اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) بھارتی کرکٹ کے معروف بلے باز اور سابق کپتان ویرات کوہلی نے اپنی غیر معمولی کھیل کی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ میدان سے باہر بھی ایک مضبوط مالیاتی سلطنت قائم کر لی ہے۔
کرکٹ میں کئی عالمی ریکارڈز اور کامیابیاں حاصل کرنے والے کوہلی اب صرف ایک اسپورٹس اسٹار نہیں رہے بلکہ اشتہارات، سوشل میڈیا، کاروباری سرمایہ کاری اور جائیداد کے شعبے میں بھی ایک نمایاں نام بن چکے ہیں۔
مختلف میڈیا اور مالیاتی رپورٹس کے مطابق ویرات کوہلی کے مجموعی اثاثوں اور دولت کا تخمینہ تقریباً 1,046 کروڑ بھارتی روپے لگایا جاتا ہے، جو تقریباً 127 ملین امریکی ڈالر کے برابر بنتا ہے۔ تاہم ان کی دولت سے متعلق اعداد و شمار مختلف ذرائع میں مختلف ہو سکتے ہیں کیونکہ کاروباری سرمایہ کاری، جائیداد، برانڈ معاہدوں اور دیگر اثاثوں کی مالیت وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔
کوہلی کی مالیاتی کامیابی کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی آمدنی صرف کرکٹ تک محدود نہیں۔ بھارتی کرکٹ بورڈ سے ملنے والی رقم، آئی پی ایل کی تنخواہ، برانڈ endorsements، سوشل میڈیا پر اسپانسرڈ مواد، کاروباری منصوبے، اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری، رئیل اسٹیٹ اور دیگر اثاثے ان کی آمدنی کے اہم ذرائع میں شامل ہیں۔
معمولی کنٹریکٹ سے کروڑوں تک کا سفر
ویرات کوہلی نے بھارتی کرکٹ میں اپنا سفر اس وقت شروع کیا جب وہ ابھی نوجوان کھلاڑی تھے۔ دستیاب معلومات کے مطابق 2008-09 میں انہیں بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے صرف 15 لاکھ بھارتی روپے کا گریڈ ڈی کنٹریکٹ حاصل تھا۔
وقت کے ساتھ ان کی کارکردگی میں بہتری آئی اور وہ بھارتی ٹیم کے اہم ترین کھلاڑیوں میں شامل ہوتے گئے۔ ٹیم میں ان کا مقام مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ کرکٹ بورڈ کے کنٹریکٹ میں بھی ترقی ہوتی گئی۔
وہ گریڈ ڈی سے گریڈ بی اور پھر گریڈ اے تک پہنچے، جبکہ 2017-18 کے بعد وہ اے پلس کیٹیگری کا حصہ رہے۔ اس کیٹیگری کے تحت سالانہ معاوضہ تقریباً 7 کروڑ بھارتی روپے بتایا جاتا ہے۔
یہ سفر اس بات کی مثال ہے کہ ایک نوجوان کرکٹر کس طرح مسلسل کارکردگی اور عالمی سطح پر اپنی شناخت بنانے کے بعد کھیل کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے کھلاڑیوں میں شامل ہو سکتا ہے۔
ٹی ٹوئنٹی اور ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ
ویرات کوہلی نے 2024 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنے کے بعد ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں مئی 2025 میں انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ کو بھی خیرباد کہہ دیا۔
ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی بین الاقوامی مصروفیات بنیادی طور پر ون ڈے کرکٹ تک محدود ہو گئیں۔ تاہم آئی پی ایل ان کے کرکٹ کیریئر اور آمدنی کا ایک اہم حصہ برقرار رہا۔
کوہلی نے طویل عرصے تک بھارتی ٹیم کی قیادت بھی کی اور اسی عرصے میں ان کی تجارتی مقبولیت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ ان کی کپتانی، فٹنس، جارحانہ کھیل اور عالمی شہرت نے انہیں کرکٹ سے باہر موجود برانڈز کے لیے بھی ایک پرکشش شخصیت بنا دیا۔
آئی پی ایل نے مالی حیثیت مزید مضبوط کردی
ویرات کوہلی کا آئی پی ایل کیریئر بھی ان کی مالی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ 2008 میں جب آئی پی ایل کا آغاز ہوا تو رائل چیلنجرز بنگلور نے کوہلی کو تقریباً 12 لاکھ روپے میں اپنی ٹیم میں شامل کیا تھا۔
اس وقت شاید اندازہ لگانا مشکل تھا کہ یہی کھلاڑی آنے والے برسوں میں آئی پی ایل کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے کرکٹرز میں شمار ہوگا۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2011 سے 2013 کے دوران کوہلی کو تقریباً 8.28 کروڑ روپے سالانہ ملے۔ 2014 سے 2017 تک ان کا معاوضہ بڑھ کر تقریباً 12.5 کروڑ روپے سالانہ ہوگیا۔
2018 سے 2021 تک انہیں تقریباً 17 کروڑ روپے فی سیزن دیے گئے، جبکہ 2022 سے 2024 کے دوران ان کی سالانہ آئی پی ایل فیس تقریباً 15 کروڑ روپے رہی۔
2025 کے آئی پی ایل سیزن کے لیے ان کا معاوضہ بڑھ کر تقریباً 21 کروڑ روپے بتایا گیا۔ یوں کئی برسوں پر محیط ان کے آئی پی ایل معاوضوں کو جمع کیا جائے تو مجموعی رقم 200 کروڑ روپے سے زیادہ بنتی ہے۔
اشتہارات کوہلی کی آمدنی کا بڑا ذریعہ
کرکٹ کے بعد ویرات کوہلی کی مالیاتی سلطنت میں سب سے اہم کردار اشتہارات اور برانڈ معاہدوں کا ہے۔
کوہلی نے متعدد عالمی اور بھارتی کمپنیوں کے ساتھ اشتہاری معاہدے کیے ہیں۔ کھیلوں کے سامان، ٹائرز، گاڑیوں، مشروبات، فیشن اور دیگر صارف مصنوعات کے برانڈز ان کے ساتھ مختلف اوقات میں منسلک رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کوہلی کسی بڑے برانڈ کے اشتہار یا مہم کے لیے 5 سے 10 کروڑ بھارتی روپے تک معاوضہ وصول کر سکتے ہیں۔ ان کی شہرت اور سوشل میڈیا پر موجودگی کی وجہ سے بڑے برانڈز کے لیے ان کے ذریعے صارفین تک پہنچنا خاصا مؤثر سمجھا جاتا ہے۔
بعض مالیاتی رپورٹس میں کوہلی کی سالانہ اشتہاری آمدنی 100 کروڑ روپے سے زائد بھی بتائی گئی ہے۔ تاہم کسی مخصوص سال کی اصل آمدنی ان کے معاہدوں اور اشتہاری مہمات کی تعداد کے لحاظ سے تبدیل ہو سکتی ہے۔
انسٹاگرام سے ایک پوسٹ کے کروڑوں
ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا بھی ویرات کوہلی کی مالیاتی طاقت کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔
انسٹاگرام پر ان کے 260 ملین سے زائد فالوورز ہونے کی وجہ سے وہ دنیا کے سب سے زیادہ مقبول ایتھلیٹس میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی ایک پوسٹ کروڑوں افراد تک پہنچ سکتی ہے، جس کی وجہ سے عالمی برانڈز ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو اشتہاری مہمات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کوہلی ایک اسپانسرڈ انسٹاگرام پوسٹ کے لیے تقریباً 6 سے 11 کروڑ روپے تک وصول کر سکتے ہیں۔
یہ رقم کسی مستقل مقررہ فیس کے طور پر نہیں دیکھی جانی چاہیے کیونکہ اسپانسرڈ پوسٹ کی قیمت برانڈ، مہم، معاہدے کی مدت، مواد اور دیگر شرائط کے مطابق تبدیل ہو سکتی ہے۔
انسٹاگرام کے علاوہ ایکس اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز پر بھی ان کی بڑی تعداد میں فالوونگ ہے، جس سے ان کے لیے ڈیجیٹل پروموشن آمدنی کا ایک اور ذریعہ بن جاتی ہے۔
کاروباری دنیا میں بھی قدم
ویرات کوہلی نے اپنی کمائی کو صرف کرکٹ اور اشتہارات تک محدود نہیں رکھا بلکہ مختلف کاروباری منصوبوں میں سرمایہ کاری بھی کی۔
ان کی کاروباری دلچسپیوں میں فٹنس، خوراک، ریسٹورنٹس، ٹیکنالوجی، کھیلوں اور دیگر صارفین سے متعلق شعبے شامل رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کوہلی کا تعلق پلانٹ بیسڈ فوڈ کمپنی بلیو ٹرائب، فٹنس کاروبار چزل، لگژری ریسٹورنٹ نیووا اور ٹیکنالوجی و گیمنگ سے متعلق بعض منصوبوں سے رہا ہے۔
انہوں نے اسپورٹس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں بھی سرمایہ کاری کی ہے۔ ان کاروباری سرگرمیوں کا مقصد صرف فوری آمدنی حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا پورٹ فولیو بنانا بھی ہے جو کھیل سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آمدنی پیدا کرتا رہے۔
فیشن اور نوجوانوں کے برانڈ میں دلچسپی
کوہلی نے فیشن کے شعبے میں بھی دلچسپی دکھائی ہے۔ نوجوان صارفین کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے ایک ملبوساتی برانڈ کی بنیاد رکھنے میں بھی حصہ لیا۔
اس طرح ان کی کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کھیلوں سے نکل کر نوجوانوں کے فیشن، طرزِ زندگی اور صارفین کی مصنوعات تک پھیل گیا۔
یہ حکمت عملی دنیا کے کئی بڑے کھلاڑیوں میں بھی دیکھی جاتی ہے، جہاں اسپورٹس اسٹار اپنی شہرت کو کاروباری برانڈ میں تبدیل کرتے ہیں۔
رئیل اسٹیٹ میں کروڑوں کی سرمایہ کاری
ویرات کوہلی کے اثاثوں میں قیمتی جائیدادیں بھی شامل بتائی جاتی ہیں۔ بھارت کے مختلف مہنگے علاقوں میں ان کی رہائشی جائیدادوں کی مالیت کروڑوں روپے میں ہے۔
رپورٹس کے مطابق گڑگاؤں میں ان کے بنگلے کی مالیت تقریباً 80 کروڑ بھارتی روپے بتائی جاتی ہے۔ ممبئی میں ان کے ایک لگژری اپارٹمنٹ کی قیمت تقریباً 34 کروڑ روپے تک بیان کی جاتی ہے۔
اسی طرح علی باغ میں بھی ان کی جائیدادوں کا ذکر کیا جاتا ہے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 20 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔
رئیل اسٹیٹ کی قیمتیں مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہیں، اس لیے ان جائیدادوں کی موجودہ مارکیٹ ویلیو ان تخمینوں سے مختلف ہو سکتی ہے۔
مہنگی گاڑیوں کا شوق
ویرات کوہلی کی شخصیت کا ایک اور نمایاں پہلو ان کا لگژری گاڑیوں سے شوق ہے۔ ان کے گیراج میں مختلف اوقات میں آڈی، لینڈ روور اور بینٹلی سمیت کئی مہنگی گاڑیاں دیکھی گئی ہیں۔
ان کے کار کلیکشن میں بینٹلی کانٹی نینٹل جی ٹی، بینٹلی فلائنگ اسپر اور لینڈ روور ووگ جیسے ماڈلز کا ذکر ملتا ہے۔
ان میں سے بعض گاڑیوں کی قیمت بھارتی مارکیٹ میں 3 کروڑ روپے سے زیادہ تک پہنچ سکتی ہے، خاص طور پر جب درآمدی ٹیکس اور اضافی خصوصیات کو شامل کیا جائے۔
سالانہ آمدنی کتنی ہے؟
مختلف رپورٹس میں ویرات کوہلی کی سالانہ آمدنی تقریباً 150 کروڑ بھارتی روپے بتائی جاتی ہے۔ اگر اس رقم کو 12 ماہ پر تقسیم کیا جائے تو ماہانہ اوسط تقریباً 12.5 کروڑ روپے بنتی ہے۔
تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوہلی کو ہر ماہ اتنی مقررہ تنخواہ ملتی ہے۔ یہ صرف سالانہ مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی ممکنہ آمدنی کا اوسط ہے۔
کسی ایک سال میں ان کی آمدنی آئی پی ایل، برانڈ معاہدوں، سوشل میڈیا مہمات، کاروباری منافع اور دیگر ذرائع کی وجہ سے نمایاں طور پر کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔
بھاری ٹیکس ادائیگی
بھارت میں زیادہ آمدنی حاصل کرنے والی شخصیات پر عائد ٹیکس بھی ان کی مالیاتی سرگرمیوں کا ایک اہم پہلو ہے۔
رپورٹس کے مطابق ویرات کوہلی نے 2024 میں تقریباً 66 کروڑ بھارتی روپے ایڈوانس ٹیکس ادا کیا۔ اتنی بڑی ٹیکس ادائیگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ان کی آمدنی مختلف ذرائع سے بڑے پیمانے پر حاصل ہوتی ہے۔
تاہم ٹیکس سے متعلق اعداد و شمار بھی متعلقہ مالی سال اور دستیاب دستاویزات کے مطابق دیکھے جانے چاہئیں۔
کوہلی کی مالیاتی کامیابی کا راز
ویرات کوہلی کی دولت کو صرف ان کی کرکٹ فیس سے جوڑنا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ ان کی مالیاتی سلطنت کئی مختلف شعبوں پر مشتمل ہے۔
کرکٹ نے انہیں شہرت دی، آئی پی ایل نے انہیں مسلسل بڑی آمدنی فراہم کی، جبکہ اشتہارات اور سوشل میڈیا نے ان کی شہرت کو تجارتی قدر میں تبدیل کیا۔ اس کے بعد کاروباری سرمایہ کاری اور جائیدادوں نے ان کے اثاثوں کا دائرہ مزید وسیع کیا۔
ان کی کہانی جدید کھیلوں کی دنیا میں اس تبدیلی کی بھی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک عالمی سطح کا کھلاڑی صرف کھیل سے کمائی نہیں کرتا بلکہ اپنی شخصیت، مقبولیت اور برانڈ ویلیو کو مختلف کاروباری شعبوں میں استعمال کرتا ہے۔
مستقبل میں مالیاتی سلطنت مزید وسیع ہونے کا امکان
بین الاقوامی کرکٹ میں سرگرمیوں میں کمی کے باوجود کوہلی کی تجارتی مقبولیت برقرار ہے۔ ان کے پاس ایک بہت بڑا سوشل میڈیا فالوونگ بیس، طویل عرصے سے قائم برانڈ تعلقات، کاروباری سرمایہ کاری اور رئیل اسٹیٹ جیسے اثاثے موجود ہیں۔
اسی لیے ان کی آمدنی کا انحصار صرف اس بات پر نہیں کہ وہ ہر سال کتنے میچ کھیلتے ہیں۔ کھیل کے میدان سے باہر قائم کی گئی یہ مالیاتی بنیاد انہیں مستقبل میں بھی مختلف ذرائع سے آمدنی حاصل کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔
یوں ویرات کوہلی کا سفر ایک نوجوان کرکٹر کے محدود مالیاتی کنٹریکٹ سے شروع ہو کر ایسے مرحلے تک پہنچ چکا ہے جہاں کرکٹ ان کی شناخت کا بنیادی حصہ ضرور ہے، لیکن ان کی مالیاتی سلطنت کا دائرہ کھیل سے کہیں آگے پھیل چکا ہے۔ کرکٹ، برانڈنگ، ڈیجیٹل میڈیا، کاروبار، سرمایہ کاری اور جائیداد نے مل کر انہیں بھارت کے نمایاں دولت مند اسپورٹس اسٹارز میں شامل کر دیا ہے۔
اگر آپ اسے مزید سنسنی خیز پاکستانی نیوز پورٹل کے انداز میں چاہتے ہیں تو میں اسی خبر کے لیے ایک مضبوط مین ہیڈنگ، 5 کلک ایبل متبادل ہیڈنگز، سب ہیڈنگ اور SEO میٹا ڈسکرپشن بھی بنا سکتا ہوں۔
