اجنبی کو گاڑی دینے کا فیصلہ، ایک کینیڈین ماں کی زندگی بدل دینے والی ملاقات

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر بیری میں رہنے والی مینون کرسٹینسن کے لیے ایک عام سی شام اس وقت غیر معمولی تجربے میں بدل گئی جب وہ اپنی بیٹی اینا کے ڈرائیونگ ٹیسٹ کے بعد امتحانی مرکز میں موجود تھیں۔ وہاں انہوں نے ایک ایسے شخص کی گفتگو سنی جو ڈرائیونگ ٹیسٹ دینے کے لیے گاڑی کا انتظام نہیں کرپا رہا تھا۔ اس شخص کے پاس کرائے کی گاڑی لینے کے لیے پیسے بھی نہیں تھے۔

مینون کے مطابق ان کی بیٹی نے حال ہی میں اپنا روڈ ٹیسٹ پاس کیا تھا اور دونوں کاغذی کارروائی مکمل ہونے کا انتظار کررہی تھیں کہ قریب ہی موجود کاؤنٹر سے ایک شخص کی بات سنائی دی۔ ڈرائیونگ ٹیسٹ سینٹر کی خاتون ملازمہ نے اسے بتایا کہ مرکز اس کے روڈ ٹیسٹ کے لیے گاڑی فراہم نہیں کرسکتا اور اسے گاڑی کرائے پر لینا ہوگی۔

اس شخص نے بتایا کہ اس کے پاس کرائے کی گاڑی کے لیے رقم نہیں۔ صورتحال ایک ایسے مقام پر پہنچ گئی جہاں اس کے پاس امتحان دینے کا راستہ ہی باقی نہیں رہا تھا۔

بیٹی نے ماں کو متوجہ کیا

مینون کے مطابق ان کی بیٹی اینا نے ان کی طرف ایسے دیکھا جیسے وہ بغیر کچھ کہے انہیں یاد دلا رہی ہو کہ ان کے پاس گاڑی موجود ہے، جبکہ سامنے کھڑے شخص کے پاس گاڑی نہیں۔

مینون نے سوچا کہ کسی اجنبی کو اپنی گاڑی دینا کوئی معمولی فیصلہ نہیں۔ گاڑی کو نقصان پہنچنے کا خطرہ، انشورنس کی ذمہ داری اور دیگر ممکنہ مسائل ذہن میں آرہے تھے۔ ان کے بقول عام طور پر سمجھ دار انسان ایسے معاملے میں محتاط رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔

لیکن اسی دوران انہوں نے خود کو اس شخص کی جگہ رکھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے سوچا کہ اگر کوئی شخص نئے ملک میں آیا ہو، یہاں زندگی شروع کرنے کی کوشش کررہا ہو اور ایک ڈرائیونگ لائسنس اس کے لیے روزگار کے مزید مواقع پیدا کرسکتا ہو تو اس کے لیے یہ امتحان کتنا اہم ہوسکتا ہے۔

نائجیریا سے کینیڈا تک سفر

وہ شخص گاڈون تھا، جو نائجیریا سے کینیڈا منتقل ہوا تھا اور اسے ملک میں آئے ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا تھا۔ اس نے ڈرائیونگ سیکھنے کے لیے سبق لیے تھے، ایک گاڑی کرائے پر لے کر پہلے روڈ ٹیسٹ میں حصہ لیا تھا لیکن وہ ناکام ہوگیا تھا۔

اس کے بعد وہ دوبارہ گاڑی نہیں چلا سکا تھا۔ اب اس کا اگلا روڈ ٹیسٹ اگلے ہی روز مقرر تھا اور اس کے لیے گاڑی کا انتظام سب سے بڑا مسئلہ بن چکا تھا۔

گاڈون نے مینون کو بتایا کہ ڈرائیونگ لائسنس حاصل ہونے سے اس کے لیے روزگار کے زیادہ مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ نئے ملک میں اپنی زندگی مستحکم کرنے کے لیے یہ لائسنس اس کے لیے محض ایک سرکاری دستاویز نہیں بلکہ بہتر مستقبل کی امید بھی تھا۔

مینون نے کچھ دیر سوچنے کے بعد اسے اپنی گاڑی روڈ ٹیسٹ کے لیے استعمال کرنے کی پیشکش کردی۔گاڈون نے حیرت اور تشکر کے ساتھ ان کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ کیا وہ واقعی اس کے ساتھ آئیں گی؟

ٹیسٹ سے پہلے ڈرائیونگ کی مشق

مینون اور ان کی بیٹی اینا نے فیصلہ کیا کہ وہ گاڈون کو اسی راستے پر گاڑی چلانے کی مشق کروائیں گی جہاں اینا اپنا ٹیسٹ دے چکی تھیں۔گاڈون گاڑی میں بیٹھا تو اس نے اپنی نشست مکمل طور پر پیچھے کردی اور پھر اسے مناسب جگہ پر لانے کا طریقہ تلاش کرنے لگا۔ وہ واضح طور پر گھبرایا ہوا تھا۔ اس نے گہری سانسیں لیں اور پارکنگ سے گاڑی نکالتے وقت ایک پیدل چلنے والے سے ٹکرانے کے قریب پہنچ گیا۔

مینون کو ایک لمحے کے لیے تشویش ہوئی کہ کہیں وہ اپنی گاڑی کے ساتھ خود کو اور اپنی بیٹی کو بھی خطرے میں تو نہیں ڈال رہیں۔ تاہم گاڈون نے آہستہ آہستہ اعتماد حاصل کرنا شروع کیا۔

یہ بھی پڑھیں :جی 7 اجلاس سے قبل ٹرمپ سمیت عالمی رہنماں کیخلاف ہزاروں افراد کا احتجاج

وہ اینا کے برعکس ڈرائیونگ کے دوران ملنے والی ہر نصیحت کو بہت توجہ سے سن رہا تھا۔ تین نکاتی یو ٹرن کی مشق کے دوران اس نے اشارے بھی غلط سمت میں دیے، تاہم مسلسل مشق سے اس کی ڈرائیونگ بہتر ہوتی گئی۔

گاڑی میں گفتگو کے دوران گاڈون نے اپنے ماضی اور نائجیریا کے شہر لاگوس میں زندگی کے بارے میں بتایا۔ اس نے 20 ملین سے زیادہ آبادی والے شہر کی تیز رفتار زندگی، روزگار کے لیے شدید مقابلے اور اپنے وطن کی یاد کا ذکر کیا۔اس کے باوجود کینیڈا کے بارے میں اس کے لہجے میں امید تھی۔ وہ نئے ملک میں اپنی زندگی بہتر بنانے کے لیے پرعزم تھا۔

روڈ ٹیسٹ کا فیصلہ کن دن

اگلے روز مینون اور گاڈون دوبارہ ڈرائیونگ ٹیسٹ سینٹر پہنچے۔ گاڈون کا امتحان لینے والی خاتون سخت چہرے کے ساتھ ان کی طرف بڑھی۔ جب مینون نے گاڑی کی چابیاں گاڈون کے حوالے کیں تو امتحان لینے والی خاتون نے انہیں واضح انداز میں کہا کہ وہ ٹیسٹ کے دوران مداخلت نہ کریں۔مینون کے لیے یہ جملہ شاید درست تھا، کیونکہ اب گاڈون کو خود ہی امتحان دینا تھا۔

وہ باہر کھڑی ہوکر نتیجے کا انتظار کرنے لگیں۔ تقریباً 20 منٹ بعد ان کے فون پر کال آئی۔ دوسری طرف سے صرف پرجوش اور ناقابلِ فہم آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

مینون نے فوراً خدشہ ظاہر کیا کہ شاید گاڈون کی گاڑی کو حادثہ پیش آگیا ہے۔ چونکہ گاڑی ان کی اپنی تھی، اس لیے ان کے ذہن میں حادثے، گاڑی کے نقصان اور انشورنس کے معاملات کے خیالات آنے لگے۔پھر اچانک انہوں نے گاڈون کو پارکنگ میں اپنی طرف آتے دیکھا۔

خوشی نے ساری تشویش ختم کردی

گاڈون نے اپنی بانہیں پھیلا رکھی تھیں اور وہ بے حد خوش دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے مینون کو دیکھتے ہی انہیں گلے لگا لیا۔مینون کے مطابق وہ خود اس اچانک جذباتی لمحے کے لیے تیار نہیں تھیں۔ ایک درمیانی عمر کی خاتون اور ایک نوجوان شخص کا اس طرح گلے ملنا شاید اردگرد موجود لوگوں کے لیے بھی غیر معمولی منظر تھا۔

لیکن گاڈون کی خوشی نے مینون کے دل پر بھی اثر کیا۔ گاڈون نے بتایا کہ وہ مشکل سے ہی سہی لیکن ڈرائیونگ ٹیسٹ پاس کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔اس کامیابی کا مطلب اس کے لیے بہت زیادہ تھا۔ اس نے مینون سے کہا کہ اب وہ انہیں ہمیشہ کے لیے اپنی دوست شمار کرے گا۔مینون کے لیے یہ جملہ ایک ایسے رشتے کی ابتدا تھی جس کا انہوں نے اس وقت تصور بھی نہیں کیا تھا جب وہ پہلی مرتبہ ڈرائیونگ ٹیسٹ سینٹر میں گاڈون کی بات سن رہی تھیں۔

نیکی اور اچھائی میں فرق

گھر واپس جاتے ہوئے مینون نے اس پورے واقعے کے بارے میں سوچا۔ انہیں احساس ہوا کہ ان کی بیٹی اینا نے انہیں ایک اہم سبق دیا ہے۔مینون کے مطابق کسی کے لیے اچھا سوچنا آسان ہے۔ کسی کے لیے ہمدردی محسوس کرنا بھی مشکل نہیں۔ لیکن حقیقی اچھائی اس وقت سامنے آتی ہے جب انسان کسی دوسرے کے لیے اپنی سہولت، وقت یا وسائل میں سے کچھ قربان کرنے پر آمادہ ہو۔

انہوں نے محسوس کیا کہ وہ عام طور پر لوگوں کی مدد کرنے کی خواہش تو رکھتی ہیں، لیکن ساتھ ہی اپنی زندگی کو دوسروں کے مسائل سے محفوظ رکھنے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔ اس واقعے نے انہیں دکھایا کہ بعض اوقات کسی اجنبی کی مدد کرنے کے لیے صرف اچھے ارادے کافی نہیں ہوتے بلکہ عملی قدم اٹھانا پڑتا ہے۔

گاڈون کے لیے ایک گاڑی کا دستیاب ہونا شاید چند گھنٹوں کا معاملہ تھا، لیکن اسی چھوٹی سی مدد نے اسے ڈرائیونگ ٹیسٹ دینے، لائسنس حاصل کرنے اور مستقبل میں مزید روزگار کے مواقع تلاش کرنے کا موقع فراہم کیا۔

مینون نے اس تجربے کو اپنی زندگی کا ایک ایسا لمحہ قرار دیا جس کی انہیں اس دن ضرورت کا اندازہ نہیں تھا۔ ان کے مطابق زیادہ تر دوستیاں پارکنگ میں شروع نہیں ہوتیں، لیکن ان کی اور گاڈون کی دوستی ایک ڈرائیونگ ٹیسٹ سینٹر کی پارکنگ سے شروع ہوئی۔

یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ بعض اوقات ایک معمولی سا فیصلہ کسی دوسرے شخص کے لیے بہت بڑی مدد بن سکتا ہے۔ گاڈون کے لیے یہ صرف ایک گاڑی کا استعمال نہیں تھا، بلکہ ایک اجنبی کی جانب سے اعتماد کا اظہار تھا۔ اور مینون کے لیے یہ اس بات کا سبق بن گیا کہ صرف اچھا انسان نظر آنا اور حقیقت میں کسی کے لیے اچھا قدم اٹھانا دو مختلف چیزیں ہیں۔

انہوں نے اپنی بیٹی سے سیکھا کہ دوسروں کے لیے اچھا سوچنا آسان ہے، مگر حقیقی نیکی اس وقت ہوتی ہے جب انسان ان کے لیے اپنی زندگی میں جگہ بنائے۔ شاید اسی لیے ایک اجنبی کو دی گئی گاڑی نے نہ صرف گاڈون کا ٹیسٹ آسان بنایا بلکہ مینون کو بھی زندگی کے بارے میں ایک نیا سبق سکھا دیا۔

ہمیں فالو کریں