اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے سادہ اکثریت حاصل کرلی ہے اور وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پہلے اور دوسرے مرحلے میں ہونے والی 20 نشستوں میں سے مسلم لیگ (ن) نے 13 نشستیں جیتی ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 45 رکنی اسمبلی میں اب تک 23 نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے حکومت سازی کے لیے مطلوبہ پوزیشن حاصل کرلی ہے۔
مہاجرین نشستوں پر بھی برتری
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی 12 نشستوں میں سے 10 پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مظفر آباد ڈویژن کی 7 نشستوں میں سے مسلم لیگ (ن) نے 4 جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 3 نشستیں حاصل کیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام نے مسلم لیگ (ن) کی پالیسیوں اور قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور پارٹی آزاد کشمیر میں مضبوط جمہوری حکومت قائم کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
پیپلز پارٹی کے الزامات پر ردعمل
رانا ثناء اللہ نے پیپلز پارٹی کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی انتخابات پر سوالات اٹھا رہی ہے تو اسے اپنی کامیابیوں کی بھی وضاحت کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں :آزاد کشمیر انتخابات،دوسرے مرحلے میں ن لیگ نے میدان مار لیا، 13 نشستوں پر کامیابی، پیپلز پارٹی 5 سیٹوں تک محدود
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں مجموعی طور پر آزادانہ، شفاف اور منصفانہ انتخابات ہوئے اور عوام نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے۔
رانا ثناء اللہ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کامیاب امیدواروں کو مبارکباد دی ہے۔
مظفر آباد واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ
وزیراعظم کے مشیر نے مظفر آباد سٹی میں پیش آنے والے واقعات پر الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کا اعلان کیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض علاقوں میں خوف و ہراس کی صورتحال پیدا کی گئی جس کے باعث ووٹرز گھروں تک محدود رہے اور مسلم لیگ (ن) کے ہزاروں ووٹ متاثر ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ ایل اے 31 میں پولنگ کے عمل کو متاثر کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے گئے۔
حملے کے دعوے پر سوالات
رانا ثناء اللہ نے پیپلز پارٹی رہنما لطیف اکبر پر مبینہ حملے کے دعووں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے نہ کوئی میڈیکل رپورٹ سامنے آئی اور نہ ہی کوئی واضح ثبوت پیش کیا گیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا، جبکہ ان کی جماعت کی جانب سے کسی قسم کی فائرنگ نہیں کی گئی۔
امیر مقام کا اظہار اطمینان
وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ آزاد کشمیر میں پرامن انتخابات ریاستی اداروں، انتظامیہ، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی کامیابی پارٹی قیادت، کارکنوں اور مؤثر ٹیم ورک کا ثمر ہے۔امیر مقام کے مطابق نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز کی قیادت اور کارکردگی نے بھی انتخابی نتائج پر اثر ڈالا۔
عوام نے کارکردگی کو ووٹ دیا، امیر مقام
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام نے کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں اور مستقبل کے وژن کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کیا۔انہوں نے کہا کہ بارش اور دیگر مشکلات کے باوجود ووٹرز نے بڑی تعداد میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، جبکہ ٹرن آؤٹ کم ہونے کا تاثر درست نہیں۔
پارلیمانی سیاست پر زور
امیر مقام نے اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا کہ وہ احتجاج اور الزامات کے بجائے پارلیمانی سیاست کے ذریعے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دیں۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ کے مطابق ایک مضبوط جمہوری حکومت قائم ہوگی اور پاکستان کی جانب سے آزاد کشمیر اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تعاون جاری رکھا جائے گا۔