امریکی فوج کے ایران پر مسلسل بارہویں رات شدید فضائی حملے،مختلف شہروں میں دھماکے

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز  ) امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی فوج نے ایران پر مسلسل بارہویں رات بھی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا،

  ایرانی میڈیا کے مطابق جنوبی شہر بوشہر اور جنوب مغربی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ان حملوں کے بعد کئی علاقوں میں فضائی دفاعی نظام متحرک کر دیا گیا جبکہ سکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا۔

امریکی فوج کی جانب سے حالیہ کارروائیاں ایک ایسے وقت میں جاری ہیں جب خلیجی خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور بین الاقوامی برادری مسلسل تحمل اور سفارتی مذاکرات پر زور دے رہی ہے۔

بوشہر اور اہواز میں دھماکوں کی اطلاعات

ایرانی میڈیا کے مطابق بارہویں رات ہونے والے حملوں کے دوران بوشہر اور اہواز کے مختلف علاقوں میں زور دار دھماکے سنے گئے۔ بوشہر میں ایران کے اہم فوجی اور بحری مراکز موجود ہیں جبکہ اہواز بھی عسکری اعتبار سے اہم شہر تصور کیا جاتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق دھماکوں کے فوراً بعد فضائی دفاعی نظام فعال ہو گیا اور کئی مقامات پر سائرن بجنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ مقامی حکام نے شہریوں سے غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی اپیل کی، تاہم فوری طور پر جانی یا مالی نقصان کی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

سینٹکام کا مؤقف

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کارروائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حملوں کا مقصد ایران کی ان عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے جو خطے میں بین الاقوامی جہاز رانی اور تجارتی بحری راستوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

سینٹکام نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ "یہ کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ علاقائی سمندری راستوں سے گزرنے والے شہری اور تجارتی جہازوں کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کیا جا سکے۔”

بیان کے مطابق امریکی افواج ایرانی ساحلی نگرانی کے نظام، میزائل تنصیبات، فضائی دفاعی نظام، ڈرون مراکز اور دیگر فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں تاکہ خطے میں بحری آمدورفت کو محفوظ بنایا جا سکے۔

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار

دونوں ممالک کے درمیان کئی روز سے جاری فوجی کارروائیوں نے خطے کی صورتحال کو انتہائی حساس بنا دیا ہے۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران کی بعض عسکری سرگرمیاں آبنائے ہرمز اور دیگر اہم بحری راستوں میں بین الاقوامی تجارت کے لیے خطرہ بن رہی ہیں، جبکہ ایران ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلسل فضائی حملوں کے باعث دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تصادم کے امکانات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔

عالمی توانائی منڈیوں پر اثرات

خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں میں بھی بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوجی کارروائیاں مزید پھیلتی ہیں یا سمندری راستوں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر مرتب ہوں گے۔

عالمی برادری کی تشویش

اقوام متحدہ اور مختلف عالمی طاقتیں پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔ کئی ممالک نے دونوں فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازع کے حل کے لیے سفارتی ذرائع اختیار کریں تاکہ خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ کے خدشات کو روکا جا سکے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ، عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی سلامتی بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے آنے والے دن خطے کی مجموعی صورتحال کے لیے انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں