البرٹا علیحدگی ریفرنڈم پر بڑا تنازع، پریمیئر ڈینیئل اسمتھ اور یو سی پی صدر آمنے سامنے

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا میں علیحدگی کے سوال پر سیاسی تنازع شدت اختیار کرگیا ہے۔ یونائیٹڈ کنزرویٹو پارٹی (UCP) کے صدر روب اسمتھ کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد پریمیئر ڈینیئل اسمتھ کو واضح طور پر کہنا پڑا کہ ان کی حکومت البرٹا کو کینیڈا سے الگ کرنے کی مہم نہیں چلا رہی۔

یو سی پی صدر کی پوسٹ

یو سی پی صدر روب اسمتھ نے اپنی فیس بک پوسٹ میں حکومت کے طرزعمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے بہت سے ارکان حکومتی پالیسیوں سے ناخوش ہیں۔

انہوں نے یہ بھی تاثر دیا کہ پارٹی کے حامیوں کے ایک بڑے حصے میں البرٹا کی علیحدگی کی حمایت موجود ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے ریفرنڈم سے قبل شروع کی گئی 40 لاکھ ڈالر کی تشہیری مہم کو بعض حلقے البرٹا کی علیحدگی کے بجائے ’’متحد کینیڈا میں خودمختار البرٹا‘‘ کے تصور کی حمایت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

اشتہاری مہم پر سوال

روب اسمتھ نے اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ پریمیئر ڈینیئل اسمتھ جانتی تھیں کہ حکومتی اشتہارات کو کس انداز میں سمجھا جائے گا۔ان کے مطابق پریمیئر نے انہیں بتایا تھا کہ حکومت کی ترجیح ریفرنڈم کے پہلے نو سوالات پر ’’ہاں‘‘ کے ووٹ حاصل کرنا ہے۔ یہ سوالات امیگریشن پالیسی، صوبائی اختیارات اور مختلف آئینی اصلاحات سے متعلق ہیں۔

روب اسمتھ نے کہا کہ اشتہاری مہم میں ’’تمام نو سوالات پر ہاں‘‘ کے پیغام کو نمایاں کیا گیا جبکہ دسویں سوال، جو کینیڈا میں رہنے یا مستقبل میں علیحدگی کے لیے آئینی عمل شروع کرنے سے متعلق ہے، کے بارے میں نسبتاً کم تشہیر کی گئی۔

ڈینیئل اسمتھ کا دوٹوک جواب

پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے پیر کو ایئرڈری میں گفتگو کرتے ہوئے روب اسمتھ کے مؤقف کو مسترد کردیا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت علیحدگی کے سوال پر جان بوجھ کر غیرجانبدار پیغام دے رہی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ درست نہیں ہے۔

ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ حکومت کی تشہیری مہم بنیادی طور پر ان نو سوالات پر مرکوز ہے جن پر وہ البرٹا کے عوام سے مینڈیٹ لینا چاہتی ہیں۔

البرٹا کو کینیڈا میں رکھنے کا مؤقف

پریمیئر نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ان کا مؤقف البرٹا کو کینیڈا کا حصہ برقرار رکھنے کے حق میں ہے۔ان کے مطابق حکومت، کابینہ اور پارٹی ’’متحد کینیڈا میں خودمختار البرٹا‘‘ کے اصول کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ البرٹا میں اس وقت پالیسی کے حوالے سے کھلی بحث جاری ہے اور اگر عوام چاہتے ہیں کہ حکومت اپنا راستہ تبدیل کرے تو وہ ووٹ کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرسکتے ہیں۔

این ڈی پی کی شدید تنقید

اس تنازع پر البرٹا این ڈی پی نے بھی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔پارٹی کی ڈپٹی لیڈر راکھی پنچولی نے کہا کہ پریمیئر اور یو سی پی صدر کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات میں واضح تضاد ہے۔

ان کے مطابق روب اسمتھ کے بیانات این ڈی پی کے اس مؤقف کو تقویت دیتے ہیں کہ ڈینیئل اسمتھ عوام سے واضح طور پر کینیڈا کے ساتھ رہنے کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل نہیں کر رہیں۔این ڈی پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ یو سی پی اپنے علیحدگی سے متعلق مؤقف کو واضح کرے اور عوام کے سامنے اس معاملے پر کھل کر بات کرے۔

ریفرنڈم میں 10 سوالات

البرٹا حکومت نے فروری میں ریفرنڈم کا منصوبہ پیش کیا تھا۔ ابتدا میں نو سوالات شامل کیے گئے تھے، جن میں امیگریشن کنٹرول، صوبائی پروگراموں کے لیے اہلیت، عارضی رہائشیوں سے فیس، ووٹ ڈالنے کے لیے شہریت کے ثبوت اور آئینی اصلاحات جیسے معاملات شامل تھے۔ان میں سینیٹ کے خاتمے اور صوبوں کو اپنے جج مقرر کرنے کی اجازت دینے سے متعلق تجاویز بھی شامل ہیں۔

بعد ازاں مئی میں دسویں سوال کو ریفرنڈم کا حصہ بنایا گیا۔ اس سوال میں عوام سے پوچھا جائے گا کہ آیا البرٹا کو کینیڈا کا حصہ برقرار رہنا چاہیے یا مستقبل میں علیحدگی کے ریفرنڈم کی جانب آئینی اقدامات شروع کیے جائیں۔ڈینیئل اسمتھ پہلے ہی کہہ چکی ہیں کہ وہ البرٹا کے کینیڈا میں رہنے کے حق میں مہم چلائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں :البرٹا کی کینیڈا سے علیحدگی کتنی مہنگی پڑے گی؟ نئی رپورٹ میں 170 ارب ڈالر تک اخراجات کا انکشاف

40 لاکھ ڈالر کی مہم

حکومت نے 10 ستمبر سے 40 لاکھ ڈالر کی تشہیری مہم شروع کی ہے۔ اس مہم میں ٹیلی ویژن، ریڈیو، آن لائن اشتہارات، بل بورڈز اور مختلف علاقوں میں بھیجے جانے والے معلوماتی کتابچے شامل ہیں۔مہم کو ایڈمنٹن، کیلگری اور دیہی البرٹا کے لیے مختلف انداز میں ترتیب دیا گیا ہے۔

19 اکتوبر کو فیصلہ

البرٹا میں ریفرنڈم 19 اکتوبر کو ہوگا۔ انتخابات کے حکام کے مطابق دسوں سوالات مختلف رنگوں کے بیلٹ پر شامل ہوں گے۔انتخابی عمل کے لیے تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ بیلٹ پیپرز کی چھپائی اور 90 ہزار تک انتخابی اہلکاروں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

دوسری جانب ڈینیئل اسمتھ کو پارٹی میں قیادت کے جائزے کے مطالبات کا بھی سامنا ہے۔ پریمیئر نے کہا ہے کہ وہ قیادت سے متعلق اس معاملے پر 19 اکتوبر کے ریفرنڈم کے بعد بات کریں گی۔

ہمیں فالو کریں