مونٹریال پولیس میں نسل پرستانہ رویے کا اسکینڈل، 16 اہلکار زیرِ تفتیش، 3 معطل

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر مونٹریال کی پولیس سروس نے ادارے میں ثقافتی تبدیلی اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے وسیع اصلاحاتی منصوبہ شروع کردیا ہے۔ یہ اقدام مونٹریال نارتھ کے علاقے میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے سیاہ فام اور عرب شہریوں کے ساتھ مبینہ نسلی امتیاز اور نسلی پروفائلنگ کے الزامات سامنے آنے کے بعد کیا گیا ہے۔

پولیس کے نئے منصوبے میں فوری تادیبی کارروائیوں کے ساتھ طویل مدتی نگرانی، شفاف رابطے اور مقامی آبادی کے ساتھ مشترکہ احتساب کو ترجیح دی گئی ہے۔

16 اہلکاروں کی تحقیقات

یہ معاملہ جون میں اس وقت منظرعام پر آیا جب مونٹریال پولیس کے چیف فادی ڈاغر نے ایک غیر معمولی رات گئے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ اسٹیشن 39 سے وابستہ 16 اہلکاروں کے خلاف مبینہ نسل پرستانہ اور نفرت انگیز رویوں کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

الزامات کے مطابق یہ رویے پولیس کی جانب سے سیاہ فام اور عرب افراد کو روکنے کے دوران مبینہ طور پر سامنے آئے۔

پولیس چیف نے اس وقت 16 رکنی گشت کرنے والی ٹیم کو ختم کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ ان کے مطابق تحقیقات کا آغاز ان ہی اہلکاروں کے ساتھیوں کی جانب سے مبینہ رویوں کی اطلاع دیے جانے کے بعد ہوا۔

تین اہلکار معطل

پولیس چیف فادی ڈاغر نے منگل کو عوامی اجلاس کے دوران بتایا کہ اب تک تین اہلکاروں کو معطل کیا جاچکا ہے جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔ تازہ ترین معطلی 18 جون کو کی گئی تھی۔

انہوں نے واضح کیا کہ 16 اہلکاروں کی یونٹ ختم کرنے کا فیصلہ اس بات کا مطلب نہیں کہ تمام اہلکاروں پر بدعنوانی یا بدسلوکی ثابت ہوچکی ہے، بلکہ اندرونی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

پولیس کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے کمیونٹی پولیسنگ سیڈرک کوتور نے بتایا کہ ختم کی گئی ٹیم کی جگہ 13 جولائی کو ایک نئی ٹیم علاقے میں تعینات کردی گئی تھی۔

عوامی اجلاس میں سخت سوالات

پولیس چیف نے منگل کی شب مونٹریال سٹی ہال میں پبلک سیکیورٹی کمیشن کے عوامی اجلاس میں شہریوں سے خطاب کیا۔ اجلاس میں درجنوں افراد نے شرکت کی، جبکہ جگہ کم پڑنے کے باعث کئی شہریوں کو واپس بھی جانا پڑا۔ آن لائن بھی سیکڑوں افراد نے اجلاس کی کارروائی دیکھی۔

یہ بھی پڑھیں :نسلی امتیاز کے الزامات پر مونٹریال پولیس میں ہلچل، میئر کا اعتراف

شہریوں نے پولیس چیف سے مبینہ نسل پرستی، پولیس کے خلاف شکایات اور اہلکاروں کے دفاع پر خرچ ہونے والی رقم سمیت مختلف معاملات پر سخت سوالات کیے۔

مونٹریال نارتھ میں نسلی امتیاز کے حالیہ الزامات نے علاقے میں پولیس کے رویے سے متعلق کئی برسوں سے موجود خدشات کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔

17 سال پرانی شکایات کا حوالہ

انسانی حقوق کے کارکن جوئیل ڈی بیلی فول نے کہا کہ مونٹریال نارتھ میں نسلی پروفائلنگ اور پولیس کے مبینہ نامناسب رویے سے متعلق شکایات گزشتہ 17 سال سے ریکارڈ پر موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ متعدد مرتبہ خدشات سامنے لائے جانے کے باوجود برسوں بعد بھی صورتحال مکمل طور پر تبدیل نہیں ہوئی۔

انہوں نے پولیس کے موجودہ اقدامات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر طریقہ کار وہی رکھا جائے تو مختلف نتائج کی توقع نہیں کی جاسکتی۔

نظامی نسل پرستی کے خاتمے کا مطالبہ

اجلاس میں شریک جینیفر سڈنی نے کہا کہ کمیونٹی کے بعض افراد پولیس سے خوف محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پولیس سروس میں نظامی نسل پرستی کا مکمل خاتمہ آخر کب ہوگا۔

پولیس چیف ڈاغر نے شہریوں کے خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان افراد کے احساسات کو سمجھتے ہیں جو پولیس سے خوفزدہ ہیں، تاہم ان کے مطابق ادارہ صورتحال بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کررہا ہے۔

ایک اور شہری جین پیرس نے نسل اور نسلی برتری سے متعلق سخت سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ سفید فام افراد خود کو سیاہ فام افراد سے زیادہ اہم کیوں سمجھتے ہیں۔جواب میں ڈاغر نے کہا کہ ان کے نزدیک انسانوں میں صرف ایک ہی نسل ہے اور کوئی بھی شخص دوسرے سے برتر نہیں۔

تفتیش میں بیرونی نگرانی

مونٹریال پولیس سروس نے اصلاحاتی حکمت عملی کے تحت اندرونی اور بیرونی سطح پر شکایات اور مبینہ بدعنوانی کی نشاندہی کے لیے کھلے انداز میں اطلاع دینے کی حوصلہ افزائی کا اعلان کیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق مستقبل میں پالیسیوں میں تبدیلیاں مقامی اسٹیک ہولڈرز اور کمیونٹی تنظیموں کے ساتھ براہِ راست مشاورت سے کی جائیں گی تاکہ متاثرہ آبادی کو اصلاحاتی عمل کا حصہ بنایا جاسکے۔

فوجداری کارروائی ابھی شروع نہیں ہوئی

پراسیکیوٹر کی ترجمان انیک کانتین کے مطابق جون کی پریس کانفرنس میں جن واقعات کا ذکر کیا گیا تھا، ان میں ملوث اہلکاروں کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کے لیے پولیس نے تاحال کوئی درخواست جمع نہیں کرائی۔

پولیس چیف نے کہا کہ پولیس سروس صوبہ کیوبیک کے ڈائریکٹر آف کریمنل اینڈ پینل پراسیکیوشنز کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کررہی ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ نسلی پروفائلنگ اور امتیازی سلوک کا مسئلہ حل کرنا ایک طویل اور مرحلہ وار عمل ہے، تاہم ان کے بقول پولیس سروس اصلاحات کی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔

اعتماد کی بحالی بڑا چیلنج

مونٹریال پولیس کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج صرف زیرِ تفتیش اہلکاروں کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ عوام بالخصوص مونٹریال نارتھ کی کمیونٹی کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنا ہے۔

پولیس قیادت کا کہنا ہے کہ شفاف تحقیقات، اہلکاروں کی جواب دہی، کمیونٹی کے ساتھ براہِ راست رابطے اور پالیسی میں تبدیلیوں کے ذریعے ادارے میں دیرپا بہتری لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں