اردو ورلڈ کینیڈا (ویب نیوز)سائنس دانوں نے نظامِ شمسی کے سب سے دور واقع سیارے نیپچون سے متعلق ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اربوں سال قبل پلوٹو کے حجم کے برابر ایک فلکی جِرم نیپچون سے ٹکرایا تھا جس کے نتیجے میں اس کے گرد موجود کئی قدیم اجرامِ فلکی تباہ ہو گئے۔
جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی نئی تحقیق
یہ انکشاف ناسا کے جدید جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے حاصل ہونے والے مشاہدات پر مبنی نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے جس نے نیپچون کے ماضی سے متعلق اہم شواہد فراہم کیے ہیں۔
نیپچون کے چاندوں اور حلقوں کا جائزہ
تحقیق کے دوران ماہرین نے نیپچون کے تین اندرونی چاندوں پروٹیئس، لاریسا اور گیلیٹیا کے علاوہ اس کے گرد موجود گرد آلود حلقوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔
یہ بھی پڑھیں :
زمین سے 146 نوری سال دور زمین سے مشابہ سیارہ دریافت
اس دوران انہیں ایسی معدنیات کے شواہد ملے جو عام طور پر صرف ان فلکی اجرام میں بنتی ہیں جہاں چٹانیں طویل عرصے تک مائع پانی کے ساتھ رابطے میں رہی ہوں۔
طاقتور تصادم کے شواہد
تحقیق کی سربراہ، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو کی سیارہ شناس رائلی ڈیوس کے مطابق دریافت ہونے والی میگنیشیم سے بھرپور مٹی نما معدنیات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ نیپچون کے ماضی میں ایک انتہائی طاقتور تصادم پیش آیا، جس نے اس کے گرد موجود قدیم دنیاؤں اور فلکی اجرام کو تباہ کر دیا۔
نظامِ شمسی کی تاریخ سمجھنے میں مدد
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت نہ صرف نیپچون کی پراسرار تاریخ کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرے گی بلکہ نظامِ شمسی کی تشکیل، ارتقا اور ابتدائی دور میں پیش آنے والے فلکی تصادمات سے متعلق کئی اہم سوالات کے جوابات بھی فراہم کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں :
خلا میں پہلی بار شکر کی دریافت، سائنس دانوں کا بڑا دعویٰ
تحقیق کی اہمیت
سائنس دانوں کے مطابق جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی جدید مشاہداتی صلاحیتوں کی بدولت دور دراز سیاروں اور ان کے چاندوں کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہو رہی ہیں، جو مستقبل میں نظامِ شمسی کے ماضی اور کائنات کی تشکیل سے متعلق مزید اہم انکشافات کی راہ ہموار کر سکتی ہیں۔