بھارتی آپریشن سندور کی نئی کہانی بے نقاب، آئی ایس پی آر نے حقائق سامنے رکھ دیے

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)معرکہ حق کے ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بھارت کی جانب سے جنگی حقائق تسلیم نہ کرنے اور آپریشن سندور کے ذریعے واقعات کو اپنے حق میں پیش کرنے کی کوشش پر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے سخت ردعمل دیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی ڈاکیومنٹری میں حقائق کے بجائے جذباتی بیانیے اور فلمی انداز کو ترجیح دی گئی ہے، جس کا مقصد جنگ کے اصل نتائج کو مختلف رنگ دینا ہے۔

تاریخ دوبارہ لکھنے کی کوشش

آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت شکست تسلیم کرنے کے بجائے اسے اپنی مرضی کا رنگ دینے میں مصروف ہے۔ آپریشن سندور کے نام سے تیار کی گئی بھارتی ڈاکیومنٹری حقائق کو مسخ کرنے اور جنگی واقعات کی نئی تشریح پیش کرنے کی کوشش ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ڈاکیومنٹری میں پیش کیے گئے مناظر اور دعوے حقیقی جنگی ریکارڈ کے بجائے جذباتی بیانیے پر مبنی دکھائی دیتے ہیں۔

پہلگام حملے پر سوال

آئی ایس پی آر نے بھارتی مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر پہلگام حملے کے مبینہ ملزمان 28 جولائی کو مارے گئے تو پھر 7 مئی کو بھارت نے کس کو سزا دینے کا دعویٰ کیا تھا؟

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آپریشن سندور کو پہلگام حملے کا بدلہ قرار دینے کا بھارتی دعویٰ اس کے اپنے بیانیے سے مطابقت نہیں رکھتا۔

یہ بھی پڑھیں :کے پی کے میں دہشتگردوں کو ساز گار سیاسی ماحول فراہم کیا جارہا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی مؤقف میں موجود یہ تضاد خود اس دعوے کی بنیاد پر سوال اٹھاتا ہے کہ آپریشن سندور پہلگام حملے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی تھی۔

100 فیصد کامیابی کے دعوے پر اعتراض

آئی ایس پی آر نے بھارتی دعوے کہ آپریشن سندور 100 فیصد کامیاب رہا، کو بھی مسترد کیا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق یہ دعویٰ آپریشنل ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتا اور فلمی مناظر یا پروپیگنڈا حقیقی جنگی نتائج کو تبدیل نہیں کرسکتے۔

آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ جنگ کے نتائج کا تعین دستاویزی ریکارڈ، زمینی حقائق اور عملی کارروائیوں سے ہوتا ہے، نہ کہ کسی ڈاکیومنٹری میں پیش کیے گئے مناظر سے۔

بھارتی طیاروں کا نقصان

آئی ایس پی آر کے مطابق معرکہ حق کے دوران پاکستان نے بھارتی جارحیت کا مؤثر مقابلہ کیا اور 8 بھارتی فوجی طیارے مار گرائے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے کہا کہ جنگی کارروائیوں کے دوران پاکستان نے بھارتی فوج کے اہم اہداف کو بھی نشانہ بنایا، جس سے بھارتی جارحیت کو ناکام بنانے میں مدد ملی۔آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن بنیان مرصوص کے دوران 26 بھارتی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

فلمی مناظر حقیقت نہیں بدل سکتے

آئی ایس پی آر نے بھارتی ڈاکیومنٹری کے انداز پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فلمی مناظر اور جذباتی انداز حقیقی جنگی حقائق کو تبدیل نہیں کرسکتے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق جنگ کے دوران پیش آنے والے واقعات کا اندازہ طیاروں کے نقصانات، فوجی اہداف پر کارروائی اور دیگر قابلِ تصدیق جنگی شواہد سے لگایا جاتا ہے۔اس لیے کسی واقعے کو فلمی انداز میں پیش کرنے سے جنگ کے اصل نتائج تبدیل نہیں ہوسکتے۔

پاکستان کو بیانیہ گھڑنے کی ضرورت نہیں

آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کو معرکہ حق کے حوالے سے کوئی من گھڑت بیانیہ بنانے کی ضرورت نہیں۔شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق جنگی ریکارڈ، سفارتی رابطے اور خود بھارتی حکام کے بیانات بہت سے حقائق کو واضح کرنے کے لیے کافی ہیں۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان کا مؤقف محض دعووں پر نہیں بلکہ جنگ کے دوران سامنے آنے والے واقعات اور دستیاب ریکارڈ پر مبنی ہے۔

امن کے عزم کا اعادہ

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی کشیدگی کو بڑھانا نہیں چاہتا۔

تاہم آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج ملکی خودمختاری اور سالمیت کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور قومی سلامتی کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

آئندہ مہم جوئی پر فیصلہ کن جواب

آئی ایس پی آر نے خبردار کیا کہ اگر مستقبل میں پاکستان کے خلاف کوئی مہم جوئی کی گئی تو اس کا جواب فیصلہ کن ہوگا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن ملکی خودمختاری اور دفاع کے معاملے میں کسی بھی خطرے کا مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ جنگی حقائق کو فلمی مناظر یا یک طرفہ بیانیے کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جاسکتا اور معرکہ حق کے اصل نتائج وقت کے ساتھ مزید واضح ہوتے جائیں گے۔

ہمیں فالو کریں