اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی نرسری میں پیش آنے والی ہولناک آتشزدگی میں جاں بحق ہونے والے 14 نومولود بچوں کو سپرد خاک کردیا گیا۔ معصوم بچوں کی المناک موت نے 14 خاندانوں کی خوشیاں ماتم میں بدل دیں، جبکہ متاثرہ گھروں میں ہر طرف سوگ اور غم کی فضا ہے۔
پمز ہسپتال کی نرسری میں حادثے کے وقت 15 نومولود بچے موجود تھے، تاہم ایک بچے کو اس کی خالہ نے بروقت نرسری سے نکال کر بچا لیا۔
والدین غم سے نڈھال
سانحے کے بعد جاں بحق بچوں کے والدین اپنے لخت جگر کی جدائی پر شدید صدمے سے دوچار ہیں۔ راولپنڈی میں ایک بچی کے والدین نے غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چاہے لاکھوں انکوائریاں ہوجائیں اور ذمہ داروں کو سزائیں بھی مل جائیں، ان کے آنگن کا پھول دوبارہ نہیں کھل سکتا۔
ایک بچے کی والدہ نے آبدیدہ ہوکر کہا کہ چار سال کے انتظار کے بعد ان کے آنگن میں خوشی آئی تھی، لیکن ان کا منو چند ہی دن بعد مٹی تلے چلا گیا۔
والدین کا سوال
ایک بچے کے والد نے سرکاری ہسپتالوں میں بہتر انتظامات کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ کسی سے شکوہ نہیں کرنا چاہتے اور اللہ کی رضا پر سر تسلیم خم کردیا ہے، تاہم ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات بہتر بنانا ضروری ہے۔
شمس آباد راولپنڈی کے رہائشی ایک متاثرہ والد نے گفتگو کرتے ہوئے ہسپتال کے انتظامات پر سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ منتوں اور مرادوں کے بعد بیٹی نصیب ہوئی، لیکن صرف تین دن بعد ہی وہ دنیا سے رخصت ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ غم کا پہاڑ ہے جو کاٹے نہیں کٹ رہا۔
ہسپتال کی سہولیات پر سوالات
متاثرہ بچی کے والد کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی آبادی کے لیے ہسپتال بہت چھوٹا ہے، جبکہ سہولیات تو درکنار، مریضوں کو مناسب علاج بھی نہیں ملتا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اربوں روپے خرچ کرتی ہے لیکن یہ رقم کہاں جاتی ہے، اس کا جواب ملنا چاہیے۔ انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ عوام پر رحم کیا جائے اور سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات، طبی آلات اور حفاظتی انتظامات یقینی بنائے جائیں۔
اقوام متحدہ کا اظہار افسوس
اقوام متحدہ نے بھی پمز ہسپتال میں پیش آنے والے افسوسناک سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے جاں بحق نومولود بچوں کے والدین سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ بچوں کی ہلاکت والدین کے لیے ناقابل تصور دکھ ہے۔
اقوام متحدہ نے کہا کہ وہ اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور پاکستانی حکومت کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
سعودی عرب کی تعزیت
سعودی وزارت خارجہ نے پمز ہسپتال میں پیش آنے والی المناک آتشزدگی میں جاں بحق نومولود بچوں کے اہل خانہ، حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام سے گہری تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔۔
یہ بھی پڑھیں :پمز اسپتال میں آتشزدگی،چار سال کے بعد اللہ نے مجھے بیٹے سے نوازا معصوم بچوں کی ہلاکت پر کئی سوالات
سعودی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب اس المناک واقعے کے بعد متاثرہ خاندانوں اور پاکستان کی حکومت و عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
بیان میں پاکستان اور اس کے عوام کے لیے سلامتی اور تحفظ کی خواہش کا بھی اظہار کیا گیا۔
ایران بھی غم میں شریک
ایران نے بھی پمز ہسپتال میں پیش آنے والے سانحے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔
یوں اقوام متحدہ، سعودی عرب اور ایران سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے اس المناک واقعے پر متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کیا گیا ہے۔
آگ کیسے لگی؟
دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ میں آتشزدگی کی ممکنہ وجہ بھی سامنے آگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ، این آئی سی یو میں ایک انکوبیٹر کے ساتھ نصب آکسیجن کی مقدار بتانے والا نیبولائزر پھٹ گیا، جس کے بعد آکسیجن نے آگ پکڑ لی۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کے بعد نرسری میں شدید دھواں بھر گیا، جو پائپ کے ذریعے بچوں کے سانس کے نظام تک پہنچا۔
آکسیجن بند ہونے سے اموات
ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کی اموات آکسیجن کی فراہمی متاثر ہونے اور جھلسنے کے باعث ہوئیں۔ واقعے کے بعد ہسپتال کے حفاظتی اور طبی انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔
سانحے کی مکمل وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گا۔
ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ
14 نومولود بچوں کی تدفین کے بعد متاثرہ خاندانوں کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور غفلت یا کوتاہی ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
والدین کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں کی واپسی ممکن نہیں، تاہم اگر اس سانحے سے سبق سیکھ کر ہسپتالوں کے حفاظتی انتظامات بہتر بنائے جائیں تو مستقبل میں دیگر خاندانوں کو ایسے ناقابل برداشت صدمے سے بچایا جاسکتا ہے۔
پمز نرسری کا یہ سانحہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک گہرا صدمہ بن گیا ہے، جہاں چند روز قبل آنے والی ننھی زندگیوں کی خوشیاں اب ہمیشہ کے لیے سوگ میں بدل چکی ہیں۔
