ایران کی امریکا اور اسرائیل کو بڑی وارننگ، جنگ بحرِ ہند تک پہنچنے کا خدشہ

 اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران نے امریکا یا اسرائیل کی جانب سے کسی نئے حملے کی صورت میں جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا انتباہ دے دیا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر یحییٰ رحیم صفوی نے کہا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو جاری تنازع بحرِ ہند تک پھیل سکتا ہے۔

صفوی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور بحیرۂ احمر سمیت اہم بحری راستے بھی صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں۔

جنگ پھیلنے کا انتباہ

ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر نے کہا کہ موجودہ تنازع پہلے ہی خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے آگے بڑھ کر بحیرۂ احمر تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا یا اسرائیل نے ایران کے خلاف دوبارہ حملہ کیا تو جنگ کا جغرافیائی دائرہ مزید وسیع ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

امریکی فوجی اڈے ختم نہ کیے تو سخت ردعمل ہوگا،ایران کی عرب ممالک کو دھمکی

صفوی نے بحرِ ہند کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ممکنہ طور پر تنازع اس خطے تک بھی پہنچ سکتا ہے اور اس سے آگے کے علاقوں کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔

تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ بحرِ ہند میں ایران کی جانب سے کس نوعیت کی کارروائی کی جاسکتی ہے، کون سے اہداف ممکنہ طور پر نشانے پر ہوں گے یا کسی ایسی کارروائی کا دائرہ کتنا وسیع ہوسکتا ہے۔

آبنائے ہرمز اہم محاذ

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں آبنائے ہرمز کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ یہ تنگ بحری راستہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتا ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

حالیہ کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کی صورتحال نے عالمی منڈیوں اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کی ہے۔ خطے میں کسی بڑے تصادم کی صورت میں اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے والی تجارت پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

ایرانی حکام اس سے قبل بھی متعدد مواقع پر خبردار کرچکے ہیں کہ ملک پر مزید فوجی کارروائی کی صورت میں ایران کا ردعمل محدود جغرافیائی حدود تک نہیں رہے گا۔

بحیرۂ احمر بھی متاثر

صفوی نے اپنے بیان میں بحیرۂ احمر کا بھی حوالہ دیا۔ یہ خطہ عالمی تجارت کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے کیونکہ اس کے ذریعے بحری جہاز ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان سفر کرتے ہیں۔

بحیرۂ احمر میں پہلے ہی سیکیورٹی مسائل کے باعث تجارتی جہاز رانی کو مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ خطے میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں جہاز رانی کے لیے خطرات مزید بڑھنے اور متبادل راستوں کے استعمال میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔

ایران کی جانب سے بحرِ ہند کا ذکر اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ سمندری خطہ مشرق وسطیٰ کو جنوبی ایشیا، مشرقی افریقا اور ایشیا کے دیگر حصوں سے ملانے والے اہم تجارتی راستوں پر مشتمل ہے۔

عالمی تجارت پر ممکنہ اثرات

اگر موجودہ تنازع مزید پھیلتا ہے تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود رہنے کے بجائے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل تک پہنچ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :

ٹرمپ کی ایران کےپک ایکس ماؤنٹین جوہری مرکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

خلیج فارس، آبنائے ہرمز، بحیرۂ احمر اور بحرِ ہند ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اہم بحری راستوں کا حصہ ہیں۔ ان میں سے کسی بھی علاقے میں طویل عرصے تک کشیدگی برقرار رہنے سے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت، انشورنس اخراجات اور توانائی کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے۔

خصوصاً مشرق وسطیٰ سے ایشیائی ممالک تک تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی ترسیل کے لیے یہ راستے انتہائی اہم ہیں۔

ایران کا مؤقف

ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے دوبارہ حملہ کیا گیا تو تہران اپنے دفاع کے لیے جوابی اقدامات کا دائرہ بڑھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

صفوی کے حالیہ بیان میں بھی اسی مؤقف کو مزید واضح کیا گیا ہے۔ تاہم ان کی گفتگو میں کسی مخصوص فوجی آپریشن، ہدف یا کارروائی کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔

اس لیے بحرِ ہند تک جنگ پھیلنے کے حوالے سے موجودہ بیان کو ایک ممکنہ صورتحال کے بارے میں ایرانی انتباہ کے طور پر دیکھا جارہا ہے، نہ کہ کسی نئی کارروائی کے باضابطہ اعلان کے طور پر۔

سفارتی کوششیں بھی جاری

دوسری جانب جنگ کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان کئی اہم معاملات پر اختلافات موجود ہیں، تاہم تنازع کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے مذاکرات اور بالواسطہ رابطوں کی کوششیں بھی کی جارہی ہیں۔

آبنائے ہرمز کی صورتحال، فوجی دباؤ میں کمی اور مستقبل کے سیکیورٹی انتظامات جیسے معاملات بھی خطے کی موجودہ صورتحال میں اہمیت رکھتے ہیں۔

صورتحال پر دنیا کی نظریں

ایرانی مشیر کی جانب سے بحرِ ہند تک جنگ پھیلنے کی وارننگ نے خطے میں جاری کشیدگی کے ممکنہ دائرے کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کردی ہے۔

فی الحال یہ واضح نہیں کہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے کوئی نیا حملہ ہوگا یا نہیں اور نہ ہی ایران نے بحرِ ہند میں کسی مخصوص کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے اس خطے کا واضح طور پر ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران ممکنہ جنگی ردعمل کے جغرافیائی دائرے کو محدود رکھنے کی یقین دہانی نہیں کرا رہا۔

آنے والے دنوں میں آبنائے ہرمز، بحیرۂ احمر اور دیگر اہم بحری راستوں کی صورتحال کے ساتھ ساتھ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے بھی انتہائی اہم رہیں گے۔

ہمیں فالو کریں