اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران کے ساتھ جاری فوجی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں امریکی ایوانِ نمائندگان نے 1.15 ٹریلین ڈالر مالیت کا دفاعی بجٹ منظور کر لیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق بل کو 212 کے مقابلے میں 216 ووٹوں سے منظور کیا گیا، جس کے بعد اسے قانون سازی کے آئندہ مراحل کے لیے بھیج دیا گیا۔
منظور کیے گئے دفاعی بجٹ میں امریکی فوج کی جدید کاری، عسکری صلاحیتوں میں اضافے، ہتھیاروں کی تیاری، عالمی فوجی آپریشنز اور اتحادی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کو وسعت دینے کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ بجٹ میں خاص طور پر اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق شق بھی شامل کی گئی ہے جسے موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ری پبلکنز کی اکثریت نے بل کی حمایت کی
امریکی میڈیا کے مطابق دفاعی بجٹ کے حق میں ری پبلکن جماعت کی اکثریت نے ووٹ دیا جبکہ چھ ڈیموکریٹ ارکان نے بھی بل کی حمایت کی۔ بل کی منظوری کے بعد وزیرِ دفاع کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ پینٹاگون کے لیے ایک ایگزیکٹیو ایجنٹ نامزد کریں جو مختلف دفاعی منصوبوں، جدید فوجی ٹیکنالوجی اور اتحادی ممالک کے ساتھ مشترکہ دفاعی پروگراموں کی نگرانی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط، معاہدہ فوری نافذ العمل ہوگا
قانون سازوں کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی حالات کے پیش نظر امریکی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ ملک کو درپیش بیرونی خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون پر اختلافات بھی سامنے آگئے
اگرچہ بل کو مجموعی طور پر اکثریت کی حمایت حاصل رہی تاہم بعض ارکان نے اس میں شامل اسرائیل سے دفاعی تعاون کی شق پر تحفظات کا اظہار کیا۔
ری پبلکن رکنِ کانگریس تھامس میسی نے کہا کہ امریکی فوجی ٹیکنالوجی اور دفاعی سپلائی چین کو اسرائیل کے ساتھ اس حد تک ضم نہیں ہونا چاہیے کہ امریکا اپنی دفاعی خودمختاری پر سمجھوتہ کرے۔ ان کے مطابق امریکا کو اپنے قومی مفادات کو اولین ترجیح دینی چاہیے اور دفاعی فیصلے اسی بنیاد پر کیے جانے چاہییں۔
ایران کے ساتھ جنگ پر اربوں ڈالر خرچ ہونے کا انکشاف
دوسری جانب امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے سینیٹ کی فنڈز مختص کرنے والی کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر بتایا کہ ایران کے ساتھ جاری فوجی کارروائیوں پر اب تک 37.5 ارب ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق اس رقم میں 30 ستمبر تک متوقع اخراجات بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی افواج اس وقت متعدد محاذوں پر اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں جس کے باعث اضافی وسائل اور مالی معاونت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے مزید 87 ارب ڈالر مانگ لیے
واضح رہے کہ گزشتہ روز ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازع اور جاری فوجی کارروائیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کانگریس سے تقریباً 87 ارب ڈالر کے اضافی فنڈز کی درخواست بھی کی تھی۔
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات، اتحادی ممالک کے دفاع اور خطے میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے اضافی وسائل ناگزیر ہیں جبکہ نئی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بجٹ میں مزید اضافہ کرنا ہوگا۔
وزیرِ دفاع کا دفاعی اخراجات بڑھانے پر زور
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں دفاعی اخراجات میں کمی کا کوئی جواز نہیں بنتا بلکہ یہ وقت امریکی فوجیوں، جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور قومی سلامتی پر مزید سرمایہ کاری کا ہے۔
مزید پڑھیں
ایران پر امریکی حملوں کے اثرات، عالمی منڈی میں خام تیل 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پینٹاگون کو مطلوبہ فنڈنگ فراہم نہ کی گئی تو امریکا کی دفاعی تیاری اور عالمی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کو مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے مکمل وسائل اور جدید عسکری صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔