اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں محمد رضوان اور امام الحق کے موبائل فونز سے ابتدائی فارنزک تحقیقات کے دوران کوئی قابلِ ذکر چیز سامنے نہیں آئی۔
پیغامات اور رابطوں کا جائزہ
ذرائع کے مطابق محمد رضوان اور امام الحق کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ازخود نوٹس کے تحت طلب کیا تھا۔ دونوں کھلاڑیوں کے موبائل فونز فارنزک جائزے کے لیے تحویل میں لے کر ان میں موجود پیغامات، رابطوں اور دیگر متعلقہ ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی معلومات بھی شامل
ذرائع این سی سی آئی اے کے مطابق ڈریسنگ روم سے متعلق معلومات کے سوشل میڈیا پر لیک ہونے کا معاملہ بھی تحقیقات کا حصہ ہے۔ سوشل
یہ بھی پڑھیں :
امام الحق اور محمد رضوان ڈومیسٹک کرکٹ کے لیے نااہل قرار
میڈیا پر سامنے آنے والے مواد اور اس کے ممکنہ ذرائع سے متعلق معلومات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
مزید فارنزک تجزیہ اسلام آباد ہیڈکوارٹرز میں جاری
ذرائع کے مطابق موبائل فونز کا مزید تفصیلی فارنزک تجزیہ اسلام آباد ہیڈکوارٹرز میں جاری ہے۔ فارنزک کے دوران مالی لین دین، ممکنہ ٹرانزیکشنز اور دیگر متعلقہ ڈیجیٹل شواہد کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔
رضوان اور امام سے پوچھ گچھ
ذرائع کا کہنا ہے کہ این سی سی آئی اے نے محمد رضوان اور امام الحق سے پوچھ گچھ بھی کی، تاہم دونوں کھلاڑیوں کو کوئی باقاعدہ سوالنامہ نہیں دیا گیا۔
رپورٹ پی سی بی کو بھجوائی جائے گی
این سی سی آئی اے ذرائع کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد رپورٹ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) حکام کو بھجوائی جائے گی، جس کی روشنی میں بورڈ دونوں کھلاڑیوں کے حوالے سے آئندہ کا فیصلہ کرے گا۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی فارنزک جائزے میں موبائل فونز سے کوئی قابلِ ذکر چیز سامنے نہیں آئی، تاہم مزید تفصیلی تجزیہ جاری ہونے کے باعث تحقیقات کو حتمی مرحلے تک پہنچنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
