کینیڈین پارلیمنٹ 3 ماہ بعد بحال، امریکا سے تجارتی جنگ اور یورپی یونین سے نئے تعلقات اہم موضوعات

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی پارلیمنٹ تین ماہ کے وقفے کے بعد پیر سے دوبارہ کام شروع کر رہی ہے، جہاں امریکا کے ساتھ جاری تجارتی کشیدگی، یورپی یونین سے قریبی تعلقات بڑھانے کی وزیراعظم مارک کارنی کی کوششیں اور ملک میں بڑھتے اخراجات اہم سیاسی موضوعات ہوں گے۔

پارلیمانی اجلاس ایسے وقت میں شروع ہو رہا ہے جب وزیراعظم مارک کارنی کی بین الاقوامی پالیسی کو عوامی حمایت حاصل ہے، تاہم سیاسی ماہرین کے مطابق لبرل حکومت کے لیے مہنگائی اور عام شہریوں کے اخراجات ایک حساس مسئلہ بن سکتے ہیں۔

اخراجات میں کمی کا وعدہ

کارنی نے جمعہ کو اپنے پارلیمانی ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کینیڈین شہریوں کے اخراجات کم کرنے اور ملک کی خودمختاری کے تحفظ پر بھرپور توجہ برقرار رکھے گی۔

سیاسیات کے ماہر ڈینیئل بی لینڈ کے مطابق کارنی کو امریکا کے ساتھ تعلقات اور بین الاقوامی معاملات پر عوامی حمایت حاصل ہے، تاہم لبرلز کو معیشت اور مہنگائی کے معاملے پر اپوزیشن کو تنقید کا موقع نہیں دینا چاہیے۔

یورپی یونین سے نئے تعلقات

وزیراعظم کارنی حال ہی میں یورپ کا دورہ کرچکے ہیں، جہاں یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لاین نے کینیڈا کو یورپی یونین کا ممکنہ ’’ایسوسی ایٹ ممبر‘‘ بنانے کی تجویز کا عندیہ دیا۔

یورپی یونین میں اس نوعیت کی رکنیت فی الحال موجود نہیں، تاہم اس تجویز کو امریکا کے ساتھ بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کے دوران کینیڈا کے لیے یورپ کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی ایک اہم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

کارنی نے واضح کیا ہے کہ مستقبل میں کوئی بھی نیا اتحاد یا معاہدہ سامنے آنے کی صورت میں ہاؤس آف کامنز میں اس پر بحث اور ووٹنگ ہوگی۔

امریکا سے کشیدگی

کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات اگست میں تعطل کا شکار ہوئے۔ کارنی نے امریکا کی جانب سے مقرر کردہ ٹیرف کی ڈیڈ لائن سے قبل مذاکرات معطل کردیے تھے۔

کینیڈین حکومت کے مطابق امریکا کی جانب سے بعض ایسی شرائط پیش کی گئی تھیں جنہیں کینیڈا قبول نہیں کرسکتا تھا۔ ان میں فرانسیسی زبان کے تحفظ سے متعلق کینیڈا کی پالیسی اور دوسرے ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدے کرنے کی صلاحیت سے متعلق معاملات بھی شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں :کینیڈین پارلیمنٹ میں فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے کثرت رائے سے قراردار منظور

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا کہ اگر کینیڈا یورپی یونین کا پہلا ایسوسی ایٹ ممبر بنتا ہے تو وہ اسے ’’دشمنانہ اقدام‘‘ سمجھ سکتے ہیں۔

پارلیمنٹ میں بڑی قانون سازی

مارک کارنی نے پارلیمنٹ کے نئے اجلاس کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ایسی قانون سازی پیش کرنے جارہی ہے جس کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جاسکتے ہیں۔

حکومت انفراسٹرکچر منصوبوں کی منظوری اور جائزے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ’’بلڈنگ کینیڈا اسٹرونگ ایکٹ‘‘ پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔حکومت کے ہاؤس لیڈر اسٹیون میک کینن کے مطابق اقتصادی قانون سازی خزاں کے پارلیمانی اجلاس کا مرکزی حصہ ہوگی۔

لیبر قوانین میں تبدیلی

حکومت کی جانب سے لیبر کوڈ میں تبدیلیاں بھی متوقع ہیں، جو سیاسی بحث کا باعث بن سکتی ہیں۔ملازمتوں کی وزیر پیٹی ہاجدو کے مطابق مجوزہ قانون سازی کا مقصد ہڑتالوں کے دوران وفاقی حکومت کی مداخلت کی ضرورت کم کرنا ہے۔

لبرلز کی پارلیمانی پوزیشن

لبرل حکومت پارلیمنٹ میں معمولی اکثریت کے ساتھ واپس آ رہی ہے۔ حالیہ ضمنی انتخابات میں پارٹی نے تین نشستیں واضح اکثریت سے جیتی تھیں، جس کے بعد حکومت کے ارکان میں تین نئے ارکان کا اضافہ ہوا۔

نارتھ وینکوور-کیپیلانو سے بریڈن کیلی اور بیچز-ایسٹ یارک سے تنویر شاہنواز کامیاب ہوئے، جبکہ لبرلز نے شیکوٹی می-لی فجارڈ کی نشست بھی حاصل کی، جہاں ڈینیل گوبیل کامیاب ہوئے۔

اپوزیشن کی حکمت عملی

کنزرویٹو پارٹی بھی پارلیمنٹ میں واپس آ رہی ہے۔ پارٹی رہنما پیئر پوئیلیور نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈین شہری مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے یورپی یونین کے ساتھ مبینہ خفیہ مذاکرات پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کنزرویٹو یورپی اتحادیوں کے ساتھ آزاد تجارت اور نیٹو تعاون کی حمایت کرتے ہیں، لیکن کینیڈا میں یورپی یونین کے ٹیکس، قوانین اور امیگریشن سے متعلق کھلی سرحدوں کے اصول قبول نہیں کیے جائیں گے۔

این ڈی پی کی کمزور پوزیشن

نیو ڈیموکریٹک پارٹی بھی پارلیمنٹ میں کمزور پوزیشن کے ساتھ واپس آ رہی ہے۔ طویل عرصے تک رکن پارلیمنٹ رہنے والے الیگزینڈر بولیریس کے استعفے کے بعد پارٹی کے پاس پانچ ارکان رہ گئے ہیں۔

پارٹی کے نئے رہنما ایوی لیوس نے فوری طور پر پارلیمنٹ کی نشست حاصل کرنے کے بجائے پارٹی کے کارکنوں سے رابطے اور تنظیم نو پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

کارنی کے لیے اہم اجلاس

ماہرین کے مطابق موجودہ عالمی تجارتی کشیدگی میں وزیراعظم کارنی کا بین الاقوامی کردار لبرل حکومت کے لیے اہم سیاسی معاملہ بن گیا ہے، تاہم اندرون ملک مہنگائی، اخراجات اور معاشی پالیسیوں پر حکومت کو اپوزیشن کی تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

کارنی کی حکومت کو اب پارلیمنٹ کے نئے اجلاس میں بین الاقوامی پالیسی، امریکا سے تجارتی تعلقات، یورپی یونین سے ممکنہ نئے روابط اور کینیڈین شہریوں کے روزمرہ اخراجات جیسے اہم معاملات پر بیک وقت توجہ دینا ہوگی۔

ہمیں فالو کریں