اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے ایران کو مبینہ “عظیم فتح” پر مبارکباد دیتے ہوئے اسے خطے میں مزاحمت اور استقامت کی ایک اہم مثال قرار دیا ہے۔
ان کے مطابق ایرانی عوام، مزاحمتی قوتیں اور آزادی کے خواہاں ممالک اس کامیابی پر مبارکباد کے مستحق ہیں، کیونکہ یہ پیش رفت خطے میں طاقت کے توازن اور سیاسی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔نعیم قاسم نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی یہ کامیابی خطے میں مزاحمتی سوچ اور استقامت کی علامت ہے اور یہ ان قوتوں کے لیے ایک مثال ہے جو آزادی اور خودمختاری کے اصولوں پر یقین رکھتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات خطے کی سیاسی صورتحال میں نئی سمتیں متعین کر سکتے ہیں۔حزب اللہ کے سربراہ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان کسی بھی ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات چیت صرف سیکیورٹی امور تک محدود ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق حساس سیاسی معاملات کو کسی وسیع ایجنڈے کا حصہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے سے متعلق کوئی بھی تجویز ناقابل قبول ہوگی، کیونکہ اسلحہ، قومی سلامتی، دفاعی حکمت عملی اور اقتصادی امور لبنان کے اندرونی معاملات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مسائل پر فیصلہ صرف لبنانی عوام اور ان کے ادارے ہی کر سکتے ہیں۔نعیم قاسم نے واضح کیا کہ لبنان کے اندرونی معاملات میں کسی بیرونی فریق کو مداخلت کا حق نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی ان معاملات کو اسرائیل کے ساتھ کسی بھی مذاکراتی عمل کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔