حوثیوں کے حملے کی خبروں کا مارکیٹ پر اثر، سعودی اور قطری اسٹاک انڈیکس میں کمی

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی دارالحکومت ریاض میں میزائل اور ڈرون حملوں کے دعوے کے بعد خلیجی اسٹاک مارکیٹس میں کاروبار کے آغاز پر مندی دیکھی گئی۔

سرمایہ کاروں میں خطے کی سکیورٹی صورتحال اور توانائی کی تنصیبات کے حوالے سے خدشات بڑھنے کے باعث سعودی عرب اور قطر کے اہم اسٹاک انڈیکس دباؤ میں آگئے۔

رائٹرز کے مطابق سعودی عرب کا بینچ مارک تاسی انڈیکس کاروبار کے ابتدائی مرحلے میں 0.5 فیصد گر گیا۔ سعودی عرب کی سب سے بڑی توانائی کمپنی آرامکو کے حصص میں بھی 0.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ ملک کے بڑے بینکوں میں شامل سعودی نیشنل بینک کے حصص 0.5 فیصد نیچے آگئے۔
قطری اسٹاک مارکیٹ بھی دباؤ میں
خطے میں کشیدگی کی خبروں کے اثرات قطر کی اسٹاک مارکیٹ پر بھی نظر آئے۔ قطر کا مرکزی QSI انڈیکس 0.9 فیصد نیچے آگیا۔
قطر کی بڑی کمپنیوں میں شامل انڈسٹریز قطر کے حصص میں تقریباً 3.7 فیصد کمی ہوئی، جس نے مجموعی طور پر مارکیٹ پر دباؤ بڑھایا۔
مارکیٹ میں یہ ردعمل اس خدشے کے باعث سامنے آیا کہ خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو توانائی، تجارت، نقل و حمل اور سرمایہ کاری سمیت مختلف معاشی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔
ریاض میں میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ
حوثیوں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے ریاض میں بعض حساس اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔
سعودی حکام کی جانب سے ایسے حملوں کے خلاف فضائی دفاعی کارروائیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ حملے سے متعلق مختلف دعووں اور اطلاعات کے بعد سرمایہ کاروں نے خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کردیا۔
خصوصاً سعودی عرب میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی اہمیت کے باعث کسی بھی ممکنہ حملے یا کشیدگی میں اضافے کی خبر عالمی سرمایہ کاروں کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔
آرامکو کے حصص میں کمی کیوں اہم ہے؟
سعودی عرب کی معیشت اور عالمی توانائی مارکیٹ میں آرامکو کا مرکزی کردار ہے۔ کمپنی کے حصص میں کمی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ علاقائی سکیورٹی سے متعلق خدشات توانائی کے شعبے کے سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔
اگر خطے میں کشیدگی طویل ہوتی ہے تو سرمایہ کار توانائی کی پیداوار، برآمدی راستوں اور اہم تنصیبات کے تحفظ سے متعلق خطرات کو زیادہ اہمیت دے سکتے ہیں۔
تاہم اسٹاک مارکیٹ میں ابتدائی کمی کو کسی طویل مدتی رجحان کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ مارکیٹیں جغرافیائی اور سیاسی صورتحال میں آنے والی نئی معلومات کے مطابق تیزی سے سمت تبدیل کرسکتی ہیں۔
سرمایہ کاروں کے اعتماد پر دباؤ
خلیجی اسٹاک مارکیٹوں میں ہونے والی ابتدائی مندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں فوجی کشیدگی سے متعلق خبروں کا سرمایہ کاروں کے اعتماد پر فوری اثر پڑ سکتا ہے۔
سعودی عرب اور قطر دونوں خطے کی اہم معیشتیں ہیں اور عالمی توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری کے نظام سے گہرے طور پر منسلک ہیں۔ اسی لیے خطے میں کسی بھی بڑے سکیورٹی واقعے کے نتیجے میں سرمایہ کار خطرے سے بچنے کی حکمت عملی اختیار کرسکتے ہیں۔
ایسی صورتحال میں بعض سرمایہ کار زیادہ محفوظ سمجھے جانے والے اثاثوں کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں، جبکہ علاقائی اسٹاک مارکیٹوں میں فروخت کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
توانائی کی تنصیبات پر نظر
موجودہ صورتحال میں سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور توانائی کی برآمدات پر مرکوز رہے گی۔ سعودی عرب دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے اس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق سکیورٹی خدشات عالمی منڈیوں تک بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
اگرچہ موجودہ مارکیٹ ردعمل ابتدائی نوعیت کا ہے، تاہم کشیدگی میں اضافے یا توانائی کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی صورت میں عالمی تیل مارکیٹ بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
خلیجی منڈیوں کے لیے نئی آزمائش
سعودی اور قطری اسٹاک انڈیکس میں کمی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی متعدد سکیورٹی اور جغرافیائی سیاسی تنازعات سے متاثر ہے۔
سرمایہ کار اب یہ دیکھ رہے ہیں کہ ریاض پر حملے سے متعلق مزید معلومات کیا سامنے آتی ہیں، سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی کس سمت جاتی ہے اور آیا دیگر خلیجی ممالک بھی کسی ممکنہ سکیورٹی خطرے کی زد میں آتے ہیں یا نہیں۔
خلیجی اسٹاک مارکیٹوں کی ابتدائی مندی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں فوجی کشیدگی کی خبریں مالیاتی منڈیوں میں فوری ردعمل پیدا کرسکتی ہیں، تاہم آئندہ سمت کا انحصار زمینی صورتحال اور مزید سامنے آنے والی اطلاعات پر ہوگا۔

ہمیں فالو کریں