اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) جنوبی افریقا کے اسٹار فاسٹ بولر کگیسو ربادا نے پاکستان کے لیجنڈری فاسٹ بولر وسیم اکرم کے 1992 کے ورلڈکپ فائنل میں یادگار اسپیل کو اپنے پسندیدہ ورلڈکپ لمحات میں شامل کرتے ہوئے اسے ناقابل فراموش قرار دیا ہے۔
کگیسو ربادا نے ورلڈکپ کی تاریخ سے اپنے پسندیدہ لمحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1992 کے ورلڈکپ فائنل میں انگلینڈ کے خلاف وسیم اکرم کی شاندار بولنگ ایسی کارکردگی تھی جسے وہ کبھی نہیں بھول سکتے۔
وسیم اکرم نے فائنل میں میچ کا نقشہ بدل دیا
1992 کے ورلڈکپ فائنل میں پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیمیں مدمقابل تھیں۔ میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے اس تاریخی مقابلے میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 249 رنز بنائے۔
انگلینڈ کی ٹیم ہدف کے تعاقب میں موجود تھی اور ایک موقع پر میچ میں سنسنی برقرار تھی تاہم وسیم اکرم نے اپنے تباہ کن اسپیل کے ذریعے مقابلے کا نقشہ تبدیل کردیا۔
پاکستانی فاسٹ بولر نے انگلینڈ کے اہم بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھائی اور پاکستان کی فتح کی بنیاد مضبوط کردی۔ وسیم اکرم کی ریورس سوئنگ اور خطرناک رفتار نے انگلش بیٹنگ لائن کو شدید مشکلات سے دوچار کیا۔
تین گیندوں نے تاریخ رقم کردی
وسیم اکرم کے اس اسپیل کا سب سے یادگار حصہ وہ اوور تھا جس میں انہوں نے ایلن لیمب اور کرس لوئس کو آؤٹ کیا۔ دونوں وکٹیں ایسی گیندوں پر حاصل ہوئیں جنہیں کرکٹ کی تاریخ کی یادگار گیندوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
ایلن لیمب کو وسیم اکرم نے شاندار اندر آتی گیند پر بولڈ کیا جبکہ اس کے بعد کرس لوئس بھی وسیم اکرم کی خطرناک سوئنگ کا شکار ہوگئے۔ ان وکٹوں نے انگلینڈ کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچایا۔
ربادا نے رفتار اور مہارت کو سراہا
کگیسو ربادا نے وسیم اکرم کی بولنگ کے مختلف پہلوؤں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی رفتار، مہارت اور میدان میں موجودگی غیر معمولی تھی۔
جنوبی افریقی فاسٹ بولر کے مطابق وسیم اکرم جب گیند کرنے آتے تھے تو ان کے انداز اور توانائی سے واضح ہوتا تھا کہ وہ کھیل پر مکمل غلبہ حاصل کرنے کے لیے میدان میں اترے ہیں۔
ربادا کے اس تبصرے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وسیم اکرم کی شہرت صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے بڑے فاسٹ بولرز بھی ان کی صلاحیتوں اور تاریخی کارکردگیوں سے متاثر رہے ہیں۔
وسیم اکرم کا نام فاسٹ بولنگ کی تاریخ میں نمایاں
وسیم اکرم کو کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولرز میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران نئی اور پرانی گیند کے ساتھ شاندار بولنگ کی اور ریورس سوئنگ کو جدید کرکٹ میں ایک خطرناک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔
ان کی گیند کو دونوں سمتوں میں سوئنگ کرنے کی صلاحیت نے دنیا بھر کے بلے بازوں کو مشکلات سے دوچار کیا۔ اسی مہارت کی جھلک 1992 کے ورلڈکپ فائنل میں بھی نمایاں طور پر دکھائی دی۔
پاکستان کی تاریخی فتح
وسیم اکرم کی شاندار بولنگ کے بعد انگلینڈ کی ٹیم ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی اور پاکستان نے 22 رنز سے تاریخی کامیابی حاصل کرکے پہلی مرتبہ ورلڈکپ اپنے نام کیا۔
اس فتح نے پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں ایک سنہرا باب رقم کیا۔ عمران خان کی قیادت میں قومی ٹیم نے مشکلات کے باوجود ٹائٹل اپنے نام کیا، جبکہ وسیم اکرم نے فائنل میں اپنی کارکردگی کے ذریعے کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
ایک ایسی کارکردگی جو آج بھی یاد ہے
1992 کا ورلڈکپ فائنل گزرے کئی دہائیاں بیت چکی ہیں، لیکن وسیم اکرم کا تباہ کن اسپیل آج بھی کرکٹ شائقین کے ذہنوں میں تازہ ہے۔
کگیسو ربادا کی جانب سے اس تاریخی کارکردگی کو اپنے پسندیدہ ورلڈکپ لمحات میں شامل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وسیم اکرم کی بولنگ کا اثر نسلوں اور سرحدوں سے آگے تک پہنچا ہے۔ ان کا 1992 کے فائنل کا اسپیل آج بھی فاسٹ بولنگ کی تاریخ کی یادگار ترین کارکردگیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔