اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی حکومت کی جانب سے کینیڈا کے شہر ونی پیگ میں قائم قونصل خانے کو بند کرنے کے منصوبے نے سفارتی اور تجارتی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ سابق امریکی اہلکاروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے امریکا کینیڈا کے ایک بڑے حصے سے براہِ راست رابطہ کھو دے گا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاملات متاثر ہو سکتے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ونی پیگ قونصل خانے کی سفارتی ذمہ داریاں مرحلہ وار اوٹاوا میں قائم امریکی سفارت خانے کو منتقل کر دی جائیں گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ وسائل کے مؤثر استعمال اور آپریشنز کو بہتر بنانے کی پالیسی کا حصہ ہے، تاہم قونصل خانے کی بندش کے آغاز کی تاریخ ابھی واضح نہیں کی گئی۔
شمالی امریکا میں واحد بندش
امریکی انتظامیہ کے مطابق ونی پیگ قونصل خانہ شمالی امریکا میں واحد امریکی سفارتی مرکز ہے جسے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ ان پانچ چھوٹے سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں شامل ہے جنہیں آپریشنز کو محدود اور اخراجات کم کرنے کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔
اگرچہ ونی پیگ قونصل خانہ ویزا یا قونصلر خدمات فراہم نہیں کرتا تھا، لیکن یہاں موجود نمائندہ امریکی پالیسی کو آگے بڑھانے اور تجارتی تعلقات بہتر بنانے کے لیے کام کرتا تھا۔
سابق اہلکار کی تشویش
ونی پیگ قونصل خانے میں 20 سال تک سیاسی اور اقتصادی امور کے ماہر کے طور پر کام کرنے والے بریڈ کربی سن نے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قونصل خانہ امریکا کے لیے کینیڈا کے وسطی علاقے میں آنکھ اور کان کا کردار ادا کرتا تھا۔ اسے بند کرنے سے واشنگٹن ایک ایسے خطے سے دور ہو جائے گا جہاں اہم کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :سوشل میڈیا پر مسلمانوں اور یہودیوں کے خلاف نفرت پھیلانے والےونی پیگ کے شخص کا عدالت میں اعتراف جرم
انہوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت چند ڈالر بچا لے گی، لیکن اس کے بدلے امریکا کینیڈا کے ایک بڑے حصے سے براہ راست رابطہ کھو دے گا۔
درمیان میں موجودگی کیوں ضروری؟
کربی سن کے مطابق ونی پیگ میں امریکی قونصل خانہ برقرار رکھنا منطقی تھا کیونکہ یہ ملک کے وسطی حصے کے مسائل کو سمجھنے میں مدد دیتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کیلگری اور ٹورنٹو میں موجود امریکی سفارتی مراکز کے درمیان کافی فاصلہ ہے، اس لیے ونی پیگ جیسے مقام پر موجودگی تجارتی مسائل کی بروقت نشاندہی اور حل میں مددگار ثابت ہوتی تھی۔
ان کے مطابق قونصل خانے کا عملہ دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے ممکنہ تجارتی تنازعات کو ابتدائی مرحلے میں حل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا تھا۔
ٹیرف تنازع کے دوران فیصلہ
قونصل خانے کی بندش کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی جاری ہے۔منی ٹوبا کے وزیر اعلیٰ واب کنیؤ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیرف پالیسیوں پر اختلافات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ منی ٹوبا حکومت نے امریکی مصنوعات کے خلاف بعض اقدامات بھی کیے، جن میں امریکا میں تیار ہونے والی شراب کی درآمد روکنے کا اعلان شامل تھا۔
کنیؤ نے ٹرمپ کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں صوبے کی معیشت کے لیے بڑا مسئلہ قرار دیا۔
منی ٹوبا کا تجارتی دفتر اہم
قونصل خانے کی بندش کے بعد سب کی نظریں منی ٹوبا کے واشنگٹن میں قائم تجارتی دفتر پر ہیں۔صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکی مارکیٹ میں منی ٹوبا کے مفادات کے تحفظ کے لیے قائم تجارتی دفتر اپنا کام جاری رکھے گا اور قونصل خانے کی بندش سے اس کے کردار میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
تاہم اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ تقریباً ایک ملین ڈالر سالانہ خرچ کرنے کے باوجود واشنگٹن میں قائم تجارتی دفتر نئے سرمایہ کاری منصوبے اور بڑے تجارتی معاہدے حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
کاروباری حلقوں کا ردعمل
منی ٹوبا چیمبر آف کامرس کے چیف ایگزیکٹو چک ڈیوڈسن نے کہا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ قونصل خانے کی بندش سے کتنا نقصان ہوگا، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ صورتحال پر نظر رکھنا ضروری ہے۔
ورلڈ ٹریڈ سینٹر ونی پیگ کے چیف ایگزیکٹو آندرے برین کے مطابق امریکی قونصل خانے کی موجودگی کاروباری اداروں کے لیے اہم رابطے کا ذریعہ تھی۔
انہوں نے کہا کہ قونصل خانہ صرف تجارتی مواقع پیدا کرنے میں مدد نہیں کرتا تھا بلکہ دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کے درمیان مسلسل رابطہ برقرار رکھنے کا ذریعہ بھی تھا۔
امریکا کو بھی نقصان ہوگا
یونیورسٹی آف منی ٹوبا کے سیاسی علوم کے ایسوسی ایٹ پروفیسر برائن پیلر کے مطابق ونی پیگ قونصل خانہ امریکا کے لیے خطے کی صورتحال جاننے کا اہم ذریعہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اب بھی معلومات حاصل کر سکے گا، لیکن ممکنہ طور پر وہ معلومات مقامی سطح کے بجائے دور بیٹھے حکام کے ذریعے حاصل ہوں گی، جس سے درستگی اور فوری ردعمل متاثر ہو سکتا ہے۔
اقتصادی انحصار کم کرنے کا مشورہ
آندرے برین نے کہا کہ یہ فیصلہ کینیڈا کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ اسے اپنی معیشت کے لیے صرف امریکا پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔
ان کے مطابق کینیڈا کو دیگر عالمی منڈیوں اور ممالک کے ساتھ بھی اقتصادی تعلقات مضبوط کرنے چاہئیں تاکہ کسی ایک ملک پر ضرورت سے زیادہ انحصار نہ رہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ونی پیگ قونصل خانے کی بندش بظاہر ایک چھوٹا انتظامی فیصلہ نظر آتی ہے، لیکن اس کے اثرات امریکا اور کینیڈا کے تجارتی رابطوں، کاروباری تعلقات اور سفارتی تعاون پر طویل مدت تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔