اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکا، ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے ایک عبوری معاہدے کے امکانات سامنے آئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تینوں ممالک کے درمیان ایک ایسے فریم ورک پر بات چیت جاری ہے جس کا مقصد اہم بحری راستے کو تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ بنانا اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مجوزہ معاہدہ عارضی بنیادوں پر ہوگا، تاہم اس حوالے سے امریکا، ایران یا عمان کی جانب سے تاحال باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ پیش رفت کامیاب ہوتی ہے تو یہ خطے میں سفارتی کوششوں کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔
60 روزہ عبوری معاہدے کا امکان
امریکی نشریاتی ادارے ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدہ تقریباً 60 دن کے لیے ہو سکتا ہے۔ اس دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے ایک مخصوص طریقہ کار طے کیا جائے گا تاکہ بحری آمدورفت معمول پر آ سکے۔
رپورٹ کے مطابق ممکنہ انتظام کے تحت آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے تجارتی جہاز ایران کے سمندری راستے سے جبکہ باہر جانے والے جہاز عمان کے سمندری راستے کو استعمال کر سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ خلیج فارس کو بحیرہ عمان سے ملاتی ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل میں اس کا کردار انتہائی اہم ہے۔
یہ بھی پڑھیں :آبنائے ہرمز کا بحران مزید بڑھ گیا، ٹرمپ کی ایران کو سخت کارروائی کی دھمکی
دنیا کے بڑے حصے کے خام تیل اور گیس کی نقل و حمل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے اثرات عالمی منڈی، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر فوری طور پر محسوس کیے جاتے ہیں۔
تجارتی جہازوں پر کوئی فیس نہیں ہوگی
رپورٹس کے مطابق عبوری معاہدے کے دوران تجارتی جہازوں سے کسی قسم کا ٹول ٹیکس یا ٹرانزٹ فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد بحری تجارت کو آسان بنانا اور جہاز رانی کی سرگرمیوں کو دوبارہ معمول پر لانا بتایا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ نظام کامیابی سے نافذ ہو جاتا ہے تو عالمی شپنگ کمپنیوں کو بھی کچھ حد تک اعتماد حاصل ہو سکتا ہے۔
مذاکرات میں ثالثی کا کردار
ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں عمان کے ساتھ ساتھ قطر، پاکستان اور سعودی عرب نے بھی سفارتی کردار ادا کیا ہے۔
عمان ماضی میں بھی امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کے لیے ایک اہم ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک خطے میں کسی بھی بڑے تصادم سے بچنے کے خواہاں ہیں کیونکہ اس کے اثرات براہ راست ان کی معیشت اور سیکیورٹی پر پڑ سکتے ہیں۔
جوہری مذاکرات کے لیے راستہ
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس عبوری معاہدے کا ایک مقصد امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد سازی پیدا کرنا بھی ہے تاکہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے ماحول بہتر بنایا جا سکے۔
امریکا طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام پر تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
اعلان کا انتظار
ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مجوزہ فریم ورک پر اصولی اتفاق کیا تھا، تاہم حتمی منظوری اور باضابطہ اعلان ابھی باقی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی سفارتی پیش رفت کو احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ خطے کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے۔
اگر امریکا، ایران اور عمان کے درمیان یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ نہ صرف آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی بحالی کا باعث بن سکتا ہے بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی توانائی کے نظام کو استحکام دینے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم حتمی صورتحال کا انحصار فریقین کے عملی اقدامات اور آئندہ مذاکرات پر ہوگا۔