اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایران نے اپنی فضائی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے چین سے سیکڑوں جدید دفاعی میزائل نظام حاصل کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے۔ برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق تہران نے چین سے 300 سے 400 تک مین پیڈ ایئر ڈیفنس سسٹمز خریدنے کا معاہدہ کیا ہے، جس کا مقصد اپنی فضائی حدود کے دفاع کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اس ممکنہ معاہدے کی مالیت تقریباً 60 سے 70 ملین ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کو آنے والے ہفتوں میں چینی ساختہ کیو ڈبلیو 12 (QW-12) اور ایف این 16 (FN-16) طرز کے میزائلوں کی پہلی کھیپ موصول ہونے کا امکان ہے۔
فضائی دفاع مضبوط بنانے کی کوشش
رپورٹ کے مطابق ایران حالیہ علاقائی کشیدگی اور مختلف فوجی حملوں کے بعد اپنی فضائی دفاعی صلاحیت کو دوبارہ مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تہران طویل عرصے سے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے پر توجہ دے رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ فضائی خطرے کا مقابلہ کیا جا سکے۔
مین پیڈ ایئر ڈیفنس سسٹمز عام طور پر زمین سے فضا میں مار کرنے والے مختصر فاصلے کے میزائل ہوتے ہیں، جنہیں فوجی اہلکار کندھے پر رکھ کر استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ نظام کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور بعض دیگر فضائی اہداف کے خلاف استعمال کیے جاتے ہیں۔
چین کے ساتھ دفاعی تعلقات
ایران اور چین کے درمیان گزشتہ کئی برسوں سے اقتصادی، سفارتی اور دفاعی روابط موجود ہیں۔ دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھایا ہے، جبکہ ایران مغربی پابندیوں کے باعث اپنے دفاعی شراکت داروں کو متنوع بنانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ حقیقت میں مکمل ہوتا ہے تو اس سے ایران کے مختصر فاصلے کے فضائی دفاعی نظام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔
علاقائی کشیدگی کا اثر
مشرق وسطیٰ میں گزشتہ عرصے کے دوران بڑھتی ہوئی کشیدگی نے کئی ممالک کو اپنی دفاعی صلاحیتوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ ایران ماضی میں بھی اپنے میزائل پروگرام اور دفاعی نظام کو اپنی قومی سلامتی کا اہم حصہ قرار دیتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ایران جنگ میں امریکی فوج کا بڑا نقصان، ہلاک اور زخمی اہلکاروں کی تعداد میں اچانک اضافہ،نئے اعدادو شمار آگئے
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کی فضائی دفاعی صلاحیت میں اضافہ نہ صرف اس کی اپنی سیکیورٹی حکمت عملی کا حصہ ہوتا ہے بلکہ اس کے علاقائی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
رپورٹ پر چین کا ردعمل
دوسری جانب چینی وزارت خارجہ نے رائٹرز کی رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ چین ہمیشہ امن کے فروغ، مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتا ہے۔
چینی حکام کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین عالمی سطح پر ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے اور خطے میں استحکام کے لیے کوششوں کا حامی ہے۔
معاہدے کی تصدیق نہیں ہو سکی
اگرچہ رائٹرز نے ذرائع کی بنیاد پر ایران اور چین کے درمیان اس مبینہ معاہدے کی تفصیلات جاری کی ہیں، تاہم ایران یا چین کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ طور پر مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔
رپورٹ کے مطابق اگر یہ دفاعی تعاون آگے بڑھتا ہے تو یہ ایران کی فضائی دفاعی حکمت عملی میں اہم اضافہ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب عالمی سطح پر اس پیش رفت کو خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
ایران کی جانب سے نئے دفاعی نظام کے حصول کی کوششیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ تہران اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جبکہ چین کے ساتھ بڑھتا تعاون عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔