ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی فی الحال نہیں، امریکا معاملہ کم شدت سے آگے بڑھا رہا ہے، ٹرمپ

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے معاملے کو فی الحال کم شدت کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے اور واشنگٹن تہران کے خلاف کسی نئے بڑے فوجی آپریشن کی جانب فوری طور پر نہیں جارہا۔

امریکی صدر نے یہ بیان امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دیا، جس میں انہوں نے ایران کی موجودہ معاشی صورتحال، امریکی دباؤ، دونوں ممالک کے درمیان رابطوں اور مستقبل میں ممکنہ اقدامات کے بارے میں گفتگو کی۔

ایران سے ’نیم مذاکرات‘

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مکمل اور باقاعدہ مذاکرات نہیں ہورہے بلکہ دونوں فریق اس وقت صرف "نیم مذاکرات” کی صورتحال میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن تہران کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ایران کے ساتھ جاری معاملے کو ختم شدہ نہیں سمجھا جارہا۔ٹرمپ کے مطابق امریکا اس وقت صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور آنے والے حالات کو دیکھتے ہوئے مزید فیصلے کیے جائیں گے۔

ایران کی معاشی مشکلات

امریکی صدر نے ایران کی معیشت کو شدید مشکلات کا شکار قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ملک میں مہنگائی بہت زیادہ ہے اور حکومت کے پاس مالی وسائل کی کمی ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس اپنی فوج کے اہلکاروں کو تنخواہیں ادا کرنے کے لیے بھی مطلوبہ رقم موجود نہیں۔ ان کے مطابق امریکی دباؤ نے ایران کی پہلے سے مشکلات کا شکار معیشت پر مزید اثر ڈالا ہے۔تاہم ایرانی حکومت کی جانب سے ٹرمپ کے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

معاشی دباؤ برقرار رہے گا

امریکی صدر نے واضح کیا کہ واشنگٹن ایران پر اقتصادی دباؤ کم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ٹرمپ کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی نے ایران کے معاشی بحران کو مزید سنگین کیا ہے، تاہم امریکا فی الحال اس دباؤ کو معاشی محاذ تک محدود رکھتے ہوئے حالات کا جائزہ لے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا ایران پر دباؤ بڑھنے دے گا اور فی الحال کسی نئی بڑی فوجی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔

جنگ کا خطرہ برقرار

اگرچہ ٹرمپ نے فوری طور پر نئی فوجی کارروائی کی دھمکی نہیں دی، تاہم ان کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی میں سختی برقرار ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا اور دونوں ممالک اس وقت ایک ایسے مرحلے میں ہیں جہاں آئندہ کے اقدامات کا فیصلہ حالات کو دیکھ کر کیا جائے گا۔انہوں نے موجودہ صورتحال کو شطرنج کے کھیل سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ بالآخر سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔

’کھیل ابھی جاری ہے‘

ٹرمپ نے ایران کے ساتھ موجودہ کشیدگی کے بارے میں کہا کہ معاملہ ابھی اختتام پذیر نہیں ہوا بلکہ امریکا اور ایران "کھیل کے درمیان” میں ہیں۔ان کے مطابق واشنگٹن کے پاس مختلف راستے موجود ہیں اور امریکا حالات کی نگرانی کرتے ہوئے مناسب وقت پر فیصلہ کرے گا۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس وقت بنیادی توجہ ایران پر اقتصادی دباؤ برقرار رکھنے اور تہران کی صورتحال پر نظر رکھنے پر ہے۔

تیل کی قیمت کا اثر

امریکی صدر نے تیل کی قیمتوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ خام تیل کی قیمت 75 ڈالر سے کچھ زیادہ ہونے کی وجہ سے امریکی صارفین پر جنگ کے معاشی اثرات کا دباؤ نسبتاً کم ہے۔

ان کے مطابق تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ نہ ہونے کی صورت میں امریکی عوام پر جنگ کے اخراجات اور توانائی کی قیمتوں کا براہ راست دباؤ محدود رہتا ہے۔

ایران کے لیے مشکل وقت

ٹرمپ نے ایران کو شدید اقتصادی مشکلات میں گھرا ہوا ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی پابندیوں اور دیگر اقدامات نے تہران کے لیے مالی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔

تاہم ایران کی جانب سے امریکی دباؤ کے باوجود اپنی پالیسیوں پر قائم رہنے کے اعلانات سامنے آتے رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بنیادی طور پر ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور سلامتی کے معاملات سمیت کئی اہم امور پر ہیں۔

آئندہ صورتحال اہم

امریکی صدر کے تازہ بیان کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں فوری طور پر کسی بڑے فوجی تصادم کا امکان ٹلتا دکھائی دے رہا ہے، تاہم صورتحال مکمل طور پر معمول پر آنے کے آثار بھی واضح نہیں۔

ٹرمپ نے ایک طرف نئی فوجی کارروائی سے گریز کا اشارہ دیا ہے تو دوسری جانب ایران پر اقتصادی دباؤ برقرار رکھنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

اس صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان محدود رابطے اور غیر رسمی مذاکرات آئندہ پالیسی کے لیے اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری کشیدگی میں اگلا قدم کیا ہوگا، اس کا انحصار آنے والے دنوں میں مذاکرات، معاشی حالات اور خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر ہوگا۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں