البرٹا ریفرنڈم: ووٹ ڈالنے کے لیے 1400 سے زائد پولنگ اسٹیشن قائم، 5 لاکھ سے زیادہ درخواستیں

اردو ورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا میں 19 اکتوبر کو ہونے والے اہم ریفرنڈم کی تیاریاں تیز کردی گئی ہیں۔ انتخابی حکام نے ووٹرز کے لیے 1400 سے زائد پولنگ اسٹیشنز کے مقامات جاری کردیے ہیں، جس کے بعد اب البرٹا کے شہری یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ ریفرنڈم کے روز انہیں اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے کہاں جانا ہوگا۔

پولنگ اسٹیشنز کی تفصیلات جاری

البرٹا کے انتخابی ادارے نے ووٹرز کو پولنگ اسٹیشن تلاش کرنے کی سہولت فراہم کردی ہے۔ شہری انتخابات کے ادارے کی ویب سائٹ پر جاکر اپنا رہائشی پتہ درج کرکے اپنے متعلقہ پولنگ اسٹیشن کی معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔

جن ووٹرز نے یہ معلومات آن لائن حاصل نہیں کرنی، انہیں ڈاک کے ذریعے ’’Where to Vote‘‘ کارڈ بھی موصول ہوگا، جس میں ان کے پولنگ اسٹیشن سے متعلق تفصیلات درج ہوں گی۔

19 اکتوبر کو ووٹنگ

البرٹا میں ریفرنڈم کے لیے باقاعدہ ووٹنگ 19 اکتوبر کو ہوگی۔ اس ریفرنڈم میں صوبے کے عوام سے مجموعی طور پر 10 سوالات پوچھے جائیں گے۔

ان سوالات میں صوبائی اختیارات، امیگریشن، آئینی معاملات اور البرٹا کے مستقبل سے متعلق اہم تجاویز شامل ہیں۔ سب سے زیادہ توجہ دسویں سوال پر ہے، جس میں ووٹرز سے پوچھا جائے گا کہ آیا البرٹا کو کینیڈا کا حصہ برقرار رہنا چاہیے یا مستقبل میں کینیڈین وفاق سے علیحدگی کے لیے دوسرا اور لازمی نوعیت کا ووٹ کرانے کی سمت آئینی عمل شروع کیا جائے۔

ایڈوانس ووٹنگ بھی ہوگی

وہ شہری جو 19 اکتوبر کو ووٹ نہیں ڈال سکیں گے، ان کے لیے پہلے ہی ووٹ ڈالنے کی سہولت بھی موجود ہوگی۔انتخابی حکام کے مطابق ایڈوانس ووٹنگ 13 سے 17 اکتوبر تک جاری رہے گی۔ اس مقصد کے لیے صوبے بھر میں 310 پولنگ اسٹیشن قائم کیے جائیں گے۔

کسی بھی اسٹیشن پر ووٹ

ایڈوانس ووٹنگ کے حوالے سے ایک اہم بات یہ ہے کہ ووٹرز اپنی سہولت کے مطابق کسی بھی مقررہ پولنگ اسٹیشن پر جاکر ووٹ ڈال سکیں گے۔

اس سہولت کا مقصد ان افراد کے لیے ووٹنگ کو آسان بنانا ہے جو ریفرنڈم کے اصل دن اپنی رہائش گاہ کے قریب موجود نہ ہوں یا کسی دوسری وجہ سے 19 اکتوبر کو ووٹ ڈالنے میں مشکلات کا سامنا کرسکتے ہوں۔

ریکارڈ ٹرن آؤٹ کی توقع

انتخابی حکام نے ریفرنڈم میں ووٹر ٹرن آؤٹ کے حوالے سے خاصی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ 10 سوالات پر مشتمل اس ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد ریکارڈ سطح تک پہنچ سکتی ہے۔

ریفرنڈم میں شامل مختلف سوالات کے باعث صوبے بھر میں سیاسی اور عوامی بحث جاری ہے، جبکہ البرٹا کے مستقبل اور کینیڈا کے ساتھ اس کے تعلقات سے متعلق سوال کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں :البرٹا ریفرنڈم، پولنگ اسٹیشنز پر لمبی قطاروں کا خدشہ

علیحدگی کا سوال

ریفرنڈم کا دسویں سوال البرٹا کے کینیڈا کے ساتھ مستقبل سے متعلق ہے۔اس سوال کے ذریعے ووٹرز سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ کینیڈا میں رہنے کے حق میں ہیں یا صوبے کو وفاق سے الگ کرنے کے لیے مستقبل میں ایک علیحدہ اور پابند ووٹ کی جانب آئینی اقدامات شروع کیے جائیں۔

اس سوال نے البرٹا میں سیاسی بحث کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے پہلے ہی واضح کیا جاچکا ہے کہ پریمیئر ڈینیئل اسمتھ البرٹا کو کینیڈا کا حصہ برقرار رکھنے کے مؤقف کی حمایت کرتی ہیں۔

ڈاک کے ذریعے ووٹ

ریفرنڈم میں ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے خواہش مند افراد کے لیے درخواست دینے کی آخری تاریخ بھی قریب آگئی ہے۔

انتخابی حکام کے مطابق جمعہ ڈاک کے ذریعے ووٹ دینے کے لیے درخواست جمع کرانے کا آخری دن ہے۔ گزشتہ ہفتے تک 5 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد پہلے ہی میل ان بیلٹ کے لیے درخواستیں جمع کراچکے تھے۔

ووٹرز کے لیے اہم مرحلہ

البرٹا میں 19 اکتوبر کا ریفرنڈم صوبے کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے اہم ووٹنگ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ 1400 سے زائد عام پولنگ اسٹیشنز، 310 ایڈوانس ووٹنگ مراکز اور ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی بڑی تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انتخابی حکام بڑے پیمانے پر ووٹر شرکت کے لیے انتظامات کررہے ہیں۔

اب ووٹرز اپنے پولنگ اسٹیشن کی معلومات حاصل کرکے 19 اکتوبر یا ایڈوانس ووٹنگ کے دوران اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکیں گے۔

ہمیں فالو کریں