امریکا، پیدائش سے قبل بچے کی کامیاب سرجری، رحمِ مادر میں ہی خطرناک پیدائشی نقص درست

اردو ورلڈ کینیڈا (ویب نیوز)طب کی دنیا میں ایک تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں برطانوی اور امریکی ماہرین نے رحمِ مادر میں موجود بچے کی کامیاب سرجری کر کے ایک سنگین پیدائشی نقص کو پیدائش سے پہلے ہی درست کر دیا۔

کامیاب آپریشن کے بعد بچہ صحت مند حالت میں پیدا ہوا اور اب پانچ ماہ کی عمر میں معمول کے مطابق نشوونما پا رہا ہے۔

حمل کے دوران خطرناک بیماری کی تشخیص

29 سالہ مائزی سیویج کے حمل کے 26ویں ہفتے میں ڈاکٹروں نے امریکا میں یہ پیچیدہ اور حساس سرجری انجام دی۔ دورانِ حمل کیے گئے معائنے میں معلوم ہوا تھا کہ ان کے ہونے والے بیٹے تھیو کو
گیسٹروشیسس نامی پیدائشی بیماری لاحق ہے، جس میں بچے کے پیٹ کی دیوار مکمل طور پر تشکیل نہیں پاتی اور آنتیں جسم سے باہر نشوونما پاتی ہیں۔

رحمِ مادر میں جدید سرجری

ماہرین نے جدید طبی ٹیکنالوجی اور تحقیق کی مدد سے رحمِ مادر میں نہایت احتیاط کے ساتھ بچے کی آنتوں کو دوبارہ پیٹ کے اندر منتقل کیا، جس سے پیدائش سے پہلے ہی اس خطرناک نقص کو درست کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں :

موسمِ گرما سے قبل کیوبیک کا محکمۂ صحت الرٹ، طبی خدمات کی بندش روکنے کے لیے ہنگامی منصوبے فعال

تھیو اس منفرد کلینیکل ٹرائل سے فائدہ اٹھانے والا دنیا کا صرف تیسرا بچہ ہے، جسے اس نوعیت کی سرجری کے ذریعے علاج فراہم کیا گیا۔

صحت مند پیدائش اور معمول کی نشوونما

سرجری کے بعد حمل معمول کے مطابق جاری رہا اور مقررہ وقت پر بچے کی پیدائش ہوئی۔ ڈاکٹروں کے مطابق تھیو کی صحت تسلی بخش ہے اور وہ پانچ ماہ کی عمر میں دیگر بچوں کی طرح معمول کے مطابق بڑھ رہا ہے۔

والدین کا جذباتی ردِعمل

تھیو کے والدین، مائزی سیویج اور جوش فرنچ، جو دونوں پیشے کے اعتبار سے اساتذہ ہیں، نے اس کامیاب علاج پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیٹے کو "ایک معجزہ” قرار دیا۔

مزید پڑھیں :

پنجاب میں صحت کے نظام میں بڑی پیش رفت،وزیر اعلیٰ کے حکم پر کروڑوں مریضوں کو سہولتیں فراہم

ان کا کہنا تھا کہ حمل کے 20ویں ہفتے کے معمول کے اسکین تک انہیں کسی پیچیدگی کا علم نہیں تھا، تاہم اسی معائنے میں بچے میں گیسٹروشیسس کی تشخیص ہوئی، جس کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ اور تشویش کا شکار ہو گئے تھے۔

گیسٹروشیسس کتنی خطرناک بیماری ہے؟

طبی ماہرین کے مطابق گیسٹروشیسس ایک نایاب مگر خطرناک پیدائشی بیماری ہے، جو برطانیہ میں تقریباً ہر تین ہزار میں سے ایک بچے کو متاثر کرتی ہے۔ اس بیماری کے پیچیدہ کیسز میں بچوں کو کئی ماہ تک انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھنا پڑتا ہے، متعدد سرجریاں کرنا پڑتی ہیں اور طویل عرصے تک مصنوعی غذائی معاونت بھی درکار ہوتی ہے۔ بعض صورتوں میں آنتوں کی پیوندکاری کی ضرورت پیش آ سکتی ہے، جبکہ بہترین طبی سہولیات کے باوجود ہر دس میں سے ایک بچہ جانبر نہیں ہو پاتا۔

طبی ماہرین کی امیدیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں اس طریقۂ علاج کے نتائج مزید کامیاب ثابت ہوئے تو یہ تکنیک گیسٹروشیسس سمیت دیگر پیچیدہ پیدائشی نقائص کے علاج میں ایک انقلابی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، جس سے نہ صرف نومولود بچوں کی بقا کی شرح بہتر ہوگی بلکہ پیدائش کے بعد پیچیدہ سرجریوں اور طویل علاج کی ضرورت بھی نمایاں طور پر کم ہو سکتی ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں