ایران کو خریدا نہیں جا سکتا، اسے شکست دینا پڑتی ہے، ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور تہران کی بحریہ، فضائیہ، عسکری قیادت اور فضائی دفاعی نظام کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

ریاست مشی گن میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے تہران کی اہم فوجی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے نہ صرف ایران کے دفاعی نظام کو متاثر کیا بلکہ ڈرون اور میزائل بنانے کی صلاحیت کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔

ایران کی فوج پر دعویٰ

صدر ٹرمپ نے خطاب میں کہا کہ امریکا نے ایران کی بحریہ کو تباہ کر دیا، فضائیہ کو ختم کر دیا، عسکری قیادت کو نشانہ بنایا اور فضائی دفاعی نظام کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران اب اپنی سابقہ صلاحیت کے مقابلے میں انتہائی کم رفتار سے ڈرون تیار کر رہا ہے۔ٹرمپ کے مطابق ایران کی ڈرون اور میزائل سازی کی صلاحیت پہلے جیسی نہیں رہی اور امریکی کارروائیوں کے بعد اس میں نمایاں کمی آئی ہے۔

مذاکرات کا ذکر

امریکی صدر نے کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف سخت اقدامات نہ کیے ہوتے تو مذاکرات کی صورتحال پیدا نہ ہوتی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب ایران امریکا کے ساتھ معاہدے کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ سخت اقدامات کے نتیجے میں ایران مذاکرات کی میز پر آیا ہے، تاہم انہوں نے مذاکرات کے مستقبل کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ایران پر سخت تنقید

اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے ایران کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ تہران گزشتہ کئی دہائیوں سے مشرق وسطیٰ میں مسائل پیدا کرتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :کینیڈین آگ پر ٹرمپ کی تنقید مسترد، امریکی سینیٹر نے الزامات کو ’مذاق‘ قرار دے دیا

انہوں نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کی ایران پالیسی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایران کو رعایتیں دے کر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کو دباؤ کے ذریعے ہی مذاکرات پر لایا جا سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے معاملے پر اپنے مفادات اور سلامتی کو ترجیح دے گا۔

بحری ناکہ بندی کا دعویٰ

صدر ٹرمپ نے امریکی بحری ناکہ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ کی کارروائیاں انتہائی مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکی بحری نگرانی اتنی سخت ہے کہ کوئی کشتی بھی آسانی سے گزر نہیں سکتی۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران امریکا سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی درخواست کر رہا ہے۔تاہم ایران کی جانب سے اس دعوے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان فوجی اقدامات، بحری راستوں کی نگرانی اور دفاعی صلاحیتوں سے متعلق بیانات کے باعث عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ، تیل کی قیمتوں اور علاقائی امن پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

مذاکرات یا نیا بحران؟

صدر ٹرمپ نے ایک طرف ایران کے خلاف سخت کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں جبکہ دوسری جانب کہا ہے کہ تہران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ان کے مطابق مستقبل کا فیصلہ مذاکراتی عمل اور ایران کے رویے پر منحصر ہوگا۔

دوسری جانب عالمی برادری کی کوشش ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جائے اور کسی بھی ممکنہ بڑے تصادم سے بچنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کیا جائے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں