اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )کراچی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف جاری آخری ٹیسٹ میچ کے دوران پاکستان کے ٹیسٹ کپتان بابر اعظم اور اوپنر عبداللہ شفیق کی شاندار بیٹنگ نے شائقینِ کرکٹ کو خوب محظوظ کیا جبکہ لیجنڈری ویسٹ انڈین فاسٹ بولر اور معروف کمنٹیٹر ایان بشپ نے بھی دونوں کھلاڑیوں کی تعریف کرتے ہوئے ایک دلچسپ انکشاف کیا۔
پاکستان کی مشکلات کے بعد ذمہ دارانہ بیٹنگ
ویسٹ انڈیز نے پہلی اننگز میں 344 رنز بنائے، جس کے جواب میں پاکستان کی ابتدائی دو وکٹیں 98 رنز پر گر گئیں۔ اوپنر امام الحق 14 جبکہ اذان اویس 55 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے جس کے بعد بابر اعظم اور عبداللہ شفیق نے ٹیم کی اننگز کو سنبھالا۔
یہ بھی پڑھیں :
ویسٹ انڈیز نے ون ڈے کرکٹ میں نئی تاریخ رقم کر لی
تیسری وکٹ پر شاندار شراکت
دونوں بلے بازوں نے نہایت ذمہ داری اور اعتماد کے ساتھ بیٹنگ کرتے ہوئے تیسری وکٹ کے لیے 168 رنز کی عمدہ شراکت قائم کی۔ اس دوران دونوں نے ویسٹ انڈیز کے بولرز کا بھرپور مقابلہ کیا اور پاکستان کی پوزیشن مستحکم بنا دی۔
عبداللہ شفیق کو ’’کتابی‘‘ کیوں کہا جاتا ہے؟
کمنٹری کے دوران ایان بشپ نے بتایا کہ بابر اعظم عبداللہ شفیق کو محبت سے ’’کتابی‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ ان کے مطابق عبداللہ شفیق کی بیٹنگ تکنیک نہایت سادہ، متوازن اور روایتی انداز کی ہے جسے انگریزی میں "Textbook Batting” کہا جاتا ہے۔ اسی خوبصورت اور تکنیکی طور پر درست اندازِ بیٹنگ کی وجہ سے بابر اعظم نے انہیں ’’کتابی‘‘ کا لقب دیا۔
مزید پڑھیں :
پاکستانی کرکٹر بابر اعظم نے ایک اور ریکارڈ اپنے نام کر لیا
شائقین کی جانب سے پذیرائی
ایان بشپ کے اس دلچسپ تبصرے کو سوشل میڈیا پر بھی خوب پسند کیا جا رہا ہے۔ کرکٹ شائقین کا کہنا ہے کہ عبداللہ شفیق کی تکنیکی مہارت اور کلاسیکی اندازِ بیٹنگ انہیں جدید دور کے نمایاں ٹیسٹ بلے بازوں میں شامل کرتا ہے، جبکہ بابر اعظم کی جانب سے دیا گیا ’’کتابی‘‘ کا لقب ان کی بیٹنگ کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔