بلیک ہولز ستاروں کی پیدائش بڑھا سکتے ہیں، نئی تحقیق

نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ تیزی سے بڑھنے والے انتہائی بڑے بلیک ہولز ممکنہ طور پر اپنی میزبان کہکشاؤں میں ستاروں کی پیدائش روکنے کے بجائے اسے بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔

نو کہکشاؤں کا مشاہدہ

تحقیق میں نو کہکشاؤں کا جائزہ لیا گیا، جس کے لیے یورپی جنوبی رصدگاہ (ESO) کی ویری لارج ٹیلی اسکوپ (VLT) پر نصب MUSE آلے سے حاصل مشاہدات استعمال کیے گئے۔

بلیک ہولز کے گرد ستارے بننے کے شواہد

ماہرین کو فعال کہکشانی مرکز (AGN) کے قریب ایسے علاقے ملے جہاں نئے ستارے تشکیل پا رہے تھے۔ ان میں حلقہ نما اور خم دار ساختیں، توانائی سے بھرپور گیس کے مخروطی علاقے اور تیز رفتار شاکس شامل ہیں۔

توانائی کے اخراج کا اہم کردار

محققین کے مطابق بلیک ہول صرف مادہ جذب نہیں کرتے بلکہ اس عمل کے دوران مادہ اور توانائی باہر بھی خارج کرتے ہیں۔ یہ اخراج اردگرد کی گیس سے ٹکرا کر شاکس پیدا کر سکتا ہے۔

کہکشاؤں کے ارتقا پر نیا زاویہ

تحقیق سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ انتہائی بڑے بلیک ہولز سے خارج ہونے والی توانائی کہکشاؤں کی تشکیل، ستاروں کی پیدائش اور مجموعی ارتقا کو کس طرح متاثر کر سکتی ہے۔

اندر جانے اور باہر نکلنے کا تعلق

ماہرین فلکیات کے مطابق بلیک ہول میں مادے کا گرنا اور اس سے مادے و توانائی کا اخراج ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عمل ہیں، جس سے بلیک ہولز اور ان کی میزبان کہکشاؤں کے باہمی تعلق کی نئی تصویر سامنے آتی ہے۔

ہمیں فالو کریں