برطانیہ میں 116 سال قبل لی گئی کتابیں واپس مل گئیں 

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) برطانیہ میں ایک شخص نے اپنے دادا کی جانب سے 116 برس قبل لائبریری سے لی گئی دو کتابیں واپس کر کے ایک غیر معمولی مثال قائم کردی۔

یہ کتابیں 1910 میں لائبریری سے حاصل کی گئی تھیں اور ایک صدی سے زائد عرصے تک خاندان کے پاس محفوظ رہیں۔ کئی نسلیں گزرنے کے بعد جب ان کتابوں کو دوبارہ لائبریری پہنچایا گیا تو عملے نے بھی اس واقعے کو نہایت دلچسپ اور یادگار قرار دیا۔

یہ واقعہ برطانیہ کے علاقے کونوی میں پیش آیا جہاں لینروسٹ لائبریری کو طویل عرصے بعد وہ دو کتابیں واپس مل گئیں جو 1910 میں اس وقت کی Llanrwst Public Library and Reading Room سے جاری کی گئی تھیں۔ کتابیں واپس کرنے والے شخص مسٹر او سلیوان نے بتایا کہ یہ کتابیں ان کے دادا والٹر گرفتھ اوون نے لائبریری سے حاصل کی تھیں۔

دادا نے 1910 میں کتابیں لائبریری سے لیں

کونوی لائبریریز کے مطابق مسٹر او سلیوان حال ہی میں لینروسٹ لائبریری پہنچے اور اپنے ساتھ وہ دو کتابیں بھی لائے جو ان کے دادا نے 116 سال قبل لائبریری سے حاصل کی تھیں۔ اس وقت لائبریری کا نام Llanrwst Public Library and Reading Room تھا۔

کتابوں کے لائبریری سے جاری ہونے کا زمانہ برطانیہ کی تاریخ کے ایک اہم دور سے تعلق رکھتا ہے۔ 1910 میں دنیا پہلی عالمی جنگ سے چند برس پہلے کے دور میں تھی۔ اس وقت لائبریریاں لوگوں کے لیے علم اور مطالعے کا اہم ذریعہ سمجھی جاتی تھیں اور کتابیں حاصل کرکے انہیں گھروں میں لے جانا عام معمول تھا۔

یہ بھی پڑھیں :

4 کی بورڈ زایک ساتھ استعمال، 81 کتابیں الٹی ٹائپ کرنے کا انوکھا ریکارڈ

تاہم ان دونوں کتابوں کے ساتھ معاملہ مختلف رہا۔ کتابیں مقررہ وقت پر واپس نہ آسکیں اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی دہائیاں گزر گئیں۔ بعد میں یہ کتابیں خاندان کے پاس محفوظ رہیں اور بالآخر مسٹر او سلیوان نے انہیں اصل لائبریری تک پہنچانے کا فیصلہ کیا۔

کتابیں لینے والے شخص نے دونوں عالمی جنگوں میں خدمات انجام دیں

لائبریری کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ والٹر گرفتھ اوون نے اپنی زندگی میں دونوں عالمی جنگوں کے دوران خدمات انجام دیں۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران وہ کونوی میں تعینات بھی رہے۔

لائبریری انتظامیہ کے مطابق کتابوں کی واپسی صرف پرانی کتابوں کی واپسی نہیں بلکہ ایک خاندان کی کئی نسلوں پر محیط کہانی کی واپسی بھی ہے۔ کتابیں 1910 میں لائبریری سے جاری ہوئیں۔ اس کے بعد ان کے اصل قاری نے جنگوں سمیت زندگی کے کئی اہم مراحل دیکھے اور پھر یہ کتابیں خاندان کے پاس محفوظ رہ گئیں۔

یہی وجہ ہے کہ کتابوں کی واپسی نے لائبریری کے عملے کے لیے بھی خاص اہمیت اختیار کرلی۔ ایک عام لائبریری ریکارڈ اچانک ایک تاریخی خاندانی داستان میں تبدیل ہوگیا۔

لائبریری عملہ بھی حیران رہ گیا

کونوی لائبریریز نے اس واقعے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 116 سال پرانی کتابوں کو دوبارہ ہاتھ میں لینا عملے کے لیے ایک یادگار تجربہ تھا۔ لائبریری کے لیے یہ لمحہ اس لیے بھی خاص تھا کیونکہ کتابیں ایسے وقت میں واپس آئیں جب انہیں جاری کرنے والے شخص کی کئی نسلیں گزر چکی ہیں۔

عملے نے اس واقعے کو لائبریری اور خاندان کے درمیان ایک منفرد تعلق قرار دیا۔ ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود کتابوں کا محفوظ رہنا بھی اپنی جگہ حیران کن بات ہے۔

کتابیں عام طور پر وقت کے ساتھ خراب ہوجاتی ہیں۔ ان کے صفحات متاثر ہوسکتے ہیں اور جلد بھی پرانی ہوجاتی ہے۔ اس کے باوجود ان دونوں کتابوں کا اتنے طویل عرصے تک خاندان کے پاس محفوظ رہنا اس واقعے کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔

پوتے نے دادا کی امانت واپس کردی

مسٹر او سلیوان کی جانب سے کتابیں واپس کرنے کے فیصلے کو بھی سوشل میڈیا صارفین نے سراہا۔ لوگوں نے اس بات کو خاص طور پر قابل تعریف قرار دیا کہ ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود خاندان نے کتابوں کو لائبریری کی ملکیت سمجھا اور بالآخر انہیں واپس کرنے کا فیصلہ کیا۔

سوشل میڈیا پر صارفین نے اس واقعے کو ایمانداری اور خاندانی ذمہ داری کی مثال قرار دیا۔ بعض صارفین کے لیے یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی بھی بن گیا کہ کتابیں صرف کاغذ کے چند صفحات نہیں ہوتیں بلکہ ان کے ساتھ تاریخ اور یادیں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔

116 سال پرانی کتابوں نے تاریخ سے جوڑ دیا

یہ واقعہ اس لحاظ سے بھی غیر معمولی ہے کہ کتابوں کی واپسی نے موجودہ دور کے لوگوں کو 1910 کے زمانے سے جوڑ دیا۔ جن کتابوں کو ایک شخص نے 116 سال پہلے لائبریری سے حاصل کیا تھا وہ آج بھی موجود ہیں اور دوبارہ اسی ادارے کی الماریوں تک پہنچ گئی ہیں جہاں سے انہیں لیا گیا تھا۔

لائبریریوں میں موجود پرانے ریکارڈ اکثر ماضی کے لوگوں کی زندگیوں کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔ اس واقعے میں بھی کتابوں نے ایک خاندان کی تاریخ کو لائبریری کے ماضی کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

کیلگری پبلک لائبریری ڈیٹا کی خلاف ورزی کے بعد اپنی تمام شاخیں دوبارہ کھولے گی

مسٹر او سلیوان کے اس اقدام نے یہ بھی ظاہر کیا کہ بعض اوقات ایک معمولی نظر آنے والی چیز کئی دہائیوں بعد تاریخی اہمیت اختیار کرلیتی ہے۔ 1910 میں لائبریری سے لی گئی یہ کتابیں آج 116 سال بعد دوبارہ اسی ادارے میں پہنچ چکی ہیں۔

لائبریری کے لیے یہ واقعہ ایک طویل انتظار کے اختتام کی مانند ہے جبکہ خاندان کے لیے یہ اپنے بزرگ کی ایک پرانی امانت واپس کرنے کا منفرد موقع بن گیا۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کو ملنے والی پذیرائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایمانداری اور ماضی سے جڑی دلچسپ کہانیاں آج بھی لوگوں کی توجہ حاصل کرتی ہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں