اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا بیلاروس سے پوٹاش کی خریداری کے لیے ایک بڑے معاہدے پر کام کر رہا ہے، جس کے تحت واشنگٹن کینیڈا کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم قیمت پر پوٹاش حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ ٹرمپ کے مطابق اس اقدام سے امریکی کسانوں اور مویشی پالنے والوں کے لیے کھاد کی لاگت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ٹرمپ کا بڑا اعلان
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ امریکا بیلاروس سے پوٹاش خریدنے کے حوالے سے ’’بڑے معاہدے‘‘ پر کام کر رہا ہے۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ بیلاروس سے حاصل ہونے والی پوٹاش کی قیمت اس وقت کینیڈا کو ادا کی جانے والی قیمت سے کافی کم ہوگی۔
ٹرمپ نے اسے امریکی کسانوں اور مویشی پالنے والوں کے لیے اچھی خبر قرار دیا، تاہم مجوزہ معاہدے کی حتمی قیمت، مقدار، مدت اور ترسیل کے طریقہ کار کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔
کینیڈا پر امریکی انحصار
امریکا پوٹاش کی اپنی ضروریات کے لیے بڑی حد تک کینیڈا پر انحصار کرتا ہے۔ کینیڈا دنیا میں پوٹاش پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے اور امریکا کے لیے اس کی سپلائی کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔
خاص طور پر سسکیچیوان میں پوٹاش کی بڑی کانیں موجود ہیں، جہاں سے امریکا کو بڑی مقدار میں کھاد فراہم کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیلاروس سے خریداری کا منصوبہ صرف کھاد کی قیمتوں کا معاملہ نہیں بلکہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی کے تناظر میں بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
کسانوں کے لیے پوٹاش کیوں اہم؟
پوٹاش زرعی شعبے میں استعمال ہونے والی بنیادی کھادوں میں شامل ہے۔ یہ پودوں کی بیماریوں کے خلاف مزاحمت بہتر بنانے، فصل کے معیار کو برقرار رکھنے اور پیداوار بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔
اگر امریکا کو واقعی کم قیمت پر پوٹاش دستیاب ہوجاتی ہے تو اس سے کسانوں کے پیداواری اخراجات پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صرف بیلاروس سے پوٹاش خریدنے کا منصوبہ امریکی زرعی شعبے کے تمام مسائل حل نہیں کرسکتا۔
بیلاروس کی پیداوار بھی محدود
بیلاروس دنیا کے بڑے پوٹاش پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، لیکن اس کے باوجود بڑی مقدار میں نئی سپلائی فوری طور پر امریکا پہنچانا آسان نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ کی ٹیرف جنگ کا کینیڈا کو الٹا فائدہ؟ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے اربوں ڈالر کا امکان
بیلاروس کی پوٹاش کی بڑی مقدار پہلے ہی مختلف خریداروں کے ساتھ معاہدوں کے تحت فروخت ہوتی ہے۔ بیلاروسی صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے بھی حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ملک کے پاس فوری طور پر بہت بڑی اضافی مقدار دستیاب نہیں اور موجودہ سال کی پیداوار کا بڑا حصہ پہلے ہی معاہدوں میں شامل ہے۔
راستے میں بڑی رکاوٹ
بیلاروس سمندر تک براہ راست رسائی نہ رکھنے والا ملک ہے، اس لیے امریکا تک پوٹاش پہنچانے کے لیے طویل اور پیچیدہ ترسیلی راستہ اختیار کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماضی میں بیلاروسی پوٹاش کی برآمدات کے لیے لیتھوانیا کی کلیپیدا بندرگاہ اہم راستہ رہی ہے، لیکن پابندیوں اور سیاسی تنازعات کے باعث یہ راستہ پہلے جیسی سہولت فراہم نہیں کرتا۔ متبادل صورت میں سامان کو روسی بندرگاہوں کے ذریعے بحر اوقیانوس تک پہنچانا پڑ سکتا ہے، جس سے شپنگ اور لاجسٹکس کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
ماہرین قیمت میں کمی پر محتاط
کھاد کے تجزیہ کار جوش لِن وِل کے مطابق امریکی مارکیٹ میں اس وقت پوٹاش کی کوئی شدید قلت نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا کے پاس پوٹاش کی مناسب مقدار موجود ہے اور اصل ضرورت نائٹروجن اور فاسفیٹ کھادوں کے شعبے میں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق بیلاروس سے پوٹاش آنے کے باوجود اس کا امریکی کسانوں کو ملنے والی قیمت پر فوری اور بڑا اثر پڑنا ضروری نہیں۔
لوکاشینکو کا 40 ملین ڈالر کا مطالبہ
بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے حالیہ دنوں میں کہا تھا کہ امریکی پابندیوں میں نرمی کے بعد بیلاروس نے امریکا کو پوٹاش کی فروخت دوبارہ شروع کردی ہے۔
تاہم لوکاشینکو نے امریکا میں منجمد بیلاروسی رقم واپس کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ان کے مطابق 40 ملین ڈالر سے زیادہ رقم امریکی بینکاری نظام میں پھنسی ہوئی ہے۔ امریکی نمائندوں اور بیلاروسی حکام کے درمیان اس رقم کو واپس کرنے کے طریقہ کار پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔
امریکا اور بیلاروس کے تعلقات میں تبدیلی
بیلاروس سے پوٹاش خریدنے کا ممکنہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور منسک کے تعلقات میں بھی کچھ تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔
امریکا نے حالیہ عرصے میں بیلاروس کے ساتھ سفارتی رابطے بڑھائے ہیں اور بعض پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے۔ اسی دوران قیدیوں کی رہائی اور منجمد اثاثوں جیسے معاملات پر بھی دونوں ممالک کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔
کینیڈا کے لیے نیا چیلنج
اگر امریکا بیلاروس سے بڑے پیمانے پر پوٹاش درآمد کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اس سے کینیڈا کی امریکی مارکیٹ میں پوزیشن پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں معاہدے کی اصل مقدار، قیمت اور ترسیل کے اخراجات واضح نہ ہونے کے باعث اس کے مستقبل کے اثرات کا حتمی اندازہ لگانا قبل از وقت ہے۔
کھادوں کی عالمی صورتحال
دوسری جانب عالمی کھاد مارکیٹ پہلے ہی کئی مشکلات سے گزر رہی ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ اور خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے نائٹروجن اور فاسفیٹ کھادوں کی سپلائی کو متاثر کیا ہے۔ خلیجی خطے سے نائٹروجن کھاد، قدرتی گیس اور فاسفیٹ کی تیاری میں استعمال ہونے والی سلفر کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔
ایسے ماحول میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بیلاروس سے پوٹاش خریدنے کی کوشش امریکا کے لیے سپلائی کے ایک اضافی ذریعے کی تلاش ہے، لیکن اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار قیمت کے ساتھ ساتھ دستیابی، شپنگ، پابندیوں اور طویل فاصلے کی ترسیل پر ہوگا۔
