بی سی کنزرویٹو پارٹی میں بڑا بحران، کیری لین فائنڈلے قیادت سے مستعفی

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کی کنزرویٹو پارٹی کی رہنما کیری لین فائنڈلے نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا استعفیٰ فوری طور پر نافذ العمل ہوگیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پارٹی اندرونی اختلافات، ارکان اسمبلی کی علیحدگی اور ممکنہ قبل از وقت صوبائی انتخابات کی قیاس آرائیوں کے باعث شدید سیاسی ہلچل کا شکار ہے۔

فائنڈلے نے اتوار کی سہ پہر سوشل میڈیا پر اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، تاہم ان کے خیال میں پارٹی اور صوبے کے مفاد کے لیے یہی درست فیصلہ ہے۔

اندرونی اختلافات

فائنڈلے نے اپنے بیان میں کہا کہ پارٹی میں اندرونی تنازعات پر بہت زیادہ وقت اور توجہ صرف ہو رہی تھی اور ارکان ایک دوسرے کے خلاف لڑائی میں مصروف ہوگئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ مئی میں انہیں پارٹی ارکان نے قیادت کے لیے منتخب کیا تھا اور ان ارکان کی آواز کی اہمیت برقرار رہنی چاہیے۔فائنڈلے کا کہنا تھا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو اپنے ارکان سے وقت، مالی تعاون اور اعتماد لینے کے بعد یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہیے کہ ان کی آواز صرف اسی وقت اہم ہوگی جب وہ مطلوبہ نتیجہ سامنے لائیں۔

ایک اور رکن کی علیحدگی

فائنڈلے کے استعفے سے چند گھنٹے قبل رکن اسمبلی لنڈا ہیپنر نے بھی کنزرویٹو پارٹی کے پارلیمانی دھڑے سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔

ہیپنر کی روانگی کے بعد فائنڈلے کے پارٹی رہنما بننے کے بعد کنزرویٹو کاکس چھوڑنے والے ارکان کی تعداد 14 ہوگئی ہے۔ پارٹی کے اندر اختلافات کئی ہفتوں سے بڑھ رہے تھے اور متعدد ارکان فائنڈلے کی قیادت پر سوال اٹھا رہے تھے۔

استعفے کی وجوہات

فائنڈلے نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ انہیں ذاتی کردار پر حملوں اور دھمکیوں کا سامنا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے بچے اور پوتے بھی ان کے بارے میں لکھی اور کہی جانے والی باتیں دیکھتے ہیں، جبکہ عوامی زندگی میں کیے جانے والے فیصلوں کے اثرات ان کے خاندان کو بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

تاہم فائنڈلے نے واضح کیا کہ وہ 26 ستمبر کو ہونے والے ایبٹس فورڈ مشن ضمنی انتخاب میں کنزرویٹو امیدوار کے طور پر برقرار رہیں گی۔

یہ بھی پڑھیں :سمرلینڈ کے قریب تباہ کن جنگلاتی آگ، بی سی کے پریمیئر کا ہنگامی ردعمل کا جائزہ لینے کا اعلان

قیادت کون سنبھالے گا؟

فائنڈلے کے استعفے کے بعد فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ پارٹی کی عبوری قیادت کس کے پاس جائے گی۔پارٹی کی سابق صدر عائشہ ایسٹی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایسا رہنما سامنے آسکتا ہے جو پارٹی کے مختلف دھڑوں کو ایک ساتھ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

ان کے مطابق مختلف نظریات رکھنے والے گروہوں کو ایک بڑی سیاسی جماعت میں متحد رکھنا آسان کام نہیں، اس لیے نئے رہنما کے لیے باہمی احترام اور فیصلہ سازی کی صلاحیت اہم ہوگی۔

رسٹڈ کا مؤقف

پارٹی کے سابق رہنما جان رسٹڈ، جنہیں گزشتہ سال کاکس کی بغاوت کے بعد قیادت سے ہٹا دیا گیا تھا، نے بھی موجودہ صورتحال کو مشکل قرار دیا۔

رسٹڈ نے پارٹی کو مختلف سیاسی خیالات رکھنے والے افراد پر مشتمل ’’بڑے خیمے‘‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسی جماعت میں مختلف گروہوں کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرنا چیلنجز پیدا کرسکتا ہے۔

14 ارکان پارٹی سے الگ

فائنڈلے کی قیادت سنبھالنے کے بعد مجموعی طور پر 14 ارکان بی سی کنزرویٹو کاکس سے الگ ہوچکے ہیں۔ان میں سے آٹھ ارکان نے جمعہ کو نئی سیاسی تنظیم CentreBC میں شمولیت اختیار کی۔ ان ارکان کا کہنا ہے کہ یہ پلیٹ فارم ان لوگوں کے لیے سیاسی راستہ فراہم کرے گا جو خود کو موجودہ سیاسی صورتحال میں بے گھر محسوس کرتے ہیں۔

فائنڈلے کی قیادت کو حالیہ عرصے میں ان کے بعض اسٹاف کی تقرریوں پر بھی تنقید کا سامنا رہا۔ علیحدہ ہونے والے بعض ارکان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان تقرریوں سے پارٹی کا رخ مزید دائیں بازو کی جانب گیا۔

رسٹڈ سمیت تین ارکان برطرف

بدھ کی رات ہونے والے کشیدہ کاکس اجلاس میں جان رسٹڈ اور کلیئر رٹی سمیت بعض ارکان نے فائنڈلے سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

فائنڈلے نے اگلے روز اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ عہدہ چھوڑنے والی نہیں ہیں۔تاہم جمعرات کی رات انہوں نے جان رسٹڈ، کلیئر رٹی اور ٹریور ہالفورڈ کو پارٹی سے نکال دیا۔ رسٹڈ کے مطابق انہیں رات گئے ٹیکسٹ پیغام کے ذریعے برطرف کیے جانے کی اطلاع دی گئی، جسے کچھ دیر بعد واپس لیا گیا، تاہم اگلی صبح دوبارہ برطرفی کا فیصلہ کردیا گیا۔

قبل از وقت انتخابات کی بحث

فائنڈلے کا استعفیٰ ایسے وقت میں آیا ہے جب برٹش کولمبیا کے پریمیئر ڈیوڈ ایبی کی جانب سے قبل از وقت صوبائی انتخابات کرانے کی قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں۔

صوبے میں بلدیاتی انتخابات 17 اکتوبر کو شیڈول ہیں اور ممکنہ صوبائی انتخابات ان کے ساتھ ٹکراؤ پیدا کرسکتے ہیں۔سیاسیات کے ماہر ہیمش ٹیلفورڈ کے مطابق ایسے وقت میں انتخابات کرانا غیر معمولی ہوگا جب صوبے کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کی مستقل قیادت موجود نہ ہو۔

اب بی سی کنزرویٹو پارٹی کو نہ صرف نئی قیادت کا فیصلہ کرنا ہوگا بلکہ اندرونی اختلافات اور بڑی تعداد میں ارکان کی علیحدگی کے بعد اپنی سیاسی حکمت عملی بھی دوبارہ ترتیب دینا ہوگی۔

ہمیں فالو کریں