اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)دنیا کے مختلف ممالک میں منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ کینیڈا میں حالیہ آپریشن نے ایک بار پھر سرحد پار جرائم، منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی نیٹ ورکس کے پھیلاؤ کے معاملے کو نمایاں کر دیا ہے۔
بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق کینیڈین حکام نے سرحد پار اسمگلنگ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے متعدد بھارتی نژاد ٹرک ڈرائیوروں کو گرفتار کیا۔ حکام کے مطابق کارروائی کے دوران گرفتار افراد سے 139 ملین ڈالر مالیت کی تقریباً 1.7 ٹن غیر قانونی منشیات برآمد کی گئیں۔
کینیڈا میں بڑا اسمگلنگ نیٹ ورک بے نقاب
رپورٹس کے مطابق کینیڈین اداروں کی تحقیقات میں ایک ایسے مبینہ نیٹ ورک کا انکشاف ہوا جو کمرشل ٹرانسپورٹ کے ذریعے غیر قانونی سامان کی ترسیل میں ملوث تھا۔
تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ بعض افراد مبینہ طور پر ٹرکنگ کے شعبے سے وابستہ تھے اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے تجارتی راستوں کو منشیات کی منتقلی کے لیے استعمال کیا۔
یہ بھی پڑھیں :ہردیپ سنگھ نجر قتل کیس، امریکی کارروائی میں 24 ملزمان گرفتار، کینیڈا سے بھی تین گرفتاریاں
کینیڈین حکام کے مطابق منظم جرائم کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور ایسے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے جدید طریقہ کار استعمال کر رہے ہیں۔
عالمی سطح پر منظم جرائم کا پھیلاؤ
ماہرین کے مطابق آج کے دور میں جرائم پیشہ گروہ صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہے بلکہ بین الاقوامی روابط، جدید ٹیکنالوجی اور تجارتی راستوں کو استعمال کرتے ہوئے مختلف ممالک میں اپنی سرگرمیاں پھیلا رہے ہیں۔
منشیات کی اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ، مالی جرائم اور دیگر غیر قانونی سرگرمیاں کئی ممالک کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہیں، جس کے باعث عالمی تعاون کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
کینیڈین ماہرین کی تشویش
کینیڈین سیکیورٹی ماہر ویڈ ڈیزمین کے مطابق بعض بھارتی نژاد گروہوں کے جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے گروہ منظم جرائم کے نیٹ ورک کے طور پر کام کرتے ہیں اور ان کی سرگرمیوں کا دائرہ مختلف ممالک تک پھیلا ہوا ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک سے تعلق رکھنے والے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے تاکہ عالمی سطح پر قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
بھارت سے جڑے گروہوں پر سوالات
حالیہ برسوں میں کینیڈا، امریکا، برطانیہ اور دیگر ممالک میں بعض ایسے کیسز سامنے آئے ہیں جن میں بھارتی نژاد افراد پر مختلف جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات لگے۔
ان واقعات کے بعد بھارت سے تعلق رکھنے والے بعض گروہوں کی سرگرمیوں پر عالمی سطح پر نگرانی بڑھ گئی ہے، جبکہ مختلف ممالک اپنی سیکیورٹی پالیسیوں اور انٹیلی جنس تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔
حکومتوں کے لیے بڑا چیلنج
ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سرگرم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے صرف ایک ملک کے اقدامات کافی نہیں ہوتے۔ اس کے لیے مختلف ممالک کے درمیان معلومات کا تبادلہ، مشترکہ تحقیقات اور مضبوط قانونی تعاون ضروری ہے۔
کینیڈا میں ہونے والی حالیہ کارروائی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں حکام نے مبینہ طور پر ایک بڑے اسمگلنگ نیٹ ورک کو نشانہ بنایا۔
عالمی سطح پر سخت اقدامات کی ضرورت
تجزیہ کاروں کے مطابق منظم جرائم کا مسئلہ کسی ایک ملک یا کمیونٹی تک محدود نہیں، بلکہ یہ عالمی نوعیت کا چیلنج ہے۔ حکومتوں کو ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنا ہوگی جو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
کینیڈا میں ہونے والی حالیہ کارروائی نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ سرحد پار جرائم سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مؤثر حکمت عملی، بہتر نگرانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔