آٹزم کا شکار 11 سالہ بچے کی موت، البرٹا حکومت کا ایمرجنسی الرٹ نظام بدلنے کا فیصلہ

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا کی حکومت نے ایمرجنسی الرٹ نظام کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ گزشتہ ماہ کیلگری میں آٹزم کا شکار 11 سالہ بچے کی کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی تلاش اور بعد ازاں اس کی موت کی تصدیق کے بعد کیا گیا ہے۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ایسے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر غور کررہی ہے جو کسی کمزور یا خصوصی ضروریات رکھنے والے فرد کے لاپتا ہونے کی صورت میں فوری طور پر عوام کو خبردار کرنے میں مدد دے سکے۔

البرٹا کی پبلک سیفٹی اینڈ ایمرجنسی سروسز وزارت کے مطابق صوبے بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، معذوری کے حقوق کے لیے کام کرنے والے نمائندوں اور دیگر کمیونٹی پارٹنرز سے مشاورت کی جائے گی۔ اس عمل کے دوران موجودہ ایمرجنسی الرٹ پروٹوکولز کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ایمبر الرٹ سسٹم کو بھی زیر غور لایا جائے گا۔

بچے کی گمشدگی

11 سالہ پارکر، جو نان وربل آٹزم کا شکار تھا، 16 جولائی کو کیلگری میں ایک خصوصی ڈے فیسلٹی سے لاپتا ہوگیا تھا۔ اس کے بعد پولیس، تربیت یافتہ سرچ ٹیموں اور رضاکاروں سمیت ہزاروں افراد نے شہر کے مختلف علاقوں میں بچے کی تلاش شروع کی۔

تقریباً دو ہفتوں تک جاری رہنے والی بڑے پیمانے کی تلاش کے بعد پولیس نے اعلان کیا کہ بچے کی باقیات مل گئی ہیں۔ بعد ازاں اس کی موت کی تصدیق کردی گئی۔

پارکر کی موت نے آٹزم کا شکار بچوں کے لاپتا ہونے، خاص طور پر ان بچوں کے جو اچانک گھر یا نگہداشت کے مراکز سے نکل جاتے ہیں، کے حوالے سے حفاظتی نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

حکومت کا مؤقف

البرٹا کے وزیر برائے پبلک سیفٹی اینڈ ایمرجنسی سروسز مائیک ایلس نے کہا ہے کہ حکومت اس واقعے سے سبق سیکھنا چاہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، معذوری کے شعبے سے وابستہ نمائندوں اور کمیونٹی پارٹنرز کی رائے سن کر یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ موجودہ ایمرجنسی الرٹ نظام کس طرح کام کررہا ہے اور مستقبل میں اس میں کون سی تبدیلیاں کی جانی چاہئیں۔

نگہداشت کے نظام کا جائزہ

صوبائی حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ اسسٹڈ لیونگ اینڈ سوشل سروسز وزارت اس سروس فراہم کرنے والے ادارے کی پالیسیوں اور طریقہ کار کا بھی جائزہ لے گی، جو بچے کی نگہداشت کا ذمہ دار تھا اور جہاں سے وہ لاپتا ہوا۔

یہ بھی پڑھیں :11 سالہ پارکر کی گمشدگی کے بعد البرٹا میں لاپتا بچوں کے لیے نئے ایمرجنسی الرٹ سسٹم کی تیاری

حکومت کے مطابق یہ جائزہ کیلگری پولیس سروس کی جانب سے جاری آپریشنل اور تحقیقاتی جائزے کے ساتھ ساتھ ہوگا۔ پولیس بھی بچے کی موت کے بعد اپنے اقدامات اور تلاش کے طریقہ کار کا جائزہ لے رہی ہے۔

ایمبر الرٹ پر بحث

پارکر کی گمشدگی کے بعد البرٹا میں اس سوال پر بحث شروع ہوئی کہ آیا موجودہ ایمبر الرٹ نظام کو ایسے بچوں کے لیے بھی استعمال کیا جانا چاہیے جو روایتی معیار پر پورا نہ اترتے ہوں مگر جنہیں فوری خطرہ لاحق ہو۔

مسنگ چلڈرن سوسائٹی آف کینیڈا کی چیف ایگزیکٹو آفیسر آمانڈا پک نے کہا کہ ایمبر الرٹ پر توجہ قابلِ فہم ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بہت زیادہ الرٹس جاری کیے جائیں تو عوام ان کے مسلسل استعمال سے حساسیت کھو سکتے ہیں۔

ان کے مطابق اصل ضرورت اس بات کو سمجھنے کی ہے کہ موجودہ نظام کو کس صورتحال میں اور کس طریقے سے استعمال کیا جائے۔

الرٹ کا اختیار

ایمرجنسی الرٹس قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جاری کیے جاتے ہیں اور ان کے استعمال کے لیے صوبائی حکومت، آر سی ایم پی، میونسپل پولیس اور فرسٹ نیشن پولیس سروسز کے درمیان مفاہمتی یادداشت موجود ہے۔

البرٹا کی وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے گزشتہ ماہ اپنے ریڈیو پروگرام میں کہا تھا کہ صوبائی حکومت مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خود الرٹس جاری کرنے کی صلاحیت بڑھانے پر غور کررہی ہے۔

قومی سطح پر مطالبہ

البرٹا حکومت کا یہ اعلان وفاقی کنزرویٹو رہنما پیئر پوئیلیور کی جانب سے قومی ایمرجنسی الرٹ نظام میں اصلاحات کے مطالبے کے ایک ہفتے سے زائد عرصے بعد سامنے آیا ہے۔

پوئیلیور نے پورے کینیڈا میں عوامی الرٹس کے نظام میں تبدیلی، ابتدائی امدادی کارکنوں کی بہتر تربیت، تلاش کے طریقہ کار میں بہتری اور پولیس کو الرٹ جاری کرنے کے اختیارات سے متعلق واضح قواعد بنانے کی تجویز دی تھی۔

البرٹا حکومت کا کہنا ہے کہ جائزے کا مقصد کسی ایک ادارے کو ذمہ دار ٹھہرانا نہیں بلکہ موجودہ نظام کی خامیوں اور ممکنہ بہتری کے راستوں کو سمجھنا ہے تاکہ مستقبل میں کسی کمزور فرد کے لاپتا ہونے کی صورت میں بروقت کارروائی اور عوام کو مؤثر انداز میں خبردار کیا جاسکے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں