کینیڈا کی صحافت کا ایک عہد ختم، معروف اینکر لائیڈ رابرٹسن 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے معروف ترین نیوز اینکر اور ٹیلی وژن صحافت کے ایک بڑے نام لائیڈ رابرٹسن 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کے ساتھ کینیڈین براڈکاسٹنگ کی تاریخ کا ایک اہم باب ختم ہوگیا، کیونکہ رابرٹسن نے کئی دہائیوں تک ملک کے سب سے قابلِ اعتماد نیوز چہروں میں اپنی جگہ بنائے رکھی۔

لائیڈ رابرٹسن کی پرسکون آواز، متوازن اندازِ گفتگو اور خبروں کو ذمہ داری سے پیش کرنے کی صلاحیت نے انہیں کینیڈا بھر میں مقبول بنایا۔ وہ طویل عرصے تک CTV News کے چیف اینکر رہے اور لاکھوں ناظرین کے لیے خبروں کا سب سے معتبر ذریعہ سمجھے جاتے تھے۔

صحافت کا شاندار سفر

رابرٹسن نے اپنے صحافتی سفر کا آغاز ریڈیو سے کیا، جہاں انہوں نے ابتدائی برسوں میں اپنی آواز اور رپورٹنگ کے منفرد انداز سے پہچان بنائی۔ بعد ازاں وہ ٹیلی وژن کی دنیا میں آئے اور آہستہ آہستہ کینیڈا کے نمایاں ترین نیوز اینکرز میں شامل ہوگئے۔

انہوں نے کئی دہائیوں تک اہم قومی اور عالمی واقعات کی کوریج کی، جن میں سیاسی تبدیلیاں، جنگیں، قدرتی آفات، شاہی تقریبات اور کینیڈا کی تاریخ کے کئی یادگار لمحات شامل تھے۔

لاکھوں گھروں کا اعتماد

لائیڈ رابرٹسن کی سب سے بڑی پہچان ان کا اعتماد اور سنجیدگی پر مبنی انداز تھا۔ وہ خبر کو سنسنی کے بجائے ذمہ داری کے ساتھ پیش کرنے کے لیے مشہور تھے۔

یہ بھی پڑھیں :ڈی ڈے کے ہیرو اور کینیڈا کے قابل فخر سپاہی، 101 سالہ کیپٹن بل ولسن انتقال کرگئے

ان کے دور میں شام کی خبری نشریات لاکھوں کینیڈین خاندانوں کے معمول کا حصہ بن چکی تھیں۔ لوگ اہم قومی اور عالمی واقعات جاننے کے لیے ان کی میزبانی میں نشر ہونے والے پروگراموں کا انتظار کرتے تھے۔

بڑے واقعات کے گواہ

اپنے طویل کیریئر کے دوران رابرٹسن نے دنیا کے کئی تاریخی واقعات ناظرین تک پہنچائے۔ انہوں نے کینیڈین سیاست کے اہم موڑ، بین الاقوامی بحرانوں، شاہی خاندان سے متعلق تقریبات اور عالمی سطح کے بڑے واقعات کی رپورٹنگ کی۔

ان کا انداز ایسا تھا کہ مشکل اور پیچیدہ معاملات کو بھی عام ناظرین کے لیے آسان الفاظ میں بیان کر دیتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ صرف ایک نیوز اینکر نہیں بلکہ کینیڈین معاشرے میں ایک قابلِ اعتماد آواز بن گئے تھے۔

سی ٹی وی کے ساتھ طویل وابستگی

رابرٹسن نے CTV Television Network کے ساتھ طویل عرصہ کام کیا اور ادارے کی شناخت بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔وہ کئی برس تک نیٹ ورک کے سب سے نمایاں چہرے رہے۔ ان کی قیادت میں CTV کی نیوز کوریج نے کینیڈا میں مضبوط مقام حاصل کیا اور انہیں ملک کے سب سے زیادہ پہچانے جانے والے صحافیوں میں شمار کیا جانے لگا۔

اعزازات اور خدمات

لائیڈ رابرٹسن کو ان کی صحافتی خدمات پر کئی اعزازات سے نوازا گیا۔ انہیں کینیڈا کے اعلیٰ ترین سول اعزازات میں سے ایک سے بھی سرفراز کیا گیا، جبکہ صحافت میں ان کے کردار کو مسلسل سراہا جاتا رہا۔

صحافتی حلقوں میں انہیں ایک ایسے شخص کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس نے خبر رسانی میں دیانت، شائستگی اور پیشہ ورانہ معیار کو ہمیشہ ترجیح دی۔

نئی نسل کے لیے مثال

میڈیا ماہرین کے مطابق رابرٹسن صرف ایک اینکر نہیں تھے بلکہ ایک پورے دور کی نمائندگی کرتے تھے۔ ان کے کام نے کئی نوجوان صحافیوں کو متاثر کیا اور انہیں یہ سکھایا کہ کامیاب اینکر بننے کے لیے صرف اچھی آواز نہیں بلکہ تحقیق، توازن اور عوامی اعتماد بھی ضروری ہے۔

مداحوں کا خراج عقیدت

لائیڈ رابرٹسن کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد کینیڈا بھر سے صحافیوں، سیاست دانوں اور عام شہریوں نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

سوشل میڈیا پر ہزاروں افراد نے ان کے ساتھ جڑی یادیں شیئر کیں اور کہا کہ ان کی آواز کئی نسلوں کے لیے کینیڈا کے اہم لمحات کی پہچان رہی۔

ایک یادگار ورثہ

لائیڈ رابرٹسن کا نام کینیڈین صحافت کی تاریخ میں ہمیشہ عزت کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے ایسے وقت میں نشریاتی صحافت کو مضبوط کیا جب ٹیلی وژن لوگوں کے گھروں میں معلومات کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔

92 سالہ رابرٹسن اپنے پیچھے ایک ایسا صحافتی ورثہ چھوڑ گئے ہیں جس میں اعتماد، سچائی اور عوامی خدمت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ان کی موت سے کینیڈا نے صرف ایک اینکر نہیں بلکہ ایک ایسی آواز کھو دی ہے جو کئی دہائیوں تک ملک کے اہم ترین واقعات کی گواہ رہی۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں