انٹرنیٹ کا 35 فیصد نیا مواد اے آئی سے تیار ہونے کا انکشاف

انٹرنیٹ پر مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے حوالے سے ایک نئی تحقیق نے اہم انکشاف کیا ہے۔

تحقیق کے مطابق چیٹ جی پی ٹی کے اجرا کے بعد شائع ہونے والے نئے ویب پیجز میں سے ایک تہائی سے زیادہ پر مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے مواد تیار یا اس میں ترمیم کیے جانے کے نمایاں آثار پائے گئے ہیں۔

تحقیق کے مطابق انٹرنیٹ پر شائع ہونے والے نئے مواد میں انسانی کردار کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان اسی رفتار سے جاری رہا تو مستقبل میں انٹرنیٹ پر انسانی تحریر اور اے آئی سے تیار کردہ مواد کے درمیان فرق کرنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔

پیو ریسرچ سینٹر کی تحقیق

پیو ریسرچ سینٹر نے گزشتہ پانچ برس کے دوران جمع کیے گئے تقریباً پانچ لاکھ انگریزی زبان کے ویب پیجز پر مشتمل ویب آرکائیو کا تجزیہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں :

اے آئی ٹیکنالوجی بوٹس اورایٹمی ہتھیار کا استعمال،نئی تحقیق میں چونکا دینے والا انکشاف

محققین نے ان ویب پیجز کے متن کا جائزہ لینے کے لیے ایک ایسے پروگرام کا استعمال کیا جو تحریر میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے امکانات کا اندازہ لگاتا ہے۔ تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ انٹرنیٹ پر شائع ہونے والے مواد میں اے آئی کی شمولیت کس حد تک بڑھ چکی ہے۔

مجموعی طور پر 10 فیصد صفحات پر نمایاں آثار

تحقیق کے مجموعی نمونے میں تقریباً 10 فیصد ویب پیجز پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تحریر کیے جانے کے نمایاں آثار پائے گئے۔

تاہم جب محققین نے صرف چیٹ جی پی ٹی کے اجرا کے بعد شائع ہونے والے ویب پیجز کا الگ سے جائزہ لیا تو صورتحال نمایاں طور پر مختلف نظر آئی۔ اس گروپ میں اے آئی سے تیار یا متاثر ہونے والے مواد کی شرح تقریباً 35 فیصد تک پہنچ گئی۔

یعنی چیٹ جی پی ٹی کے عام دستیاب ہونے کے بعد انٹرنیٹ پر شائع ہونے والے نئے مواد میں مصنوعی ذہانت کی موجودگی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

ڈیڈ انٹرنیٹ تھیوری کے خدشات بڑھ گئے

تحقیق ایسے وقت سامنے آئی ہے جب انٹرنیٹ پر موجود مواد کے حوالے سے ’ڈیڈ انٹرنیٹ تھیوری‘ ایک مرتبہ پھر زیر بحث ہے۔

اس نظریے کے مطابق انٹرنیٹ پر مواد تخلیق کرنے اور صارفین کے ساتھ تعامل میں انسانوں کے بجائے خودکار نظاموں، بوٹس اور مصنوعی ذہانت کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔

اگرچہ یہ نظریہ انٹرنیٹ کے بارے میں ایک متنازع تصور سمجھا جاتا ہے تاہم اے آئی سے تیار ہونے والے مواد اور خودکار نظاموں کی بڑھتی ہوئی سرگرمی نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔

اے آئی مواد میں تیزی سے اضافہ

تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف سوالات کے جوابات دینے یا ذاتی نوعیت کے کام انجام دینے تک محدود نہیں رہی بلکہ ویب پر شائع ہونے والے مواد کی تیاری میں بھی اس کا کردار بڑھ رہا ہے۔

مختلف ویب سائٹس کے لیے مضامین لکھنے، موجودہ مواد میں ترمیم کرنے، خلاصے تیار کرنے اور دیگر تحریری کاموں میں اے آئی کے استعمال نے مواد کی تیاری کے روایتی طریقوں کو تبدیل کرنا شروع کردیا ہے۔

انسانی اور مصنوعی مواد میں فرق مشکل ہونے کا خدشہ

ماہرین کے مطابق ویب پر اے آئی سے تیار ہونے والے مواد کی بڑھتی ہوئی مقدار مستقبل میں کئی نئے سوالات کو جنم دے سکتی ہے۔ ان میں مواد کی اصلیت، معلومات کی قابل اعتماد حیثیت اور یہ شناخت کرنا شامل ہے کہ کوئی تحریر انسان نے لکھی ہے یا مصنوعی ذہانت نے تیار کی ہے۔

مزید پڑھیں :

کیا اے آئی ٹیکنالوجی انسانی ملازمتیں چھیننے کے قابل ہو چکی؟ماہرین کا حیرت انگیز انکشاف

تحقیق کے مطابق اے آئی سے تیار ہونے والے مواد کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پر اے آئی بوٹس کی سرگرمیاں بھی بڑھ رہی ہیں۔ اس صورتحال میں مستقبل کے انٹرنیٹ پر انسانی تخلیق کردہ اور مصنوعی مواد کے درمیان واضح فرق قائم کرنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

محققین کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت انٹرنیٹ کے مواد کی تیاری میں تیزی سے اہم کردار حاصل کررہی ہے اور آنے والے برسوں میں ویب کی ساخت اور اس پر موجود معلومات کی نوعیت مزید تبدیل ہونے کا امکان ہے

ہمیں فالو کریں