اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مصنوعی ذہانت، یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI)، نے جہاں معلومات اور ابلاغ کے شعبے میں نئی سہولتیں پیدا کی ہیں، وہیں اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال ایک سنگین مسئلہ بھی بنتا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایسی جعلی ویڈیوز کی تعداد بڑھ رہی ہے جن میں معروف ڈاکٹروں کے چہرے، آواز اور اندازِ گفتگو کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے اس طرح استعمال کیا جاتا ہے کہ دیکھنے والے کو ویڈیو حقیقی محسوس ہوتی ہے۔
ان ویڈیوز کے ذریعے مختلف ادویات، غذائی مصنوعات اور مبینہ علاج فروخت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ماہرین صحت اور ٹیکنالوجی کے مطابق یہ رجحان صرف مالی فراڈ تک محدود نہیں بلکہ اس سے لوگوں کی صحت کو بھی براہِ راست نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مستند طبی ماہرین پر عوام کا اعتماد متاثر ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔
معروف کینیڈین ڈاکٹروں کی جعلی ویڈیوز
کینیڈا میں متعدد معروف ڈاکٹر اس مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں۔ برٹش کولمبیا کی صوبائی چیف ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر بونی ہنری بھی ان طبی ماہرین میں شامل ہیں جن کی شناخت کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ اشتہارات میں استعمال کیا گیا۔
کورونا وائرس کی وبا کے دوران ڈاکٹر ہنری کینیڈا بھر میں خاصی معروف ہوئیں اور ان کی صحت سے متعلق بریفنگز اور میڈیا گفتگو باقاعدگی سے نشر ہوتی رہی۔ بعد ازاں انہی اصل ویڈیوز اور عوامی طور پر دستیاب تصاویر اور آواز کو استعمال کرتے ہوئے ایسی مصنوعی ویڈیوز بنائی گئیں جن میں انہیں مختلف مصنوعات کی تشہیر کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
ان میں ایک ویڈیو مبینہ طور پر مردوں کی صحت سے متعلق ایک علاج کی تشہیر کے لیے استعمال ہوئی۔ ڈاکٹر ہنری کے مطابق ابتدا میں یہ تجربہ ان کے لیے انتہائی پریشان کن تھا کیونکہ مصنوعی ویڈیو اس قدر حقیقی دکھائی دیتی تھی کہ عام شخص کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو سکتا ہے کہ اس میں دکھائی جانے والی گفتگو حقیقت میں ڈاکٹر نے نہیں کی۔
جعلی اشتہارات کا طریقہ کار
ڈیپ فیک ٹیکنالوجی میں کسی حقیقی شخص کے چہرے، آواز یا حرکات کو مصنوعی طور پر تبدیل کرکے ایسی نئی ویڈیو تیار کی جاتی ہے جس میں وہ شخص بظاہر وہی بات کرتا دکھائی دیتا ہے جو اس نے حقیقت میں کبھی نہیں کہی۔
صحت کے شعبے میں اس تکنیک کا استعمال خاص طور پر تشویش کا باعث ہے۔ اگر کسی معروف ڈاکٹر کو کسی دوا یا علاج کی سفارش کرتے ہوئے دکھایا جائے تو مریض اس دعوے کو عام اشتہار کے مقابلے میں زیادہ قابلِ اعتماد سمجھ سکتا ہے۔
کینیڈا کے ایک اور معروف طبی ماہر ڈاکٹر فرانسوا مارکوئس نے بھی ایسی جعلی ویڈیوز کی نشاندہی کی ہے۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر ان کے چہرے اور آواز کو مختلف مصنوعات کی تشہیر کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ بعض نئی ویڈیوز میں جوڑوں کے علاج سے متعلق مصنوعات کی تشہیر دکھائی گئی، جبکہ بعض اشتہارات میں صارفین کے لیے غیر معمولی مالی ضمانتوں کا دعویٰ بھی کیا گیا۔
مریضوں کو مالی اور طبی نقصان
ماہرین کے مطابق ایسے فراڈ کا ایک پہلو مالی نقصان ہے۔ لوگ سوشل میڈیا پر کسی معروف ڈاکٹر کو کسی دوا یا علاج کی حمایت کرتے دیکھ کر رقم خرچ کر سکتے ہیں، لیکن بعد میں انہیں نہ مطلوبہ مصنوعات ملتی ہیں اور نہ ہی ان کے دعووں کی کوئی طبی بنیاد سامنے آتی ہے۔
ڈاکٹر مارکوئس نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو مبینہ طور پر ایک جعلی اشتہار سے متاثر ہو کر سینکڑوں ڈالر کی مصنوعات خرید بیٹھا۔ بعد میں وہ رقم واپس لینے کی امید میں ڈاکٹر سے رابطہ کرنے کے لیے ہسپتال پہنچا، حالانکہ ڈاکٹر کا اس فروخت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
تاہم طبی ماہرین کی اصل تشویش اس سے بھی آگے ہے۔ اگر لوگ جعلی اشتہارات کے ذریعے غیر معیاری یا نامعلوم ادویات خرید کر استعمال کریں تو ان کی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی مریض کا کسی جعلی طبی مشورے پر عمل کرتے ہوئے اپنی پہلے سے جاری دوا بند کر دینا بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
جعلی ویڈیوز کی شناخت مشکل ہوتی جا رہی ہے
مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت نے جعلی ویڈیوز کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ حقیقت کے قریب بنا دیا ہے۔ چند سال قبل ایسی ویڈیوز میں چہرے کی حرکات، آواز یا ہونٹوں کی مطابقت میں واضح خامیاں نظر آ سکتی تھیں، لیکن جدید ٹیکنالوجی نے ان خامیوں کو کم کر دیا ہے۔
صحت اور سائنس کے موضوعات پر بنائی گئی مصنوعی ویڈیوز کے حوالے سے ایک تحقیقی مطالعے میں یہ بھی سامنے آیا کہ لوگوں کے ایک قابلِ ذکر حصے کے لیے اصلی اور مصنوعی مواد میں فرق کرنا مشکل تھا۔
یونیورسٹی آف البرٹا سے وابستہ صحت، قانون اور سائنس پالیسی کے محقق ٹموتھی کالفیلڈ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیے جانے والے ایسے فراڈ مزید پیچیدہ اور قائل کرنے والے ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ایک جعلی ویڈیو بنائی جا سکتی ہے، بلکہ اصل چیلنج یہ ہے کہ اسے لاکھوں لوگوں تک تیزی سے پہنچایا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹروں کے لیے شکایت اور قانونی کارروائی کا مسئلہ
متاثرہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جعلی ویڈیوز کو ہٹوانا آسان نہیں۔ ڈاکٹر بونی ہنری نے مختلف متعلقہ فریقوں کو قانونی نوعیت کے نوٹس بھی بھیجے، لیکن اس کے باوجود مسئلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
ڈاکٹر مارکوئس نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، متعلقہ طبی اداروں اور پولیس کو ایسے مواد کی اطلاع دینے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق ایک ویڈیو ہٹائے جانے کے بعد اسی نوعیت کا نیا مواد دوبارہ سامنے آ سکتا ہے۔
یہ صورتحال اس لیے بھی پیچیدہ ہے کیونکہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا مواد لازماً اسی ملک میں تیار نہیں ہوتا جہاں اسے دیکھا جا رہا ہو۔ مختلف ممالک کے قوانین، پلیٹ فارمز کے ضوابط اور نفاذ کے طریقہ کار ایک دوسرے سے مختلف ہیں، جس کی وجہ سے ایک جعلی ویڈیو کے خلاف کارروائی میں متعدد رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
کینیڈا میں مربوط حکمت عملی کی ضرورت
کینیڈین ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے نقصان دہ مواد سے نمٹنے کے لیے مختلف اداروں کے درمیان زیادہ مربوط نظام کی ضرورت ہے۔
وفاقی حکومت نے مصنوعی ذہانت کے محفوظ استعمال اور ڈیجیٹل فراڈ سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ حکومت نے مصنوعی ذہانت کی سلامتی سے متعلق ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے، غیر رضامندانہ جنسی نوعیت کی مصنوعی تصاویر اور ویڈیوز کے خلاف اقدامات اور انتخابی عمل میں مصنوعی طور پر تیار کردہ گمراہ کن مواد سے نمٹنے کے لیے قانونی اقدامات کا ذکر کیا ہے۔
حکومت کی جانب سے تجویز کردہ بعض قانون سازی میں افراد کو اپنے ذاتی ڈیٹا کے استعمال پر مزید اختیار دینے کی بات بھی شامل ہے۔ اس میں مخصوص حالات میں تجارتی پلیٹ فارمز پر موجود مصنوعی طور پر تیار کردہ مواد کو ہٹانے کی درخواست کرنے کا حق بھی شامل ہو سکتا ہے۔
عوامی آگاہی کیوں ضروری ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف قوانین یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی کارروائی کافی نہیں ہوگی۔ عام صارفین کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی معروف ڈاکٹر کا چہرہ یا آواز کسی ویڈیو میں نظر آنا اس بات کی ضمانت نہیں کہ ویڈیو اصلی ہے۔
صارفین کو خاص طور پر ان اشتہارات سے محتاط رہنا چاہیے جو کسی بیماری کے فوری یا حیران کن علاج کا دعویٰ کرتے ہوں، کسی مشہور ڈاکٹر کی مبینہ حمایت دکھاتے ہوں، یا غیر معمولی مالی ضمانتیں اور فوری نتائج پیش کرتے ہوں۔
کسی دوا یا علاج کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت معتبر طبی ذرائع، اپنے ڈاکٹر یا متعلقہ صحت کے ادارے سے تصدیق کرنا زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ویڈیو کو صرف اس بنیاد پر مستند نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس میں کوئی معروف طبی شخصیت دکھائی دے رہی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے دور میں اعتماد کا امتحان
ڈیپ فیک ویڈیوز کا مسئلہ صرف چند جعلی اشتہارات تک محدود نہیں۔ اگر عوام بار بار ایسی ویڈیوز دیکھیں جن میں معروف ڈاکٹر، سیاست دان یا دیگر قابلِ اعتماد شخصیات ایسی باتیں کرتی دکھائی دیں جو انہوں نے حقیقت میں نہیں کہیں، تو حقیقی معلومات پر اعتماد بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
طبی شعبے میں یہ مسئلہ زیادہ حساس ہے کیونکہ صحت سے متعلق فیصلوں کے نتائج براہِ راست انسان کی زندگی اور جسمانی سلامتی سے جڑے ہوتے ہیں۔ اسی لیے ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ساتھ ساتھ اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے قانونی، تکنیکی اور عوامی آگاہی کے اقدامات بھی تیزی سے بہتر کیے جائیں۔
موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ٹیکنالوجی جعلی مواد تیار کرنے کی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے، جبکہ اس کی شناخت، رپورٹنگ اور فوری طور پر ہٹانے کے طریقہ کار ہر جگہ اسی رفتار سے ترقی نہیں کر سکے۔ کینیڈا میں متاثرہ طبی ماہرین اور تحقیق سے وابستہ افراد کا مؤقف ہے کہ اس خلا کو کم کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں، طبی تنظیموں، حکومت، سوشل میڈیا کمپنیوں اور عام صارفین کے درمیان بہتر تعاون ضروری ہوگا۔
مصنوعی ذہانت مستقبل میں صحت اور معلومات کے شعبے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے فوائد اسی وقت زیادہ مؤثر ہوں گے جب لوگوں کو یہ یقین بھی ہو کہ کسی ڈاکٹر کی آواز، چہرے یا بیان کو ان کی اجازت کے بغیر جعلی طور پر استعمال کرکے تجارتی مفاد حاصل نہیں کیا جا رہا۔
