معاہدہ ہو گیا تو فوجی کارروائی نہیں ہوگی ،ٹرمپ کا ایران پر حملہ موخر کرنیکا اعلان

 اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کو فوری طور پر مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ سفارتی کوششوں کو کامیاب بنانے کا موقع دیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ  دونوں ممالک کے درمیان جلد کسی قابلِ قبول معاہدے پر اتفاق ہو جاتا ہے تو طاقت کے استعمال کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے تو امریکا اپنے دیگر تمام آپشنز پر غور کرنے کا حق محفوظ رکھے گا۔

یہ بھی پڑھیں:

ایران کو خریدا نہیں جا سکتا، اسے شکست دینا پڑتی ہے، ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی حکومت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی خواہاں ہے لیکن اس مقصد کے لیے ایران کو بھی ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جو اعتماد سازی میں مددگار ثابت ہوں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اپنی قومی سلامتی اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

معاہدے میں کن امور کو اہمیت دی جا رہی ہے؟
ٹرمپ کے مطابق ممکنہ معاہدے میں سب سے اہم نکات میں آبنائے ہرمز کو ہر قسم کی رکاوٹ سے پاک رکھنا اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بین الاقوامی خدشات کا ازالہ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز کی مسلسل فعالیت نہایت ضروری ہے اس لیے اس راستے پر کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا ایک ایسے فریم ورک کی حمایت کرے گا جس سے خطے میں استحکام آئے اور تمام فریق سفارتی ذرائع سے اپنے اختلافات حل کریں۔

اسرائیل کا مؤقف بھی امریکی پالیسی کے قریب
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل بھی موجودہ حکمت عملی کی حمایت کر رہا ہے، جس کے تحت پہلے سفارتی کوششوں کو موقع دیا جائے گا۔ ان کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو خطے میں بڑے پیمانے پر تصادم کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔
حملہ روکنے کی درخواست کا دعویٰ
صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے بعض دیگر ممالک نے امریکا سے فوجی کارروائی نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سفارتی ذرائع کے ذریعے یہ پیغام پہنچایا گیا کہ مذاکرات کو موقع دیا جائے تاکہ بحران مزید سنگین صورت اختیار نہ کرے۔
تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ ایران کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی تفصیلی سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا۔

عالمی برادری کی نظریں آئندہ مذاکرات پر
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات طویل عرصے سے کشیدگی کا شکار رہے ہیں، تاہم کسی بھی نئے معاہدے کی صورت میں نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کی نئی امید بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

کینیڈین آگ پر ٹرمپ کی تنقید مسترد، امریکی سینیٹر نے الزامات کو ’مذاق‘ قرار دے دیا
دوسری جانب اگر مذاکرات کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکے تو خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے اور عالمی منڈیوں، خصوصاً تیل کی قیمتوں پر اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ موجود رہے گا۔
صورتحال بدستور غیر یقینی
موجودہ صورتحال میں سفارت کاری اور مذاکرات کو اہم موقع ملا ہے، لیکن حتمی نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا۔ امریکا اور ایران دونوں کے آئندہ اقدامات اس بات کا تعین کریں گے کہ خطہ مذاکرات کی راہ پر آگے بڑھتا ہے یا ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔
اسی وجہ سے عالمی برادری کی نظریں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سلامتی، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی معیشت پر بھی نمایاں انداز میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں