بچوں کے دانتوں میں کیڑے کا سادہ علاج دریافت

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا میں ہونے والی ایک اہم طبی تحقیق نے کم عمر بچوں کے دانتوں میں کیڑا لگنے کے علاج کے حوالے سے نئی امید پیدا کردی ہے۔

ماہرین نے ایک ایسے سادہ محلول کو مؤثر قرار دیا ہے جسے دانت کے متاثرہ حصے پر صرف چند سیکنڈ کے لیے لگایا جاتا ہے اور اس کے ذریعے دانتوں میں موجود کیڑے کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے۔ اس طریقہ علاج کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں دانت میں ڈرل کرنے یا انجیکشن لگانے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

سلور ڈائمن فلورائیڈ محلول
تحقیق میں 38 فیصد سلور ڈائمن فلورائیڈ محلول کا جائزہ لیا گیا۔ ماہرین کے مطابق اس محلول کا استعمال خاص طور پر ان کم عمر بچوں کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے جو دانتوں کے روایتی علاج کے دوران خوف اور بے چینی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایسے بچوں کے دانتوں کا علاج بعض اوقات مشکل ہوجاتا ہے اور پیچیدہ صورتوں میں جنرل اینستھیزیا کی ضرورت بھی پیش آسکتی ہے۔

830 کم عمر بچوں پر کلینیکل ٹرائل

یہ تحقیق امریکا کی یونیورسٹی آف مشی گن میں کی گئی جہاں فیز تھری کلینیکل ٹرائل میں 830 ایسے بچوں کو شامل کیا گیا جن کی عمر چھ سال سے کم تھی۔ تحقیق میں نیویارک اور آئیوا کی جامعات کے ماہرین نے بھی حصہ لیا۔

یہ بھی پڑھیں ؛

دانتوں کی سفیدی کا نیا دور،بغیر نقصان نیا پاؤڈر تیار

تحقیق کے دوران کم عمر بچوں کے دودھ کے دانتوں میں موجود کیڑے کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ 38 فیصد سلور ڈائمن فلورائیڈ محلول متاثرہ دانتوں میں کیڑے کے پھیلاؤ کو کس حد تک روک سکتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج معروف طبی جریدے جاما پیڈیاٹرکس میں شائع کیے گئے ہیں۔ محققین کے مطابق نتائج نے اس طریقہ علاج کے حوالے سے حوصلہ افزا شواہد فراہم کیے ہیں اور اس کے استعمال سے بچوں کے دانتوں کے علاج میں آسانی پیدا ہوسکتی ہے۔

محلول چند سیکنڈ میں متاثرہ حصے پر لگایا جاتا ہے

سلور ڈائمن فلورائیڈ کے استعمال کا طریقہ نسبتاً آسان ہے۔ اسے دانت کے اس حصے پر لگایا جاتا ہے جہاں کیڑا موجود ہو۔ اس عمل میں دانت کو کاٹنے یا ڈرل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

روایتی طریقہ علاج میں دانتوں کے کیڑے کو نکالنے کے لیے متاثرہ حصے کی صفائی کی جاتی ہے اور بعض صورتوں میں فلنگ بھی کرنا پڑتی ہے۔ کم عمر بچوں کے لیے یہ عمل مشکل ہوسکتا ہے کیونکہ انہیں ڈرل کی آواز اور علاج کے دوران ہونے والی تکلیف سے خوف محسوس ہوسکتا ہے۔

نئے طریقے میں متاثرہ حصے پر محلول لگانے کے بعد دانت میں مزید پیچیدہ کارروائی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اسے بچوں کے لیے نسبتاً آسان طریقہ قرار دے رہے ہیں۔

ہر چھ ماہ بعد استعمال سے مثبت نتائج

تحقیق میں شامل بچوں کے دانتوں کا باقاعدگی سے جائزہ لیا گیا۔ محققین کے مطابق ہر چھ ماہ بعد سلور ڈائمن فلورائیڈ لگانے سے نصف سے زائد متاثرہ دودھ کے دانتوں میں کیڑے کی افزائش مؤثر انداز میں رک گئی۔

یہ نتیجہ اس لیے اہم سمجھا جارہا ہے کیونکہ دودھ کے دانتوں میں کیڑا لگنے کا مسئلہ کم عمر بچوں میں عام پایا جاتا ہے۔ اگر دانتوں میں کیڑا بڑھتا رہے تو بچے کو درد اور کھانے پینے میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ بعض صورتوں میں دانت کو روایتی طریقے سے ٹھیک کرنے کے لیے زیادہ پیچیدہ علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
تحقیق کے نتائج سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ متاثرہ دانتوں میں کیڑے کی پیش رفت کو ابتدائی مرحلے پر ایک آسان طریقے سے قابو کیا جاسکتا ہے۔

ایک سال کی عمر کے بچوں میں بھی طریقہ مؤثر قرار

تحقیق کی سربراہ اور یونیورسٹی آف مشی گن اسکول آف ڈینٹسٹری کی پروفیسر مارگریٹا فونٹانا کے مطابق یہ طریقہ ایک سال کی عمر کے بچوں کے لیے بھی محفوظ اور مؤثر ثابت ہوا ہے۔

کم عمر بچوں میں دانتوں کا علاج والدین اور طبی ماہرین دونوں کے لیے ایک چیلنج بن سکتا ہے۔ بچے اکثر علاج کے دوران تعاون نہیں کرتے جس کی وجہ سے دانتوں کے ڈاکٹر کے لیے ضروری کارروائی مکمل کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

اگر ایسے بچوں کے متاثرہ دانت پر ایک سادہ محلول لگا کر کیڑے کو مزید بڑھنے سے روکا جاسکے تو علاج کا عمل نسبتاً آسان ہوسکتا ہے۔

روایتی علاج کا متبادل بننے کی امید

ماہرین کے مطابق اگر سلور ڈائمن فلورائیڈ کے اس استعمال کو دانتوں کے کیڑے کے علاج کے لیے باقاعدہ منظوری مل جاتی ہے تو یہ خاص طور پر کم عمر بچوں کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔

اس طریقے سے بچوں کو ڈرلنگ اور بعض صورتوں میں جنرل اینستھیزیا سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ علاج کے اخراجات اور وقت میں بھی کمی آنے کی توقع کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

دانتوں کی صفائی نہ کرنے والے افراد فالج کے زیادہ شکار

تاہم ماہرین کے مطابق ہر بچے کے دانتوں کی حالت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اس لیے کسی بھی علاج کا فیصلہ دانتوں کے ماہر کی تشخیص اور مشورے کے بعد ہی کیا جانا چاہیے۔

تحقیق کے نتائج نے بہرحال بچوں کے دانتوں میں کیڑے کے علاج کے حوالے سے ایک آسان راستے کی امید پیدا کردی ہے۔ اگر مزید جائزوں اور طبی منظوری کے مراحل میں بھی یہ نتائج برقرار رہتے ہیں تو سلور ڈائمن فلورائیڈ مستقبل میں کم عمر بچوں کے دانتوں کے علاج کو زیادہ آسان اور کم تکلیف دہ بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں