پاکستان کی معیشت کے لیے اچھی خبر، عالمی ریٹنگ بہتر، برآمدات بڑھانے کا بڑا منصوبہ تیار

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث خطے میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان کی معیشت کے حوالے سے مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔عالمی ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو منفی بی (B-) سے بڑھا کر بی (B) کردیا ہے جبکہ آؤٹ لک کو مستحکم قرار دیا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق یہ بہتری عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے تعاون سے جاری اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط، بیرونی ادائیگیوں میں بہتری اور زرمبادلہ ذخائر میں اضافے کا نتیجہ ہے۔

ریٹنگ میں بہتری کا مطلب

کریڈٹ ریٹنگ میں اضافہ کسی بھی ملک کی معیشت پر عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان کی ریٹنگ بہتر ہونے سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں ملک کے لیے اعتماد میں اضافہ ہوسکتا ہے اور مستقبل میں بیرونی سرمایہ کاری کے امکانات بھی بہتر ہوسکتے ہیں۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ریٹنگ میں بہتری کافی نہیں، بلکہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر مضبوط بنانے کے لیے طویل المدتی اصلاحات ضروری ہیں۔

برآمدات کے لیے اربوں روپے کا پیکیج

حکومت نے برآمدات کے فروغ کے لیے مالی سال 2027 میں تقریباً 98 ارب روپے کے تین بڑے مراعاتی منصوبوں کی منظوری دی ہے۔مجموعی طور پر برآمدی شعبے کے لیے تیار کیے گئے پیکیج کی مالیت 255 ارب روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔حکومت کا مقصد صنعتی پیداوار میں اضافہ، نئی منڈیوں تک رسائی اور ملک کے لیے مستقل زرمبادلہ کے ذرائع پیدا کرنا ہے۔

برآمد کنندگان کے لیے سستی فنانسنگ

اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے فیصلے کے مطابق ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت برآمد کنندگان کو ورکنگ کیپیٹل قرضے فراہم کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستان کی برآمدات میں تاریخی اضافہ متوقع، آئندہ مالی سال میں نئی بلند ترین سطح کا امکان

اس اسکیم کے تحت چھ ماہ کے لیے 8.5 فیصد مقررہ شرح سود پر قرضے دیے جائیں گے، جس پر حکومت مالی سال 2027 میں تقریباً 58 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کرے گی۔حکام کے مطابق اس اقدام سے برآمدی صنعتوں کو مالی مشکلات کم کرنے اور پیداوار بڑھانے میں مدد ملے گی۔

صنعتی ترقی کے لیے طویل مدتی قرضے

حکومت نے لانگ ٹرم ایکسپورٹ گروتھ فنانسنگ فیسلٹی کے تحت نئے صنعتی منصوبوں اور جدید مشینری کی خریداری کے لیے 350 ارب روپے تک کے قرضوں کا منصوبہ بھی تیار کیا ہے۔

اس سہولت کے تحت قرض لینے والوں سے ابتدائی دو سال کے لیے صرف 2 فیصد جبکہ اگلے آٹھ سال کے لیے 5 فیصد شرح سود وصول کی جائے گی۔باقی سود حکومت برداشت کرے گی تاکہ صنعتکاروں کو سرمایہ کاری میں آسانی ہو۔

زیادہ برآمدات پر اضافی مراعات

حکومت نے برآمدات میں اضافہ کرنے والی کمپنیوں کے لیے اضافی ترغیبات کا اعلان بھی کیا ہے۔گزشتہ سال کے مقابلے میں 10 فیصد تک اضافی برآمدات کرنے والوں کو اضافی برآمدی مالیت کا ایک فیصد جبکہ 10 فیصد سے زیادہ اضافہ کرنے والوں کو دو فیصد تک مراعات دی جائیں گی۔اس اسکیم پر سالانہ تقریباً 15 ارب روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

آئی ایم ایف انحصار کم کرنے کا ہدف

ماہرین کے مطابق حکومت نے ترسیلات زر سے متعلق بعض مراعات ختم کرکے وسائل کو برآمدی شعبے کی طرف منتقل کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ پالیسی کامیاب رہی تو صنعتی پیداوار، روزگار کے مواقع، ٹیکس وصولیوں اور مستقل زرمبادلہ آمدن میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

تاہم رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت اب بھی آئی ایم ایف پروگرام، چین اور سعودی عرب کی مالی معاونت پر انحصار کرتی ہے۔

اصل امتحان برآمد کنندگان کا

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے برآمدی شعبے کو سستی مالی سہولتیں، ٹیکس ریلیف اور دیگر مراعات فراہم کردی ہیں، اب اصل ذمہ داری برآمد کنندگان پر عائد ہوتی ہے۔

ان کے مطابق پاکستان کو نئی عالمی منڈیوں تک رسائی، مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن، معیار میں بہتری اور برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات میں مستقل اضافہ ہوتا ہے تو پاکستان مستقبل میں آئی ایم ایف پروگرامز اور بیرونی مالی امداد پر انحصار کم کرسکتا ہے اور اپنی معیشت کو زیادہ مضبوط بنیادوں پر استوار کرسکتا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں