اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا میں ایک جوڑے نے لاس ویگاس پہنچ کر شادی کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم ان کے لیے سفر ہی زندگی کا یادگار ترین لمحہ بن گیا۔
طیارے میں موجود عملے کو جب جوڑے کے شادی کے منصوبے کا علم ہوا تو انہوں نے دورانِ پرواز ہی دونوں کی شادی کی تقریب منعقد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
یہ دلچسپ واقعہ ساؤتھ ویسٹ ایئرلائنز کی ایک پرواز میں پیش آیا، جہاں دلہا اور دلہن نے طیارے میں موجود 178 مسافروں کے سامنے شادی کی۔ غیر متوقع تقریب نے پرواز میں موجود مسافروں کو بھی خوشگوار حیرت میں مبتلا کردیا۔
گھر سے بھاگ کر شادی کے لیے لاس ویگاس روانہ
رپورٹ کے مطابق سارہ مونتالو اور ان کے بوائے فرینڈ نے گھر سے روانہ ہوکر لاس ویگاس جانے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ وہاں شادی کی تقریب منعقد کرسکیں۔ جوڑے نے اس خاص دن کے لیے اپنی منزل کا انتخاب پہلے ہی کر رکھا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:
تاہم انہیں شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ لاس ویگاس پہنچنے سے پہلے ہی ان کی زندگی کا سب سے اہم لمحہ طیارے میں آ جائے گا۔ پرواز کے دوران عملے کو جب ان کے منصوبے کا علم ہوا تو انہوں نے جوڑے کو ایک منفرد سرپرائز دینے کا فیصلہ کیا۔
عملے نے دورانِ پرواز شادی کا اہتمام کردیا
جوڑے کے شادی کے منصوبے سے آگاہ ہونے کے بعد فلائٹ اٹینڈنٹس نے فوری طور پر ایک مختصر مگر دلچسپ شادی کی تقریب کی تیاری شروع کردی۔ طیارے میں دستیاب محدود وسائل کو استعمال کرتے ہوئے دلہن اور دولہا کے لیے تقریب کو یادگار بنانے کی کوشش کی گئی۔
اس دوران پرواز میں موجود دیگر مسافروں کو بھی اس غیر معمولی شادی میں شریک ہونے کا موقع ملا۔ 178 مسافروں کے سامنے ہونے والی اس تقریب نے پورے طیارے کے ماحول کو خوشی اور مسکراہٹوں سے بھر دیا۔
پائلٹ نے مکمل کرائیں شادی کی رسومات
اس منفرد تقریب کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ طیارے کے پائلٹ نے شادی کی رسومات مکمل کرائیں۔ دورانِ پرواز پائلٹ نے جوڑے کو شادی کے بندھن میں باندھنے کے لیے تقریب کی میزبانی کی، جبکہ مسافروں اور عملے نے تالیاں بجا کر دونوں کو مبارک باد دی۔
عام طور پر طیارے میں مسافر سفر کے دوران اپنی منزل تک پہنچنے کے منتظر رہتے ہیں، لیکن اس پرواز کے مسافروں کو ایک ایسی تقریب کا حصہ بننے کا موقع ملا جو ان کے لیے بھی ایک یادگار تجربہ بن گئی۔
ٹوائلٹ پیپر سے دلہن کا عروسی لباس تیار
چونکہ جوڑے نے دورانِ پرواز شادی کی منصوبہ بندی نہیں کی تھی، اس لیے ان کے پاس روایتی عروسی لباس بھی موجود نہیں تھا۔ تاہم طیارے کے عملے نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے دستیاب چیزوں سے دلہن کے لیے عروسی لباس تیار کردیا۔
فلائٹ اٹینڈنٹس نے ٹوائلٹ پیپر استعمال کرکے دلہن کے لیے ایک منفرد عروسی لباس تیار کیا۔ محدود وسائل میں تیار کیا گیا یہ لباس تقریب کی خاص توجہ بن گیا اور اس نے شادی کو مزید دلچسپ بنا دیا۔
کافی کپ کی اسٹکس سے گلدستہ تیار
دلہن کے عروسی لباس کے ساتھ ساتھ پھولوں کے گلدستے کا بھی انتظام کیا گیا، تاہم اس کے لیے بھی طیارے میں موجود اشیا ہی استعمال کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق ہاتھ میں پکڑے جانے والے گلدستے کے لیے کافی کپ کے ساتھ استعمال ہونے والی اسٹکس کو استعمال کیا گیا۔ عملے کی اس کوشش نے سادہ سی تقریب کو ایک منفرد اور مزاحیہ رنگ دے دیا۔
178 مسافر تقریب کے گواہ بن گئے
جوڑے کی شادی کے وقت طیارے میں موجود 178 مسافر اس غیر معمولی تقریب کے گواہ بنے۔ مسافروں نے بھی جوڑے کی حوصلہ افزائی کی اور شادی کے اس اچانک پروگرام میں بھرپور دلچسپی لی۔
دورانِ پرواز ہونے والی اس تقریب نے نہ صرف دلہا اور دلہن کے لیے سفر کو یادگار بنایا بلکہ دیگر مسافروں کے لیے بھی یہ ایک ایسا تجربہ بن گیا جسے وہ طویل عرصے تک یاد رکھ سکتے ہیں۔
سارہ مونتالو نے عملے کا شکریہ ادا کیا
شادی کے بعد سارہ مونتالو نے اس غیر متوقع تقریب پر خوشی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قسمت اس سے زیادہ ان کا ساتھ نہیں دے سکتی تھی۔
انہوں نے طیارے کے عملے کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ان کے سفر کو ایک عام فضائی سفر کے بجائے زندگی کے یادگار ترین دن میں تبدیل کردیا۔
سارہ کے مطابق عملے کی جانب سے کی جانے والی یہ کوشش ان کے لیے انتہائی خاص تھی، کیونکہ انہیں توقع نہیں تھی کہ لاس ویگاس پہنچنے سے پہلے ہی ان کی شادی کی تقریب اس انداز میں منعقد ہوجائے گی۔
لاس ویگاس میں بھی رسمی تقریب کی منصوبہ بندی
دلچسپ بات یہ ہے کہ جوڑے نے طیارے میں ہونے والی تقریب کے باوجود اپنی منزل پر شادی کی رسمی تقریب کا منصوبہ منسوخ نہیں کیا۔ دونوں پہلے ہی امریکی ریاست نویڈا کے شہر لاس ویگاس میں شادی کی رسمی تقریب کی منصوبہ بندی کرچکے تھے۔
یہ بھی پڑھیں :
سعودی خاندان کی شادی کے لیے 500 کلو وزنی دیوہیکل کیک تیار
یوں طیارے میں ہونے والی تقریب ان کے لیے ایک غیر متوقع اور یادگار اضافہ بن گئی، جبکہ لاس ویگاس پہنچنے کے بعد طے شدہ تقریب بھی ان کے منصوبے کا حصہ رہی۔
دورانِ پرواز شادی کی قانونی حیثیت واضح نہیں
اس واقعے کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ طیارے میں ہونے والی شادی کی قانونی حیثیت کے حوالے سے واضح معلومات سامنے نہیں آئیں۔ امریکی ریاست نویڈا میں شادی کے لیے مخصوص قانونی تقاضے موجود ہیں، اس لیے طیارے میں پائلٹ کی جانب سے کرائی گئی تقریب کو قانونی شادی تصور کیا جائے گا یا نہیں، یہ الگ معاملہ ہے۔
تاہم جوڑے نے پہلے ہی لاس ویگاس میں رسمی شادی کی منصوبہ بندی کررکھی تھی، اس لیے طیارے میں ہونے والی تقریب کو زیادہ تر ایک یادگار اور علامتی تقریب کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
عام سفر ایک یادگار شادی میں تبدیل ہوگیا
سارہ مونتالو اور ان کے ساتھی نے جس سفر کا آغاز لاس ویگاس میں شادی کے ارادے سے کیا تھا، وہ راستے ہی میں ایک غیر معمولی شادی کی تقریب میں تبدیل ہوگیا۔ عملے کی فوری سوچ، دستیاب اشیا سے تیار کیے گئے عروسی لباس اور گلدستے، پائلٹ کی جانب سے شادی کی رسومات اور 178 مسافروں کی موجودگی نے اس واقعے کو منفرد بنا دیا۔
جوڑے کے لیے یہ پرواز یقیناً ایسی یاد بن گئی جسے وہ اپنی زندگی بھر نہیں بھول سکیں گے، جبکہ طیارے میں موجود مسافروں کو بھی ایک عام فضائی سفر کے دوران ایک غیر معمولی شادی کی تقریب دیکھنے کا موقع مل
