کراچی کینٹ اسٹیشن سے روانگی
جماعت اسلامی کا ٹرین مارچ کراچی کینٹ اسٹیشن سے رحمان بابا ایکسپریس کے ذریعے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا۔ روانگی کے موقع پر جماعت اسلامی کے کارکنان اور حامی اسٹیشن پر موجود تھے، جہاں قیادت کی جانب سے شرکاء سے خطاب بھی کیا گیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ جماعت اسلامی نے احتجاج کے لیے طے شدہ حکمت عملی کے مطابق کارکنان کو اسلام آباد روانہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرین مارچ احتجاجی مہم کا ایک اہم مرحلہ ہے اور اس کے ذریعے حکومت تک عوام کے مطالبات پہنچائے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں :
فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی،حافظ نعیم الرحمان نے ملک گیر شٹر ڈائون کی کال دے دی
انہوں نے کہا کہ ملک میں عام شہریوں کو بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے بقول متوسط طبقہ اور سفید پوش خاندان اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی مشکلات سے دوچار ہیں۔
حکومتی پالیسیوں پر تنقید
روانگی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کی معاشی پالیسیوں اور طرز حکمرانی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ میں ہیں اور مختلف ٹیکسز اور اضافی مالی بوجھ نے ان کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کی ناقص حکمرانی کا بوجھ بھی عوام پر منتقل ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں عام شہریوں کے لیے گھریلو اخراجات، سفر، بجلی، گیس اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے ایسے فیصلے واپس لیے جائیں جن سے عام آدمی کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔
پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ
جماعت اسلامی کی موجودہ احتجاجی مہم کا مرکزی مطالبہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے سے متعلق ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش، کاروبار اور روزمرہ استعمال کی مختلف اشیا کی قیمتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔
ان کے مطابق حکومت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو جواز بنا کر ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتی ہے، تاہم جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ عوام پر اضافی لیوی کا بوجھ نہیں ڈالا جانا چاہیے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے معاملے پر نظرثانی کی جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
کراچی میں 35 روزہ دھرنا
ٹرین مارچ سے قبل جماعت اسلامی نے کراچی میں گورنر ہاؤس کے باہر طویل احتجاجی دھرنا بھی دیا۔
جماعت اسلامی کے مطابق یہ دھرنا تقریباً 35 روز تک جاری رہا۔ اس دوران جماعت اسلامی کی جانب سے پیٹرولیم لیوی سمیت عوام کو درپیش معاشی مسائل کو اجاگر کیا گیا اور حکومت سے مطالبات تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا جاتا رہا۔
ہفتے کے روز جماعت اسلامی نے کراچی میں جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا اور اس کے بعد احتجاج کو اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
جماعت اسلامی کی قیادت کا مؤقف ہے کہ کراچی میں احتجاج ختم کرنا تحریک کا اختتام نہیں بلکہ احتجاجی مہم کو اگلے مرحلے میں داخل کرنا ہے۔
اسلام آباد مارچ کا مقصد
کراچی سے روانہ ہونے والے کارکنان اسلام آباد پہنچ کر احتجاج کے اگلے مرحلے میں شریک ہوں گے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے اسلام آباد میں احتجاجی سرگرمیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔
پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں احتجاج کے ذریعے حکومتی ذمہ داران اور متعلقہ اداروں تک عوام کے مطالبات زیادہ مؤثر انداز میں پہنچائے جا سکتے ہیں۔
مارچ میں شریک کارکنان پیٹرولیم لیوی کے خاتمے، مہنگائی میں کمی اور عوام پر اضافی مالی بوجھ کم کرنے جیسے مطالبات کو اجاگر کر رہے ہیں۔
جماعت اسلامی کی احتجاجی مہم کا پس منظر
جماعت اسلامی گزشتہ کچھ عرصے سے عوامی مسائل، مہنگائی، بجلی کے نرخوں، ٹیکسوں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے احتجاجی سیاست کرتی رہی ہے۔ کراچی کا دھرنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔
پارٹی کا کہنا ہے کہ معاشی پالیسیوں کا سب سے زیادہ اثر عام اور متوسط طبقے پر پڑتا ہے، اس لیے حکومت کو محصولات میں اضافے کے بجائے اخراجات اور حکومتی نظام میں اصلاحات پر توجہ دینی چاہیے۔
دوسری جانب حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور لیوی کے حوالے سے عالمی مارکیٹ کے نرخ، ملکی معاشی ضروریات اور محصولات کے اہداف جیسے عوامل کو اہم قرار دیا جاتا رہا ہے۔ اس معاملے میں حکومت اور جماعت اسلامی کے مؤقف میں واضح فرق موجود ہے۔
ٹرین مارچ میں کارکنان کی شرکت
رحمان بابا ایکسپریس کے ذریعے کراچی سے اسلام آباد روانہ ہونے والے مارچ میں جماعت اسلامی کے کارکنان اور حامی شریک ہیں۔ روانگی کے موقع پر جماعت اسلامی کی مقامی قیادت اور کارکنان نے پارٹی قیادت کے حق میں نعرے بھی لگائے۔
حافظ نعیم الرحمن نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ احتجاجی پروگرام کو منظم انداز میں آگے بڑھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یہ بھی پڑھیں :
اسلام آباد میں جو کچھ ہوا اسے چھپایا جا رہا ہے،حافظ نعیم الرحمان
مارچ کے ذریعے جماعت اسلامی یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور اضافی لیوی کا معاملہ صرف سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں بلکہ عام شہری کے روزمرہ اخراجات سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
عوامی مشکلات کا معاملہ
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ملکی معیشت میں خاص اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ ایندھن کی قیمتوں میں تبدیلی ٹرانسپورٹ اور مال برداری کے اخراجات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور کاروباری لاگت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
جماعت اسلامی اسی معاشی اثر کو بنیاد بنا کر حکومت سے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں شہریوں پر مزید ٹیکس یا لیوی عائد کرنے کے بجائے انہیں ریلیف دینے کی ضرورت ہے۔
احتجاج کا اگلا مرحلہ
کراچی میں 35 روزہ دھرنے کے بعد اب جماعت اسلامی نے احتجاج کا مرکز اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کراچی سے ٹرین مارچ کی روانگی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
حافظ نعیم الرحمن اور جماعت اسلامی کی قیادت کی جانب سے اسلام آباد میں آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے مزید اعلانات متوقع ہیں۔ مارچ کی پیش رفت اور وفاقی حکومت کے ردعمل کے بعد احتجاجی مہم کی سمت واضح ہوگی۔
جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ وہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے گی، جبکہ حکومت کے لیے اس احتجاج کے دوران عوامی مطالبات اور معاشی پالیسی کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح رکھنا اہم ہوگا۔
یوں کراچی سے اسلام آباد جانے والا یہ ٹرین مارچ جماعت اسلامی کی موجودہ احتجاجی مہم کے ایک نئے مرحلے کی علامت ہے، جس کے ذریعے پارٹی قیادت وفاقی حکومت کے سامنے پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی سے متعلق اپنے مطالبات رکھنا چاہتی ہے۔
