اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)بھارتی اداکارہ انترا بینرجی کی زندگی میں اس وقت اچانک ہلچل مچ گئی جب ایک سنگین فوجداری مقدمے میں مبینہ طور پر گرفتار ہونے والی ایک خاتون کی غلط شناخت کے باعث اداکارہ کا نام اور تصویر سوشل میڈیا پر پھیل گئی۔ ایک ہی دن میں پھیلنے والی اس غلط خبر نے انترا کو نہ صرف ذہنی پریشانی میں مبتلا کردیا بلکہ انہیں اپنے اہلخانہ، دوستوں اور جاننے والوں کو بار بار وضاحت دینا پڑی کہ وہ اس واقعے میں ملوث نہیں ہیں۔
اداکارہ کے مطابق انہیں اس غلط شناخت کا علم اتوار کی صبح اس وقت ہوا جب وہ جم جانے کے لیے گھر سے نکل رہی تھیں۔ اسی دوران انہیں پہلی فون کال موصول ہوئی اور اس کے بعد فون رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ انترا کا کہنا ہے کہ انہیں دن بھر میں 400 سے زائد فون کالز موصول ہوئیں، جن میں لوگ ان سے اس خبر کے بارے میں سوال کرتے رہے۔
ایک خبر نے سب کچھ بدل دیا
انترا کے مطابق صبح کے وقت ایک آن لائن خبر میں ان کا نام استعمال کیا گیا، تاہم معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب رات تک یہی خبر ان کی تصویر کے ساتھ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے لگی۔
یوں ایک معمولی سی معلوم ہونے والی شناختی غلطی دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسی خبر میں تبدیل ہوگئی جس میں اداکارہ کو ایک سنگین مقدمے سے جوڑ دیا گیا۔
یہ صورتحال اس بات کی واضح مثال بھی بن گئی کہ موجودہ دور میں کسی شخص کے بارے میں غلط معلومات کتنی تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔ ایک ویب سائٹ پر شائع ہونے والی غلط معلومات جب سوشل میڈیا پر پہنچتی ہیں تو چند گھنٹوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتی ہیں اور پھر اصل حقیقت سامنے آنے کے باوجود اس کے اثرات ختم کرنا آسان نہیں رہتا۔
اصل میں گرفتار کون ہوئی؟
دستیاب تفصیلات کے مطابق یہ معاملہ اداکارہ انترا بینرجی کا نہیں بلکہ انترا سوہَم بینرجی نامی ایک خاتون کا تھا۔اطلاعات کے مطابق مذکورہ خاتون کو 12 اگست کو ایک ٹرین میں ریلوے پروٹیکشن فورس کے اہلکاروں کے ساتھ مبینہ جھگڑے اور بعد ازاں بلیڈ سے حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ واقعے کے سلسلے میں ایف آئی آر بھی درج کی گئی۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب ملزمہ کی شناخت سے متعلق خبر میں اداکارہ کا نام استعمال ہوگیا اور بعد میں ان کی تصویر بھی اس خبر کے ساتھ سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی۔
نام ایک، شناخت الگ
انترا بینرجی نے بعد میں وضاحت کی کہ ان کا اور مبینہ ملزمہ کا نام ایک جیسا یا ملتا جلتا ضرور ہے، لیکن دونوں کی شناخت الگ ہے۔
اداکارہ کے مطابق ایف آئی آر میں درج خاتون کے نام میں ’’سوہَم‘‘ شامل ہے جبکہ ان کا اپنا نام صرف انترا بینرجی ہے۔ اس کے علاوہ دونوں خواتین کے والد کے نام بھی مختلف ہیں۔
اداکارہ نے بتایا کہ مبینہ ملزمہ کے والد کا نام سوہَم بتایا گیا ہے جبکہ ان کے اپنے والد کا نام سبرتا بینرجی ہے۔رہائشی پتے بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ انترا کے مطابق وہ جوگیشوری، اندھیری ویسٹ میں رہتی ہیں جبکہ ایف آئی آر میں درج خاتون کا پتہ تھانے کا بتایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :بھارتی اداکارہ رمیا کوریپ اور قتل کی دھمکیاں،بھارتی پولیس نے دو افراد کو گرفتار کر لیا
تصدیق نہ ہونے کا سوال
اس واقعے نے صحافتی ذمہ داری اور معلومات کی تصدیق کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔انترا کا سوال ہے کہ کسی فرد کا نام اور تصویر کسی سنگین جرم کے ساتھ جوڑنے سے پہلے اس کی شناخت کی مناسب تصدیق کیوں نہیں کی گئی؟
فوجداری مقدمات میں شناخت معمولی معاملہ نہیں ہوتی۔ کسی شخص کو جرم کے ساتھ جوڑنے سے اس کی شہرت، روزگار، خاندان اور سماجی زندگی براہ راست متاثر ہوسکتی ہے۔
خاص طور پر کسی معروف شخصیت کے معاملے میں خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے کیونکہ ان کی تصاویر اور نام سوشل میڈیا صارفین کے لیے پہلے ہی قابل شناخت ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں ایک غلط خبر چند گھنٹوں میں وسیع پیمانے پر پھیل سکتی ہے۔
400 کالز کا دباؤ
انترا کے لیے اس غلط شناخت کا سب سے پریشان کن پہلو مسلسل آنے والی فون کالز تھیں۔ان کے مطابق انہیں 400 سے زیادہ فون کالز موصول ہوئیں اور انہیں بار بار یہ وضاحت کرنا پڑی کہ خبر میں جس خاتون کا ذکر کیا گیا ہے وہ وہ نہیں ہیں۔
یہ صورتحال اس ذہنی دباؤ کو بھی ظاہر کرتی ہے جو کسی شخص کو اچانک اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش میں برداشت کرنا پڑتا ہے۔
ایک طرف اداکارہ کو اپنے پیشہ ورانہ معاملات دیکھنے تھے اور دوسری جانب انہیں اپنے گھر والوں اور جاننے والوں کو یقین دلانا پڑ رہا تھا کہ وہ کسی مقدمے میں گرفتار نہیں ہوئی ہیں۔
خاندان کی فکر
اداکارہ کا کہنا ہے کہ اس پورے معاملے میں انہیں اپنی شہرت سے زیادہ اپنے والدین کی فکر ہے۔غلط خبر کے باعث خاندان کے افراد کے لیے بھی صورتحال پریشان کن ہوسکتی ہے، خصوصاً جب کسی معروف شخصیت کو کسی سنگین جرم سے جوڑ دیا جائے۔
انترا کو خدشہ ہے کہ ایسی معلومات نہ صرف ان کے خاندان کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتی ہیں بلکہ ان کے پیشہ ورانہ مستقبل کو بھی متاثر کرسکتی ہیں۔
قانونی کارروائی پر غور
غلط شناخت کے معاملے کو درست کروانے کے لیے اداکارہ متعلقہ افراد سے رابطے میں ہیں۔انترا کے مطابق وہ چاہتی ہیں کہ غلط خبر فوری طور پر ہٹائی جائے یا کم از کم واضح طور پر تردید اور وضاحت جاری کی جائے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوسکے کہ گرفتار ہونے والی خاتون وہ نہیں ہیں۔اداکارہ اپنی ساکھ کے تحفظ کے لیے باقاعدہ شکایت درج کرانے اور ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے پر بھی غور کررہی ہیں۔
سوشل میڈیا کا خطرناک پہلو
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا پر خبر کی رفتار اس کی تصدیق سے کہیں زیادہ تیز ہوچکی ہے۔ایک بار کسی شخص کا نام کسی جرم کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو بعد میں وضاحت جاری کرنا ہمیشہ کافی نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ پہلی خبر دیکھ کر اپنی رائے قائم کرلیتے ہیں اور بعد کی تردید ان تک پہنچ ہی نہیں پاتی۔
انترا بینرجی کا معاملہ اسی مسئلے کی ایک نمایاں مثال ہے۔ ایک خاتون کے خلاف درج مقدمے کی خبر دوسری خاتون کی شناخت بن گئی اور چند ہی گھنٹوں میں ایک اداکارہ کو اپنے ہی خلاف پھیلنے والی خبر کی تردید کرنا پڑی۔
