتہ کئی برس سے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور ان کے معاون نیٹ ورکس کے بارے میں مسلسل تشویش سے آگاہ کیا جاتا رہا ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق ان نیٹ ورکس کے خلاف قابلِ اعتماد اور قابلِ تصدیق کارروائی کرنے کے بجائے صورتحال کو پاکستان کے خلاف ڈرون کارروائیوں کے ذریعے مزید کشیدہ کیا گیا۔
دو روز قبل بھی کارروائی
پاکستان نے اس سے دو روز قبل بھی افغانستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا۔پاکستانی حکام کے مطابق اس کارروائی میں 28 دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے۔
مزید حملوں پر فیصلہ کن جواب
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گرد گروہوں یا افغان طالبان حکومت کی جانب سے ہونے والے کسی بھی حملے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ پاکستان نے یہ بھی کہا کہ دھمکیاں، تردید یا ذمہ داری سے بچنے کی کوششیں اس کے اپنے دفاع کے حق کو محدود نہیں کرسکتیں۔
یہ بھی پڑھیں :افغانستان سے بلوچستان کی جانب بھیجے گئے 4 ڈرونز تباہ، اشتعال انگیزی برداشت نہیں کی جائے گی: آئی ایس پی آر
افغانستان سے مطالبہ
پاکستان نے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کے خلاف تمام دشمن سرگرمیاں فوری طور پر بند کی جائیں اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر، ٹھوس، قابلِ تصدیق اور مستقل کارروائی کی جائے۔
پاکستان نے واضح کیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں یا کسی بھی دشمنانہ کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
امن کے عزم کا اعادہ
پاکستان نے ساتھ ہی کہا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا اور علاقائی امن، مذاکرات اور تعمیری رابطے کے عزم پر قائم ہے۔
تاہم پاکستانی بیان میں واضح کیا گیا کہ اس پالیسی کو کمزوری یا دشمنانہ کارروائیوں کے لیے لامحدود برداشت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
خودمختاری کے تحفظ کا اعلان
پاکستان نے کہا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے پوری قوت اور عزم کے ساتھ اقدامات کرے گا۔
بیان کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے کسی بھی مزید اشتعال انگیز کارروائی کا مضبوط اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
