اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں ایک قصبہ ایسے افراد کے لیے روزمرہ زندگی آسان بنانے کی جانب اہم قدم اٹھا رہا ہے جو ڈیمنشیا اور دیگر اعصابی و ذہنی بیماریوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
برووم لیک نامی قصبے میں دکانداروں، میونسپل ملازمین اور ہنگامی خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کو خصوصی تربیت دی جارہی ہے تاکہ وہ ڈیمنشیا میں مبتلا افراد کی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور اپنی خدمات کو ان کے لیے زیادہ قابل رسائی بنا سکیں۔
ڈیمنشیا فرینڈلی کمیونٹی کا منصوبہ
مونٹریال سے تقریباً 100 کلومیٹر مشرق میں واقع برووم لیک کو باقاعدہ طور پر ’’ڈیمنشیا فرینڈلی کمیونٹی‘‘ بنانے کے لیے منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔
اس پائلٹ منصوبے کے لیے Alzheimer Society of Brome-Missisquoi and Haute-Yamaska کو وفاقی حکومت سے مالی معاونت حاصل ہوئی ہے۔ منصوبے کا مقصد قصبے کے مختلف مقامات کو ڈیمنشیا کے مریضوں کے لیے زیادہ سہل بنانا ہے، جن میں لائبریریاں، پٹرول پمپس، سپر مارکیٹس اور ریسٹورنٹس شامل ہیں۔
بیماری نہیں، انسان کو ترجیح
منصوبے کی منتظم فرانس پروٹو کے مطابق بنیادی مقصد یہ ہے کہ ڈیمنشیا کی تشخیص کے بعد افراد خود کو معاشرے سے الگ نہ سمجھیں بلکہ پہلے کی طرح اپنی کمیونٹی کا حصہ بنے رہیں۔
مقامی Alzheimer Society کی نفسیاتی و سماجی خدمات اور تربیت کی کوآرڈینیٹر ویرونیک بروئیلیٹ کا کہنا ہے کہ اس کے لیے سب سے پہلے معاشرے میں ڈیمنشیا کے بارے میں سوچنے کا انداز تبدیل کرنا ضروری ہے۔
ان کے مطابق کسی شخص کو الزائمر ہو سکتا ہے لیکن اس بیماری سے ہٹ کر بھی اس کی اپنی شخصیت، اقدار، تجربات اور زندگی کی تاریخ ہوتی ہے، اس لیے بیماری کے بجائے انسان کو مرکز میں رکھنا چاہیے۔
روزمرہ کاموں میں مشکلات
ڈیمنشیا میں مبتلا افراد بعض اوقات ایسے معمول کے کاموں میں بھی دشواری محسوس کرسکتے ہیں جو پہلے ان کے لیے بالکل آسان تھے۔
پالین کوئنلن کے 84 سالہ شوہر پیٹرک ڈیمنشیا کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ کوئنلن کے مطابق ان کے شوہر جسمانی طور پر اب بھی بہتر حالت میں ہیں، لیکن انہیں روزمرہ کے بعض معاملات میں پہلے سے زیادہ مدد کی ضرورت پڑتی ہےمثلاً ریسٹورنٹ میں کھانا آرڈر کرنا بھی بعض اوقات مشکل ہوجاتا ہے۔
راستہ تلاش کرنا مشکل
بروئیلیٹ کے مطابق الزائمر یا ڈیمنشیا کے شکار افراد کو غیر مانوس جگہوں پر راستہ تلاش کرنے میں مشکل پیش آسکتی ہے۔
کسی کیفے یا دکان میں انہیں واش روم یا باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنے میں دشواری ہوسکتی ہے۔ اسی طرح طویل یا پیچیدہ مینو بھی ان کے لیے فیصلہ کرنا مشکل بنا سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مینو میں سادہ الفاظ اور تصاویر شامل کرکے انتخاب کا عمل آسان بنایا جاسکتا ہے، جس سے مریض خود اپنی پسند کا کھانا منتخب کرنے میں زیادہ خودمختار رہ سکتے ہیں۔
کاروباری افراد کی تربیت
منصوبے کے تحت مقامی کاروباری اداروں اور دیگر سروس فراہم کرنے والوں کو تربیت دی جائے گی تاکہ وہ ڈیمنشیا کی علامات اور اس سے پیدا ہونے والی مشکلات کو پہچان سکیں۔
مقصد یہ ہے کہ کسی شخص کے رویے کو محض غیر معمولی یا پریشان کن سمجھنے کے بجائے یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ ممکنہ طور پر وہ کس مشکل کا سامنا کررہا ہے۔
مستقبل میں منصوبے کو مزید وسیع کرتے ہوئے قصبے میں واضح سائن بورڈز اور ایسے عوامی مقامات بنانے کی کوشش بھی کی جائے گی جن میں ڈیمنشیا کے مریض آسانی سے راستہ تلاش کرسکیں۔
مقامی کاروبار بھی شریک
بروم لیک کے بعض مقامی کاروباری اداروں نے پہلے ہی اس اقدام کی حمایت شروع کردی ہمقامی خاتون جینیفر بروڈر کا کہنا ہے کہ وہ اس منصوبے کی حمایت اس لیے کرتی ہیں کیونکہ اگر کبھی انہیں خود ڈیمنشیا کا سامنا کرنا پڑے تو وہ بھی چاہیں گی کہ انہیں معاشرے کے ایک فعال اور باعزت فرد کے طور پر دیکھا جائے۔
تشخیص کے بعد زندگی ختم نہیں ہوتی
ماہرین کے مطابق ڈیمنشیا کی تشخیص بعض افراد کے لیے سماجی تنہائی کا باعث بن سکتی ہے۔ کچھ لوگ اپنے خاندان یا دوستوں کو بیماری کے بارے میں بتانے سے بھی ہچکچاتے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ لوگ ان کے ساتھ مختلف رویہ اختیار کریں گے۔
بروئیلیٹ کے مطابق ڈیمنشیا کی تشخیص کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کو معاشرتی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہوجانا چاہیے۔ مناسب مدد اور سمجھ بوجھ کے ساتھ ایسے افراد اپنی کمیونٹی میں فعال کردار ادا کرسکتے ہیں۔
بڑھتی آبادی بڑا چیلنج
یہ منصوبہ ایسے وقت میں شروع کیا گیا ہے جب کینیڈا میں عمر رسیدہ آبادی بڑھ رہی ہے اور ڈیمنشیا کے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔
Alzheimer Society of Canada کے اندازے کے مطابق ملک میں تقریباً 8 لاکھ افراد ڈیمنشیا کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ 2030 تک یہ تعداد 10 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔
دوسرے شہر بھی سرگرم
کینیڈا کے دیگر شہروں میں بھی ڈیمنشیا دوست ماحول بنانے کے لیے اقدامات کیے جاچکے ہیں۔ کیلگری اور اونٹاریو کے واٹرلو سمیت مختلف کمیونٹیز نے اس حوالے سے پروگرام شروع کیے ہیں۔
برووم لیک منصوبے کے منتظمین کی امید ہے کہ اگر یہ پائلٹ منصوبہ کامیاب رہا تو اس کے ماڈل کو کیوبیک کے دیگر علاقوں میں بھی نافذ کیا جاسکتا ہے۔
باعزت زندگی کا حق
پالین کوئنلن کے مطابق ایک ایسی کمیونٹی جہاں لوگ ڈیمنشیا کے بارے میں زیادہ جانتے ہوں اور ضرورت پڑنے پر متاثرہ افراد کی مدد کے لیے تیار ہوں، عمر رسیدہ آبادی کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگی۔
ان کے خیال میں آنے والے برسوں میں اس نوعیت کی کمیونٹیز کی ضرورت مزید بڑھے گی، جہاں ڈیمنشیا میں مبتلا افراد خوف یا تنہائی کے بجائے سمجھ بوجھ، احترام اور تعاون کے ساتھ اپنی روزمرہ زندگی جاری رکھ سکیں۔
