شہر میں آلودگی کم کرنے والے درخت ہی آلودگی بڑھانے لگے، نئی تحقیق نے خبردار کردیا

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) شہروں میں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کو عموماً صاف، صحت مند اور بہتر ماحول کے لیے ایک اہم اقدام سمجھا جاتا ہے ۔

نئی تحقیق نے اس حوالے سے ایک اہم پہلو سامنے لاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بعض اقسام کے درخت شہری علاقوں میں فضائی آلودگی کم کرنے کے بجائے مخصوص حالات میں اس میں اضافے کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق کچھ درخت ایسے وولیٹائل آرگینک کمپاؤنڈز خارج کرتے ہیں جنہیں مختصراً وی او سیز کہا جاتا ہے۔ یہ کیمیائی مرکبات فضا میں موجود دیگر عناصر کے ساتھ کیمیائی عمل کے نتیجے میں زمینی سطح پر اوزون کی تشکیل میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ زمینی سطح کا اوزون انسانی صحت اور شہری فضائی معیار کے لیے ایک اہم مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

اوٹاوا میں درخت کم ہو رہے ہیں، شہر کا 40 فیصد درختوں کا ہدف پورا ہونے میں وقت لگے گا،سٹی سٹاف

چین کی جنن یونیورسٹی سے وابستہ محققین نے اس تحقیق میں درختوں سے خارج ہونے والے کیمیائی مرکبات اور شہری ماحول میں ان کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا۔ سائنس دانوں کے مطابق اس تحقیق کا مقصد درختوں کے فوائد کو نظر انداز کرنا نہیں بلکہ شہری منصوبہ بندی میں درختوں کے انتخاب اور ان کے فضائی کیمیائی اثرات کو بھی اہمیت دینا ہے۔

درختوں کے فوائد کے ساتھ ایک اہم ماحولیاتی پہلو

محققین کا کہنا ہے کہ درخت شہری ماحول کے لیے بے شمار فوائد رکھتے ہیں۔ وہ فضا سے مختلف آلودہ گیسوں کو جذب کرنے میں مدد دیتے ہیں، سایہ فراہم کرتے ہیں اور شہروں کے درجہ حرارت کو کم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

بڑے شہروں میں جہاں کنکریٹ، سڑکوں، عمارتوں اور گاڑیوں کی کثرت کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے، وہاں درخت شہری گرمی کے اثرات کم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اسی طرح شہری سبزہ لوگوں کے لیے بہتر ماحول فراہم کرتا ہے اور فضائی معیار میں بہتری کے لیے بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

تاہم سائنس دانوں کے مطابق درختوں کی تمام اقسام فضائی ماحول پر ایک جیسا اثر نہیں ڈالتی۔ بعض اقسام اپنی قدرتی حیاتیاتی سرگرمیوں کے دوران ایسے وولیٹائل آرگینک کمپاؤنڈز خارج کرتی ہیں جو مخصوص کیمیائی حالات میں اوزون کی تشکیل کے عمل کو متاثر کرسکتے ہیں۔

وولیٹائل آرگینک کمپاؤنڈز کیا ہیں؟

تحقیق میں جن مرکبات کا ذکر کیا گیا ہے انہیں وولیٹائل آرگینک کمپاؤنڈز یا وی او سیز کہا جاتا ہے۔ یہ ایسے کیمیائی مادے ہیں جو نسبتاً آسانی سے فضا میں شامل ہوسکتے ہیں۔

محققین کے مطابق درختوں سے خارج ہونے والے بعض مرکبات کی کیمیائی خصوصیات ان مادوں سے مشابہت رکھتی ہیں جو انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں فضا میں شامل ہوتے ہیں۔ ان میں سالوینٹس، پینٹ، صفائی کی بعض مصنوعات اور ایندھن کے بخارات سے پیدا ہونے والے مرکبات شامل ہیں۔

یہ مرکبات جب شہری فضا میں دیگر آلودگی پھیلانے والے عناصر کے ساتھ کیمیائی ردعمل کرتے ہیں تو زمینی سطح پر اوزون کی تشکیل کے عمل میں حصہ لے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہری فضائی آلودگی کا جائزہ لیتے وقت صرف گاڑیوں، صنعتوں اور ایندھن سے پیدا ہونے والے اخراج کو دیکھنا کافی نہیں بلکہ قدرتی ذرائع سے خارج ہونے والے کیمیائی مرکبات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوسکتا ہے۔

بیجنگ میں براہ راست اخراج کی نگرانی

تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں قائم ایک موسمیاتی ٹاور کو استعمال کیا۔ اس ٹاور پر زمین سے تقریباً 102 میٹر کی بلندی پر براہ راست اخراج کی نگرانی کا ایک خصوصی نظام نصب کیا گیا۔

مزیدپڑھیں:

سرے سٹی کونسل نے 20,000 درختوں کو پانی دینے کیلئے 1.5 ملین ڈالر کے معاہدے کی منظوری دیدی

اس نظام کے ذریعے شہری فضا میں موجود مختلف کیمیائی سگنلز کی نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے مطابق یہ نظام ہر سیکنڈ میں کئی مرتبہ معلومات ریکارڈ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا، جس سے سائنس دانوں کو شہری فضا میں ہونے والی کیمیائی سرگرمیوں کا حقیقی وقت میں جائزہ لینے میں مدد ملی۔

اس کے علاوہ موسمیاتی ٹاور کی بنیاد میں قائم لیبارٹری میں بھی تجربات کیے گئے۔ ان مشاہدات اور تجربات کے ذریعے محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ مختلف ذرائع سے فضا میں شامل ہونے والے کیمیائی مرکبات شہری ماحول میں کس طرح ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

درجہ حرارت میں اضافہ تشویش بڑھا سکتا ہے

سائنس دانوں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے تناظر میں درختوں سے خارج ہونے والے ان کیمیائی مرکبات کی اہمیت مستقبل میں مزید بڑھ سکتی ہے۔

درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ درختوں کی حیاتیاتی سرگرمیوں اور بعض مرکبات کے اخراج میں تبدیلی آسکتی ہے۔ ایسے میں گرم اور گنجان شہری علاقوں میں درختوں سے خارج ہونے والے مرکبات اور دیگر فضائی آلودگیوں کے درمیان کیمیائی تعامل پر زیادہ توجہ دینا ضروری ہوگا۔

محققین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی شہری فضائی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ ایک طرف درخت شہری گرمی کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں اور دوسری طرف بعض حالات میں ان سے خارج ہونے والے مرکبات فضائی کیمیائی عمل کو متاثر کرسکتے ہیں۔

شہری شجرکاری کی حکمت عملی پر نظرثانی کی ضرورت
تحقیق کے نتائج نے شہری منصوبہ سازوں کے لیے ایک اہم سوال بھی اٹھایا ہے کہ شہروں میں شجرکاری کے منصوبے بناتے وقت صرف درختوں کی تعداد بڑھانا کافی ہے یا مختلف اقسام کے درختوں کے انتخاب کو بھی سائنسی بنیادوں پر طے کیا جانا چاہیے۔

محققین کے مطابق مستقبل میں شہری گرین اسپیسز اور شجرکاری کے منصوبوں میں درختوں کی تعداد کے ساتھ ان کی فضائی کیمیائی خصوصیات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ شہروں میں درخت لگانے کے عمل کو کم کیا جائے بلکہ مناسب اقسام کے انتخاب اور مقامی ماحولیاتی حالات کو سمجھ کر شجرکاری کی جائے۔

شہری ماحول میں درختوں کے فوائد اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم نئی تحقیق اس بات کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ ماحولیاتی منصوبہ بندی میں ہر عنصر کے مثبت اور ممکنہ منفی اثرات کا جامع جائزہ لینا ضروری ہے۔

درخت لگانے کے ساتھ درست انتخاب بھی ضروری

تحقیق کے مطابق شہری فضائی معیار بہتر بنانے کے لیے مستقبل کی حکمت عملی زیادہ سائنسی اور متوازن ہونی چاہیے۔ ایسے درختوں کا انتخاب جو شہری ماحول کو ٹھنڈا رکھنے، آلودگی جذب کرنے اور سبزہ بڑھانے میں مؤثر ہوں، ساتھ ہی ان سے خارج ہونے والے کیمیائی مرکبات کے ممکنہ اثرات بھی کم ہوں، شہری منصوبہ بندی کا اہم حصہ بن سکتا ہے۔

محققین کی یہ تحقیق درختوں کی اہمیت کو کم نہیں کرتی بلکہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شہری ماحول میں شجرکاری کرتے وقت درختوں کی مختلف اقسام کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔

شہروں کو صاف، ٹھنڈا اور رہنے کے قابل بنانے کے لیے درخت لگانا بدستور ایک اہم ذریعہ ہے، تاہم نئی سائنسی تحقیق یہ پیغام دیتی ہے کہ مستقبل کی شہری شجرکاری صرف تعداد پر نہیں بلکہ درست انتخاب، مقامی موسم، فضائی آلودگی اور درختوں کے قدرتی کیمیائی اخراج جیسے عوامل کو سامنے رکھ کر کی جانی چاہی

 

ہمیں فالو کریں